مسند الشافعی سے متعلقہ
6. بَابُ الْحَدِّ فِي رِيحِ الشَّرَابِ الْمُسْكِرِ
نشہ آور مشروب کی بو پر حد کا بیان
حدیث نمبر: 1566
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، فَسَمِعَهُ السَّائِبُ يَقُولُ: إِنِّي وَجَدْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ رِيحَ الشَّرَابِ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبُوا، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا حَدَدْتُهُمْ. قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: فَأَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّهُ حَضَرَهُ يَحُدُّهُمْ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نمازِ جنازہ پڑھانے نکلے، تو سائب نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے عبید اللہ اور اس کے ساتھیوں سے شراب کی بو پائی ہے، میں تحقیق کروں گا کہ انہوں نے کیا پیا ہے، اگر وہ نشہ آور ہوا تو میں ان پر حد نافذ کروں گا۔“ سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت وہاں موجود تھے جب ان پر حد لگائی گئی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1566]
تخریج الحدیث: «صحیح اخرجه البيهقي: 312/8، 315 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5215).»
حدیث نمبر: 1567
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُجْلَدُ فِي رِيحِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ الرِّيحَ لَتَكُونُ مِنَ الشَّرَابِ الَّذِي فِيهِ بَأْسٌ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا جَمِيعًا عَلَى شَرَابٍ وَاحِدٍ فَسَكِرَ أَحَدُهُمْ جُلِدُوا جَمِيعًا الْحَدَّ تَامًّا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُ عَطَاءٍ مِثْلُ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يُخَالِفُهُ.
یحییٰ بن جریج نے کہا: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا شراب کی بو آنے پر حد لگائی جائے گی؟ تو عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بو اس شراب سے آتی ہے جس (کے پینے) میں حرج (نشہ) ہے، پس جب زیادہ لوگ ایک ہی قسم کی شراب پییں اور ان میں سے صرف ایک آدمی کو نشہ ہو جائے تو ان تمام پر مکمل کوڑوں کی حد نافذ کی جائے گی۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: عطاء کی بات بالکل عمر رضی اللہ عنہما کی بات کی طرح ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1567]
تخریج الحدیث: «صحیح شواهده اخرجه البیهقی: 313/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5218).»
حدیث نمبر: 1568
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ [ ص: 267 ] أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أُوتَى بِأَحَدٍ شَرِبَ خَمْرًا وَلَا نَبِيذًا مُسْكِرًا إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو بھی شخص شراب پینے والا یا نشہ آور نبیذ پینے والا میرے پاس لایا جائے گا، میں اس پر کوڑوں کی حد ضرور لگاؤں گا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1568]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف لضعف شيخ الشافعى ولانقطاع بين محمد بن علی بن الحسين وعلی بن ابی طالب: اخرجه البيهقى 313/8 وفى المعرفة السنن والآثار له (5616).»
7. بَابُ حَدِّ الزِّنَا
زنا کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 1569
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُبَادَةَ، يَعْنِي: ابْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے راستہ مقرر کر دیا ہے۔ کنوارا کنواری سے زنا کرے تو ہر ایک کو سو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت زنا کریں تو سو کوڑے اور رجم (سنگسار کرنا) ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1569]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الحدود، باب حد الزني (1690).»
حدیث نمبر: 1570
وَقَدْ حَدَّثَنِي الثِّقَةُ: أَنَّ الْحَسَنَ كَانَ يُدْخِلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عُبَادَةَ حِطَّانَ الرَّقَاشِيَّ، وَلَا أَدْرِي أَدْخَلَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ بَيْنَهُمَا فَزَلَّ مِنْ كِتَابِي حِينَ حَوَّلْتُهُ وَهُوَ فِي الْأَصْلِ أَوْ لَا؟ وَالْأَصْلُ يَوْمَ كَتَبْتُ هَذَا الْكِتَابِ غَائِبٌ عَنِّي.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے ثقہ راوی نے خبر دی کہ حسن اپنے اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان حطان الرقاشی کا واسطہ بیان کرتے تھے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ان دونوں کے درمیان یہ واسطہ بیان کیا۔ میں نے اپنی اصل کتاب دیکھی تو اس میں موجود نہ تھا۔ یا نہیں کیا جب سے میں نے یہ کتاب لکھی ہے اس کی اصل مجھ سے غائب ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1570]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1569).»
حدیث نمبر: 1571
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَا إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”رجم کرنا اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق اس شخص پر فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد مردوں یا عورتوں میں سے زنا کیا ہو، جب صحیح شرعی گواہوں سے ثابت ہو جائے، یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کر لے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1571]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحدود، باب الاعتراف بالزنا (6829) ومسلم، الحدود، باب رجم الثيب في الزني (1691).»
حدیث نمبر: 1572
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، لَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَكَتَبْتُهَا: (الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ) ، فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ڈرو اس بات سے کہ تم رجم کی آیت کو بھلا دو اور (زیادہ وقت گزرنے پر) کوئی کہنے والا کہے کہ ہم قرآن میں دو حدیں نہیں پاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی سنگسار کیا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کر دی ہے، تو میں یہ لکھوا دیتا کہ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت (جب زنا کریں) تو انہیں رجم کر دو، بے شک ہم نے اس کو پڑھا ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1572]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذی - الحدود، باب ماجاء في تحقيق الرجم (1431) وقال حسن صحيح ومالك في الموطا، الحدود، باب ماجاء في الرجم واحمد (36/1، 43).»
حدیث نمبر: 1573
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَزَادَ سُفْيَانُ وَشِبْلٌ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ أَنَّ ابْنَهُ زَنَا بِامْرَأَةِ رَجُلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا أَنْ يَغْدُوَ عَلَى امْرَأَةِ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا".
ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس کے بیٹے نے ایک آدمی کی بیوی سے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان فیصلہ اللہ کی کتاب سے کروں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ صبح اس عورت کے پاس جائیں، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کر دیں، جب اس عورت نے اعتراف کیا تو انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو سنگسار کر دیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1573]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الايمان والنذور، باب كيف كانت يمين النبي صلی اللہ علیہ وسلم (6633)، (6634) ومسلم، الحدود، باب من اعترف على نفسه بالزنى (1697)، (1698).»
حدیث نمبر: 1574
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ:"تَكَلَّمْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَا بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمَائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا [ ص: 271 ] الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا، ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور دوسرے نے کہا (جو ان دونوں میں سے زیادہ سمجھدار تھا): ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے مابین فیصلہ اللہ کی کتاب سے کیجیے اور مجھے اس معاملے میں کچھ بات کرنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو۔“ اس آدمی نے کہا: میرا بیٹا ان کے ہاں مزدور تھا، اس نے ان کی بیوی سے زنا کر لیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے انہیں سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیہ میں دے دی۔ پھر میں نے اہلِ علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور رجم کی سزا اس کی بیوی کے لیے ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان فیصلہ اللہ کی کتاب سے کروں گا، تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تجھے واپس کی جائے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا، اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں، اگر اس نے اقرار کیا تو اسے رجم کر دیں، اس عورت نے اعتراف کر لیا اور رجم کر دی گئی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1574]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1573).»
حدیث نمبر: 1575
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ زَنَيَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زنا کرنے والے یہودی جوڑے کو سنگسار کیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1575]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحدود، باب احكام اهل الذمة واحصانهم اذا زنوا، ورفعوا الى الإمام (6841) ومسلم، الحدود باب رجم اليهود، اهل الذمة، في الزنى (1699).»