🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ
حالتِ حیض میں عورت سے مباشرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1197
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُهَا: هَلْ يُبَاشِرُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَتْ: لِتَشْدُدْ إِزَارَهَا عَلَى أَسْفَلِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا إِنْ شَاءَ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے بھیجا کہ کیا آدمی اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: (بیوی) نچلے حصے پر اچھی طرح ازار باندھ لے، پھر وہ (شوہر) اس سے اگر چاہے تو مباشرت کر لے۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1197]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 190/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4206) - وعبدالرزاق (1241).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ
عورتوں کے پچھلے راستے میں جماع کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1198
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجَلَاحِ أَوْ عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانِ بْنِ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجَلَاحِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا شَكَكْتُ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ أَوْ إِتْيَانِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"حَلَالٌ"، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ دَعَاهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ:"كَيْفَ قُلْتَ؟ فِي أَيِّ [ ص: 74 ] الْخَرْتَيْنِ أَوْ فِي الْخَرَزَتَيْنِ أَوْ فِي الْخَصْفَتَيْنِ أَمِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا فَنَعَمْ أَمْ مِنْ دُبُرِهَا فِي دُبُرِهَا فَلَا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ: فَمَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: عَمِّي ثِقَةٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ ثِقَةٌ، وَقَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، عَنِ الْأَنْصَارِيِّ الْمُحَدِّثِ بِهَا أَنَّهُ أَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا وَخُزَيْمَةُ مِمَّنْ لَا يَشُكُّ عَالِمٌ فِي ثِقَتِهِ فَلَسْتُ أُرَخِّصُ فِيهِ بَلْ أَنْهَى عَنْهُ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھلی جانب سے عورتوں سے صحبت کرنے یا آدمی کے اپنی بیوی سے مقعد میں صحبت سے متعلق دریافت کیا (یہ امام شافعی رحمہ اللہ کو الفاظ کا شک ہے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جائز ہے۔ جب وہ آدمی واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو لایا گیا اور اس سے پوچھا: تم نے کیا کہا؟ دو شرمگاہوں میں سے کس میں؟ کیا پیچھے سے اگلی شرمگاہ میں؟ اگر اس طرح ہے تو درست ہے، یا پیچھے سے مقعد ہی میں؟ اگر یہ مطلب ہے تو ناجائز ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتے، تم عورتوں کے پاس ان کی دبر میں نہ آؤ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: انہوں نے کہا آپ اس سند کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو میں نے کہا: میرا چچا اور عبداللہ بن علی بن السائب دونوں ثقہ ہیں۔ اور فرمایا مجھے محمد رحمہ اللہ نے محدث انصاری کے متعلق بتایا کہ اس نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے ہیں اور خزیمہ ان راویوں میں سے ہیں جن کی ثقاہت میں کوئی بھی عالم شک نہیں کر سکتا، اسی لیے میں عورتوں سے مقعد میں صحبت کو جائز قرار نہیں دیتا بلکہ میں اس سے منع کرتا ہوں۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1198]
تخریج الحدیث: «اخرجه البيهقي: 7 / 196 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4220) وابن ماجة، النكاح، باب النهي عن اتيان النساء في ادبارهن (1924) وصححه ابن الجارود (728) وابن حبان.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابٌ فِي الْعَزْلِ عَنِ الْوَلَائِدِ
لونڈیوں سے عزل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1199
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَطَئُونَ وَلَائِدَهُمْ ثُمَّ يَعْزِلُونَ، لَا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ يَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنْ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلَّا قَدْ أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا، فَاعْزِلُوا بَعْدُ أَوِ اتْرُكُوا.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے وطی کرتے ہیں پھر وہ عزل کرتے ہیں۔ اب میرے پاس جو کوئی لونڈی آئی اور اس کے آقا نے اس سے صحبت کا اعتراف کیا تو میں اس (بچے) کو اس کے باپ سے ملا دوں گا، اس کے بعد تم عزل کرو یا نہ کرو (تمہیں اختیار ہے)۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1199]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 413/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3597) وعبدالرزاق: 12523، 12522 - وابن ابي شيبة (17491).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1200
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ فِي إِرْسَالِ الْوَلَائِدِ يُوطَأْنَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
ایک اور سند سے صفیہ بنت ابی عبید کے واسطہ سے عمر رضی اللہ عنہ سے سالم کی حدیث کی مثل ہی مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1200]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 413/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4598).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ
بچہ بستر والے کا ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1201
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، الشَّكُّ مِنْ سُفْيَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1201]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحدود، باب للعاهر الحجر (6818)، (6750) - مسلم، الرضاع، باب الولد للفراش، وتوقى الشبهات (1458).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1202
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:"هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبد بن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما، زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے۔ سعد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے وصیت کی تھی کہ جب تو مکہ جائے تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھنا اور اسے لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد اللہ بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو واضح طور پر عتبہ کا ہم شکل دیکھا، پھر فرمایا: اے عبد اللہ بن زمعہ! یہ تیرے ساتھ جائے گا، کیونکہ بچہ بستر والے کا ہے۔ (اور ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا) اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1202]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب شراء المملوك من الحربي وهبته وعتقه (2218)، (2053) ومسلم، الرضاع، باب الولد للفراش وتوقى الشبهات (1457).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1203
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ يَعْنِي: ابْنَ الْخَطَّابِ، إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يَسْكُنُ دَارَنَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى [ ص: 77 ] عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: أَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ، وَأَمَّا النُّطْفَةُ فَلِفُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْفِرَاشِ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن ابی یزید نے اپنے باپ سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنی زہرہ کے ایک بوڑھے کی طرف آدمی بھیجا جو ہمارے گھروں میں رہتا تھا، میں بھی اس کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے جاہلیت میں اولاد کی پیدائش کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: بستر کسی کا ہوتا اور نطفہ کسی اور کا ہوتا (یعنی بستر والا اور نطفہ والا الگ الگ ہوتے)۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ بستر والے کے حق میں دیا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1203]
تخریج الحدیث: «تقدم تخريجه برقم: (968).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ إِنْكَارِ لَوْنِ الْوَلَدِ وَاسْتِقْرَارِ النِّكَاحِ عَلَى الشُّبْهَةِ
بچے کے رنگ کی وجہ سے اس کی ولدیت کا انکار کرنے اور محض شبہ کے باوجود نکاح کے برقرار رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1204
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:"أَلْوَانُهَا"؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ:"هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ"؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:"أَنَّى تَرَى ذَلِكَ؟" قَالَ: نَزَعَهُ عِرْقٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَلَعَلَّ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ گاؤں میں رہنے والوں میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ میری بیوی نے کالا بچہ جنم دیا ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کے خیال میں یہ کہاں سے آگیا؟ اس نے کہا: کسی رگ نے اس کو کھینچ لیا ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید اسے بھی کوئی دور کی رگ کھینچ لائی ہو۔ (جس کی وجہ سے کسی دور کے رشتہ دار کے مشابہ پڑنے سے اس کا رنگ کالا ہو گیا ہو)۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری،الطلاق، باب اذا عرض نفى الولد (5305) - مسلم، اللعان (1500).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1205
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: [ ص: 78 ] أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:"مَا أَلْوَانُهَا"؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ:"هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ"؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا. قَالَ:"فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ"؟ قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی فزارہ قبیلہ سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی، میری بیوی نے کالا کلوٹا بچہ جنم دیا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں سیاہی مائل سفید بھی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ان میں سیاہ مائل سفید بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے آگئے؟ اس نے کہا: شاید کوئی رگ کھینچ لائی ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے اس (بچے) کو بھی کوئی رگ کھینچ لائی ہو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، برقم: (1204)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1206
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَطَلِّقْهَا"، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، قَالَ:"فَأَمْسِكْهَا إِذَنْ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ ایک ادمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایا اور اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی کسی ہاتھ لگانے والے کا ہاتھ نہیں روکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے کہا: میں اس سے محبت کرتا ہوں (طلاق نہیں دے سکتا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے روکے رکھو۔ [مسند الشافعی/ كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع /حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «اخرجه البيهقي: 7 / 154 - والنسائي النكاح باب تزويج الزانية (3231) وقال: هذا الحديث ليس بثابت.» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں