🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

6. بَابُ الْإِذْنِ لِلنِّسَاءِ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسَاجِدِ
عورتوں کو مسجدوں میں جانے کی اجازت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1207
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا خَرَجْنَ فَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں آنے سے نہ روکو، اور جب وہ (مسجدوں کے لیے) نکلیں تو خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداؤد،الصلاة باب ما جاء فى خروج النساء إلى المسجد (565) - واحمد: 2/ 438، 475، 528 - وصححه ابن خزيمة (1679) وابن الجارود (332) وابن حبان.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، النكاح، باب استئذان المرأة زوجها في الخروج الى المسجد وغيره (5238)، 900 - و مسلم، الصلاة، باب خروج النساء الى المساجد اذا لم يترتب ..... الخ (442).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابٌ فِي النَّفَقَاتِ
نفقات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ: أَنَّ هِنْدَ أُمَّ مُعَاوِيَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ہند رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوسفیان (میرا خاوند) بخیل آدمی ہے۔ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو۔ ہاں اگر میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال سے کچھ لے لوں، کیا مجھ پر اس کا کوئی گناہ تو نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اچھے طریقے سے اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، النفقات، باب نفقة المرأة اذا غاب عنها زوجها ونفقة الولد (5359) ومسلم، الأقضية، باب قضية هند (1714).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1210
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلَّا مَا يُدْخِلُ عَلَيَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے اور میرے پاس وہی خرچہ ہوتا ہے جو وہ مجھے دیتا ہے (جو ناکافی ہے)۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دستور کے موافق اتنا خرچہ اس کے مال سے لے لے جو تیرے اور تیرے بچوں کے لیے کافی ہو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخارى البيوع، باب من أجرى امر الامصار على ما يتعارفون ...... الخ (2211).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ:"أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ". قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ:"أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ". قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ:"أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ:"أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ". قَالَ: عِنْدِي آخَرُ. قَالَ:"أَنْتَ أَعْلَمُ". قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے گھر والوں پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بہتر جانتا ہے کہ اسے کہاں خرچ کرنا ہے۔ سعید نے کہا کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے: تیرا بیٹا کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کرو یا کسی اور کے سپرد کر دو تیری بیوی کہتی ہے مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے اور تیرا خادم کہتا ہے کہ مجھ پر خرچ کر یا مجھے بیچ دو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداؤد، الزكاة، باب فى صلة الرحم (1691) والنسائى الزكاة، تفسير ذلك (2536) وصححه ابن خزيمة (2436) . والحاكم 1 / 415 - وابن حبان، وكلام ابي هريرة رواه البخاری، النفقات، باب وجوب النفقة على الاهل والعيال (5355).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ لَا [ ص: 82 ] يَجِدُ مَا يُنْفِقُ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: قُلْتُ سُنَّةٌ، فَقَالَ سَعِيدٌ: سُنَّةٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُشْبِهُ قَوْلَ سَعِيدٍ: سُنَّةٌ، أَنْ تَكُونَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالزناد سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے پاس بیوی پر خرچ کرنے کے لیے مال نہ ہو، تو انہوں نے کہا: دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی۔ ابوالزناد نے پوچھا: کیا یہ سنت ہے؟ سعید نے کہا: ہاں، سنت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سعید کی بات سنت ہے، سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفاً: اخرجه البيهقى 7/ 469 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4750)- والدار قطني: 3/ 297 - وعبد الرزاق (12356) وابن ابي شيبة (19006).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ فِي رِجَالٍ غَابُوا عَنْ نِسَائِهِمْ فَأَمَرُوهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُمْ بِأَنْ يُنْفِقُوا أَوْ يُطَلِّقُوا، فَإِنْ طَلَّقُوا بَعَثُوا بِنَفَقَةِ مَا حَبَسُوا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لشکروں کے امیروں کے نام خط لکھا ان آدمیوں کے متعلق جو (گھروں سے) غائب اپنی عورتوں کے پاس نہیں ہیں۔ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا اس بات پر مواخذہ کریں کہ وہ یا تو ان کو نفقہ دیں یا طلاق دے دیں۔ اور اگر وہ طلاق دیں تو جتنی دیر ان کو خرچہ نہیں دیا وہ بھی ساتھ دیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1213]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفاً: اخرجه البيهقي: 7/ 469 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4748) - وعبدالرزاق (12346) . و ابن ابی شیبة (19013).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ النَّفَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ
رشتہ داروں کے نفقہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: أَنَّ [ ص: 83 ] رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا، وَإِنَّ لِأَبِي مَالًا وَعِيَالًا، وَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي فَيُطْعِمَهُ عِيَالَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ". أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کی: میرے پاس مال ہے اور میں صاحبِ اولاد ہوں، اور میرے باپ کے پاس بھی مال ہے لیکن وہ میرے مال سے لے کر اپنے (دوسرے) بچوں کو کھلانا چاہتا ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کے لیے ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1214]
تخریج الحدیث: «صحیح موصولا اخرجه ابن ماجه التجارات، باب ما للرجل من مال (2291).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابٌ فِي النُّشُوزِ
بیوی کی نافرمانی اور سرکشی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ كَانَتْ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَكَرِهَ مِنْهَا أَمْرًا؛ إِمَّا كِبْرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي، وَأَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا [النِّسَاءِ: 128] الْآيَةَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے انہیں ناپسند کرنے لگے تھے۔ جب انہوں نے طلاق کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا: مجھے طلاق نہ دیں، مجھے اپنے پاس روکے رکھیں اور میرے حقِ باری کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بے تعلقی سے ڈرے۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 7 / 296 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4366) وابن ابي شيبة (16463).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعَهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ عُتْبَةَ. فَقَالَتْ لَهُ: اصْبِرْ لِي وَأُنْفِقُ عَلَيْكَ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا تَقُولُ لَهُ: أَيْنَ عُتْبَةُ وَشَيْبَةُ؟ فَسَكَتَ عَنْهَا، فَدَخَلَ يَوْمًا بَرِمًا، فَقَالَتْ: أَيْنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَأَيْنَ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ؟ فَقَالَ: عَلَى يَسَارِكِ فِي النَّارِ إِذَا دَخَلْتِ. فَشَدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَجَاءَتْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَهُمَا. وَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا كُنْتُ لَأُفَرِّقَ بَيْنَ شَيْخَيْنِ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ: فَأَتَيَاهُمَا فَوَجَدَاهُمَا قَدْ شَدَّا عَلَيْهِمَا أَثْوَابَهُمَا فَأَصْلَحَا أَمْرَهُمَا.
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت عقبہ سے شادی کی، تو فاطمہ نے ان سے کہا: آپ میرے پاس ہی رہیں اور میں آپ پر خرچ بھی کروں گی۔ وہ جب بھی ان کے پاس آتے تو وہ (فاطمہ) کہتی تھیں: عتبہ اور شیبہ کہاں ہیں؟ تو وہ (یہ سن کر) خاموش ہو جاتے۔ ایک دن وہ اکتائے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو فاطمہ نے کہا: عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں؟ عقیل رضی اللہ عنہ نے غصے میں کہا: جب تو جہنم میں جائے گی تو وہ تیرے بائیں جانب ہوں گے۔ (یہ بات اس پر سخت گراں گزری) تو اس نے کپڑے باندھے اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آگئی اور ان سے یہ ساری بات بیان کی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن عباس اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو (فیصلے کے لیے) بھیجا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ضرور ان کے درمیان علیحدگی کرواؤں گا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بنی عبد مناف کے دو بزرگوں کے درمیان علیحدگی نہیں ہونے دوں گا۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ وہ دونوں ان کے پاس آئے تو ان کو سخت غصے میں پایا، پھر ان دونوں نے ان کے مابین صلح کروا دی۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج اخرجه البيهقي: 306/7 وفى المعرفة السنن والآثار له (4391). وعبد الرزاق (11887) - والطبرى فى تفسيره (74/5-75).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں