🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

13. بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ بِالْعُمْرَةِ
حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 802
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، وَالْقَاسِمِ مِثْلَ حَدِيثِ سُفْيَانَ لَا يُخَالِفُ مَعْنَاهُ.
ایک دوسری سند سے عمرہ اور قاسم دونوں سے سفیان رحمہ اللہ کی سند جیسی بغیر معنی کی مخالفت کے یہی حدیث مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري الحج، باب ذبح الرجل البقر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 803
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ حُجَيْرَةَ، سَمِعُوا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يُسَمِّي [ ص: 190 ] حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي، وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ دُونَ مَحِلِّ هَدْيِي"، فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:"بَلْ لِلْأَبَدِ"، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ: وَدَخَلَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بِمَ أَهْلَلْتَ"؟ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا عَنْ طَاوُسٍ: إِهْلَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  
طاؤوس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج یا عمرہ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ آپ وحی کا انتظار فرما رہے تھے۔ جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان تھے تو اس وقت وحی نازل ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کرام کو حکم دیا جنہوں نے احرام (حج کا) باندھا ہوا تھا اور ان کے پاس قربانی نہ تھی کہ وہ اس کو عمرہ بنا لیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے معلوم ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا۔ لیکن میں نے سر کے بال چپکا لیے اور قربانی ہانک لایا ہوں۔ اب میں قربانی کیے بغیر حلال نہیں ہو سکتا۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے ایک ایسی قوم کا فیصلہ کریں گویا جو آج ہی پیدا ہوئی، کیا ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اب عمرہ (ایام) حج میں قیامت کے دن تک کے لیے داخل ہو گیا ہے۔ طاؤوس نے کہا (مکہ میں) علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ میسرہ اور ہشام بن حجیرہ میں سے ایک نے طاؤوس سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کا (یعنی جس نیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے) اور دوسرے نے کہا کہ میں حاضر ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے ساتھ۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 6/5 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2683).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 804
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فَتَدَارَكَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ لَا نَعْرِفُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَهُ خَرَجْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُنَزَّلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ:"مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً"  .
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج نہیں کیا، پھر (دسویں سال) لوگوں میں حج کے لیے منادی کرائی۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کے لیے مدینہ میں آنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج کے لیے) چلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے اور اسی غرض سے نکلے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حقیقت کو خوب جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ کو حکم ہوتا تھا۔ جب ہم مکہ آپہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس قربانی نہیں وہ اس کو عمرہ بنا لے اور اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا اور اس کو عمرہ بنا لیتا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم الحج، باب حجه النبي صلی اللہ علیہ وسلم (1218).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 805
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّهُمَا سَمِعَا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَقَالَ:"لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ إِلَّا عَلَى مَحِلِّ هَدْيِي". فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي:"بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَبَّيْكَ إِهْلَالٌ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةٌ كَحَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  
طاؤوس کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ حج اور عمرہ کا نام نہیں لے رہے تھے بلکہ آپ وحی کے منتظر تھے۔ طاؤوس نے کہا جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگا رہے تھے تو آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ جس نے ان میں سے حج کے لیے احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی نہیں تو وہ اسے عمرہ بنا لے۔ پھر فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا جو بعد میں ہوا تو میں قربانی نہ لاتا لیکن میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور قربانی ساتھ ہانک لایا ہوں، اب میرے لیے قربانی کیے بغیر حلال ہونا درست نہیں ہے۔ پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے بارے میں ایک نئی، آج کے دن جنم لینے والی قوم کی طرح فیصلہ کریں، یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ کے لیے اجازت ہے، عمرہ قیامت تک کے لیے (ایامِ) حج میں داخل ہو گیا ہے۔ اس نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ (مکہ میں) یمن سے داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ نے کس چیز کا احرام باندھا؟ ابن طاووس اور ابراہیم بن میسرہ میں سے ایک نے کہا: میں نے احرام باندھ کر تلبیہ کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح، اور دوسرے نے کہا: میں نے حج کا تلبیہ کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی طرح۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 6/5 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2683).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:"إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ"  . أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّامِنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّامِنُ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کی کیا حالت ہے کہ انہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ سے احرام نہیں کھولا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو چپکایا ہے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈالا ہے، سو میں اس وقت تک احرام نہ کھولوں گا جب تک کہ قربانی ذبح نہ کر لوں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحج، باب التمتع، والقرآن، والإفراد بالحج وفسخ الحج لمن لم يكن معه هدى، رقم: 1566 ـ ومسلم، الحج، باب بيان أن القارة لا يتحلل الا في وقت تحلل الحاج المفرد، رقم: (1329).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ التَّمَتُّعِ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ: أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجِّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى. فَقَالَ سَعْدٌ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَابْنَ أَخِي. فَقَالَ: فَإِنَّ عُمَرَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ.  
محمد بن عبد اللہ بن حارث بن نوفل رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کے لیے آئے، آپس میں حج تمتع کے متعلق باتیں کرتے سنا تو ضحاک نے کہا (حج تمتع) صرف وہی کرے گا جس کو اللہ کی شریعت کا علم نہیں ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے تو نے اچھا نہیں کہا، ضحاک نے کہا بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج تمتع کیا)۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذي، الحج، باب ماجاء في التمتع (823) . وقال ”صحيح“ والنسائي، مناسك الحج، باب التمتع (2735).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: لَأَنْ أَعْتَمِرَ قَبْلَ الْحَجِّ وَأُهْدِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَمِرَ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ.  
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: میں حج سے پہلے عمرہ کروں اور قربانی دوں یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ذی الحجہ میں حج کے بعد عمرہ کروں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: اخرجه البيهقي: 4 / 345 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2704).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ قِيلَ لَهُ، كَيْفَ تَأْمُرُ بِالْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَاللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ [الْبَقَرَةِ: 196] ؟ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَءُونَ إِنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ أَوِ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ؟ قَالُوا: الْوَصِيَّةُ قَبْلَ الدَّيْنِ. قَالَ: فَبِأَيَّتِهِمَا تَبْدَءُونَ، قَالُوا: بِالدَّيْنِ، قَالَ: فَهُوَ ذَلِكَ.  قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي أَنَّ التَّقْدِيمَ جَائِزٌ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا آپ حج سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے متعلق کیا کہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تم کس طرح پڑھتے ہو کہ کیا قرض کی ادائیگی وصیت پر عمل کرنے سے پہلے ہے یا وصیت پر عمل قرض کی ادائیگی سے پہلے ہو گا؟ انہوں نے کہا: وصیت پر عمل قرض کی ادائیگی سے پہلے ہے۔ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے تم کس سے ابتداء کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: قرض سے (یعنی پہلے قرض دیں گے) آپ نے فرمایا: تو یہی ہے وہ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی حج سے پہلے عمرہ کرنا جائز ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «فی اسناده مقال: قال ابن حجر في هشام بن حجير ”صدوق له اوهام“ التقريب: 7288 ـ اخرجه البیهقی (351/4).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ الْقِرَانِ
حج قران کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَجَّ فِي الْفِتْنَةِ فَأَهَلَّ ثُمَّ نَظَرَ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ.  أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فتنہ والے سال حج کا ارادہ کیا، احرام باندھا پھر غور کیا اور فرمایا: حج اور عمرہ تو دونوں ایک ہی ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کو واجب کر لیا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 810]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحج، باب طواف القارن (1639)، (1640) ومسلم، الحج، باب جاز التحلل بالإحصار وجواز القرآن..... الخ (1230).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ جَامِعِ إِهْلَالِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ
حجۃ الوداع کے تلبیہ اور احرام کے جامع احوال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.  أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع والے سال نکلے تو ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے حج کا احرام باندھا، اور ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور ہم میں سے بعض نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کیا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحج /حدیث: 811]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحج، باب كيف تهل الحائض والنفساء (1556) ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الإحرام، وأنه يجوز إفراد الحج... الخ (1211).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں