🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

10. بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَقِيمَةِ مَا فِيهِ الْقَطْعُ
چوری کی حد اور اس قیمت کا بیان جس میں ہاتھ کاٹا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1586
قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ الْأُتْرُجَّةٌ الَّتِي يَأْكُلُهَا النَّاسُ. أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ: أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ يَسْأَلُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقَطْعِ، فَقَالَ أَنَسٌ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَطَعَ سَارِقًا فِي شَيْءٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ.
حمید الطویل سے روایت ہے کہ انہوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے سنا وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہاتھ کاٹنے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے ایک چور کا ہاتھ ایسی چیز کے بدلے کاٹا جو میں تین درہم کے عوض بھی لینا پسند نہیں کرتا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1586]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقى 259/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5146) - وعبد الرزاق (18970). و ابن ابي شيبة (28083).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1587
أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر کاٹا جاتا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1587]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابهام شيخ الشافعى ولانقطاعه، فان محمد بن على لم يسمع من علی بن ابی طالب: اخرجه البيهقي: 8 / 260 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5147).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1588
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَكَّةَ شَرَّفَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَمَعَهَا مَوْلَاتَانِ وَغُلَامٌ لِابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثَتْ مَعَ مَوْلَاتَيْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ قَدْ خِيطَتْ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ. قَالَتْ: فَأَخَذَ الْغُلَامُ الْبُرْدَ فَفَتَقَ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً، وَخَاطَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلَاتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا فِيهِ الْبُرْدَ، فَكَلَّمُوا الْمَوْلَاتَيْنِ فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَتْ يَدَهُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ کی طرف نکلیں تو ان کے ساتھ دو آزاد کردہ لونڈیاں اور عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے کا غلام تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لونڈیوں کے ہاتھ ایک چادر بھیجی جس پر نقش و نگار تھے، اور اسے ایک سبز کپڑے میں لپیٹ کر سی دیا تھا۔ عمرہ نے کہا: (راستے میں) غلام نے سلائی ادھیڑ کر اس سے چادر نکال لی اور اس کی جگہ ایک تھیلا یا پوستین رکھ دی، اور اسے دوبارہ سی دیا۔ جب وہ دونوں لونڈیاں مدینہ پہنچیں تو انہوں نے وہ امانت گھر والوں کے حوالے کی۔ جب انہوں نے سلائی ادھیڑ کر دیکھا تو اس میں چادر کی بجائے پوستین پائی، انہوں نے لونڈیوں سے پوچھا، تو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو (غلام پر شک کی) بات کی۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور فرمایا: چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1588]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 276/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5183). والحمیدی (280).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1589
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامِلَ الْيَمَنِ ظَلَمَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ. ثُمَّ إِنَّهُمُ افْتَقَدُوا حُلِيًّا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ، فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغٍ، وَأَنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ الْأَقْطَعُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي مِنْ سَرِقَتِهِ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ.
عبد الرحمن بن قاسم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ یمن کا رہنے والا ایک آدمی، جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ یمن کے حاکم نے اس پر ظلم کیا ہے، وہ رات کو نماز پڑھتا تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے: تیرے باپ کی قسم! تیری رات چوروں کی رات نہیں ہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے زیورات چوری ہو گئے، تو لوگوں کے ساتھ یہ آدمی بھی ڈھونڈتا اور کہتا: اے اللہ! اس آدمی کو تباہ کر جس نے ایسے نیک گھر والوں کے ہاں چوری کی۔ پھر انہوں نے وہ ہار ایک سنار کے پاس پایا، (اس سنار نے بتایا کہ) یہ وہی کٹا ہوا آدمی لے کر آیا تھا۔ اس یمنی چور نے اعتراف کر لیا یا گواہی سے ثابت ہو گیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا (بچا ہوا) بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا، اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے اس کی وہ مکارانہ بددعا جو وہ اپنے اوپر کرتا تھا، اس کی چوری سے زیادہ سخت معلوم ہوئی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1589]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان القاسم بن محمد لم يسمع من جده ابى بكر الصديق اخرجه البيهقي: 8/ 273 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5175) - وعبدالرزاق (2769)- والبغوى (2602).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ إِذَا وَصَلَ الْحَدُّ إِلَى الْإِمَامِ لَمْ يَبْقَ فِيهِ عَفْوٌ
جب حد امام تک پہنچ جائے تو اس میں معافی باقی نہ رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1590
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ: مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَدِمَ صَفْوَانُ الْمَدِينَةَ، فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَوَسِّدًا رِدَاءَهُ. فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ".
صفوان بن عبد اللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: جس نے ہجرت نہیں کی وہ تباہ ہو گیا۔ تو صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے اور اپنی چادر سر کے نیچے رکھ کر مسجد میں سو گئے۔ ایک چور آیا اور ان کے سر کے نیچے سے چادر نکال لی، صفوان رضی اللہ عنہ نے چور کو پکڑ لیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر صفوان رضی اللہ عنہ نے (ترس کھا کر) عرض کیا: میری نیت یہ نہ تھی، وہ چادر اس پر صدقہ ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے تو نے یہ کیوں نہ کیا؟ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1590]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو داود، الحدود، باب فيمن سرق من حرز (4394) والنسائي، قطع السارق، باب ما يكون حرزا ومالا يكون (4887) - وصححه ابن الجارود (828) والحاكم (4/ 380).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1591
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ وَالسَّرِقَةِ.
طاؤوس رحمہ اللہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کی طرح مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1591]
تخریج الحدیث: «اخرجه النسائي، قطع السارق، باب ما يكون حرزًا ومالا يكون (4888) - متصلا عن طاؤوس عن صفوان بن امية . وصححه الحاكم: 4 / 380 . عن طاؤوس عن ابن عباس بنحوه.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابٌ مِنْهُ فِي الْقَطْعِ وَمُضَاعَفَةِ غُرْمِ الْعَاقِلَةِ
ہاتھ کاٹنے اور عاقلہ پر تاوان کے دوگنا ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ: أَنَّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَمَرَ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: إِنِّي أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ، وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ، ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ: كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ؟ قَالَ: أَرْبَعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ. قَالَ عُمَرُ: أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ.
یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب کے غلاموں نے مزینہ قبیلے کے ایک آدمی کی اونٹنی چوری کر کے نحر (ذبح) کر دی۔ یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال میں تم انہیں لے کر آؤ، اللہ کی قسم! میں تجھ پر ایسا تاوان ڈالوں گا جو تیرے لیے باعثِ مشقت ہو۔ پھر مزینہ قبیلہ کے آدمی سے پوچھا: تیری اونٹنی کی کیا قیمت ہے؟ اس نے کہا: چار سو درہم۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے آٹھ سو درہم دے دو۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1592]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لانقطاعه فان يحي بن عبد الرحمن بن حاطب لم يسمع من عمر: اخرجه البيهقی: 8/ 278 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5184) - وعبد الرزاق (18977)، (18978).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عَبْدًا لَهُ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ، فَأَبَى سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ أَنْ يَقْطَعَهُ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے بھاگے ہوئے غلام نے چوری کی تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ (حاکمِ مدینہ) نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کر دیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 268/8 . وفي المعرفة السنن والآثار له (5168) - ومالك في الموطا، السرقة، باب ماجاء في قطع السير والسارق.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ لَا يُقْطَعُ الْعَبْدُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ
آقا کے مال میں غلام کا ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1594
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيَّ جَاءَ بِغُلَامٍ لَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: اقْطَعْ يَدَ هَذَا؛ فَإِنَّهُ سَرَقَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي مَاذَا سَرَقَ؟ قَالَ: سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسِلْهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ. [ ص: 283 ] أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن عمرو الحضرمی اپنے غلام کو لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اس کا ہاتھ کاٹ دیں اس نے چوری کی ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا چرایا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی کا آئینہ چرایا ہے جس کی قیمت ساٹھ درہم ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کو چھوڑ دو، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، تمہارا خادم تھا اس نے تمہارا مال چرا لیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 281/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5189) . ومالك في الموطا، السرقة، باب جامع القطع.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا لَا قَطْعَ فِيهِ
جن چیزوں میں ہاتھ کاٹنا نہیں ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1595
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:"لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَفِيهِ الْقَطْعُ".
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لٹکے ہوئے پھل (کی چوری) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ جب وہ کھلیان (کھلی جگہ) میں (کاٹ کر رکھ لیں) تو اس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، اللقطعة، باب التعريف باللقطة (1710)، (1711)، (1390) - وابن ماجة، الحدود، باب من سرق من الحرز (2596) والنسائي قطع السارق الثمر يسرق بعد أن يؤويه الجرين (4961) وصححه ابن الجارود (827) - والحاكم: (381/4).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں