مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ قَتْلِ الْجَمَاعَةِ بِالْوَاحِدِ
ایک شخص کے بدلے پوری جماعت کو قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1611
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ، وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمَالْأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلَهُمْ جَمِيعًا. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک آدمی کے بدلے میں قتل کیا، جسے انہوں نے دھوکے سے مارا تھا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر صنعاء (یمن کا ایک مشہور شہر) کے تمام لوگ اس قتل میں شریک ہوتے تو میں تمام کو قصاص میں قتل کر دیتا۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 8 / 40، 41 . وفى المعرفة السنن والآثار له (4831). وعبدالرزاق (18073)، (18075) وابن ابى شيبة (27684)، (27685).»
7. بَابُ قَتْلِ السَّحَرَةِ
جادوگروں کے قتل کا بیان
حدیث نمبر: 1612
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَنَّهُ [ ص: 293 ] سَمِعَ بَجَالَةَ يَقُولُ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنِ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَسَاحِرَةٍ، قَالَ: فَقَتَلْنَا ثَلَاثَ سَوَاحِرَ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے بجالہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے گورنروں کے نام) لکھا کہ: ”ہر جادوگر اور جادوگرنی کو قتل کر دو۔“ بجالہ نے کہا، پھر ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الخراج والفى والامارة، باب فى اخذ الجزية من المجوس (3043) - واحمد: 1 / 190، 191 - وصححه ابن الجارود (1105).»
حدیث نمبر: 1613
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا: أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَتْ جَارِيَةً لَهَا سَحَرَتْهَا.
فرمایا اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو قتل کیا جس نے ان پر جادو کیا تھا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1613]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 136/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4996) - وعبدالرزاق (18748)، (18757).»
حدیث نمبر: 1614
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا بَالُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ. قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ. قَالَ: وَفِيمَ؟ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رُعُوفَةٍ أَوْ عُوفَةٍ، شَكَّ رَبِيعٌ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ. قَالَ: فَجَاءَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ ص: 294 ] فَقَالَ:"هَذِهِ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ". فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا، قَالَ سُفْيَانُ، يَعْنِي: تَنَشَّرْتَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ:"أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا". قَالَ: وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے جس کام کے بارے میں رہنمائی طلب کی تھی اللہ نے اس کے بارے میں میری رہنمائی فرما دی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کافی مدت یہی حالت رہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے کسی سے ہم بستری کی ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کی ہوتی۔ میرے پاس دو آدمی (فرشتے) آئے، ایک میرے پاؤں کے پاس اور دوسرا میرے سر کے پاس (کھڑا ہو گیا)۔ میرے پاؤں کے پاس کھڑے نے سر کے پاس کھڑے سے کہا: ”اس آدمی کا کیا حال ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اس پر جادو کر دیا گیا ہے۔“ اس نے پوچھا: ”کس نے اس پر جادو کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”لبید بن اعصم (یہودی) نے۔“ اس نے پھر پوچھا: ”کس چیز میں اس پر جادو کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”کنگھی میں اور کنگھی کے ساتھ سر سے اترے ہوئے بالوں میں، کھجور کے خوشے کے اندر جو ذروان کنویں میں رکھا ہوا ہے۔“ راوی نے کہا پھر اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکال لائے اور فرمایا: ”یہ وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا گویا اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں کی مانند تھے، اور اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور وہ اس سے نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! پس کیوں نہیں (یعنی آپ نے جادو کا توڑ ظاہر کیوں نہ کیا)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اللہ نے مجھے شفا دی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی وجہ سے لوگوں میں شر پھیلاؤں۔“ فرمایا: لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک آدمی تھا جو یہودیوں کے حلیف تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الطب، باب هل يستخرج السحر (5768) ومسلم، السلام، باب السحر (2189).»
8. بَابُ حُسْنِ الْقِتْلَةِ
اچھے طریقے سے قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1615
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقٍّ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهِ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:"أَنْ يَذْبَحَهَا فَيَأْكُلَهَا وَلَا يَقْطَعَ رَأْسَهَا فَيَرْمِيَ بِهَا".
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چڑیا یا اس سے بھی ہلکی چیز کو ناحق قتل کیا تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کے قتل کے بارے میں پوچھیں گے۔“ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا حق کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کرے پھر اسے کھائے اور اس کا سر نہ کاٹے کہ پھر اس سے نشان بازی کرے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1615]
تخریج الحدیث: «اخرجه النسائي، الصيد، إباحة أكل العصافير (4354)، (4450) - واحمد: 2/ 166، 197 - وصححه الحاكم: (233/4).»
حدیث نمبر: 1616
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَرَّقَ الْمُرْتَدِّينَ أَوِ الزَّنَادِقَةَ قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ وَلَقَتَلْتُهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ"، وَلَمْ أُحْرِقْهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ".
عکرمہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ خبر پہنچی کہ علی رضی اللہ عنہ نے مرتد اور بے دین لوگوں کو جلا دیا ہے، تو فرمایا: ”اگر میں (ان کی جگہ) ہوتا تو میں ان کو نہ جلواتا، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو اپنا دین (اسلام) بدل ڈالے اس کو قتل کر دو۔“ اور میں انہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب دے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1607).»
حدیث نمبر: 1617
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلْجَمٍ بَعْدَ مَا ضَرَبَهُ: أَطْعِمُوهُ وَاسْقُوهُ وَأَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي أَعْفُو إِنْ شِئْتُ، وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ، وَإِنْ مِتُّ فَقَتَلْتُمُوهُ فَلَا تُمَثِّلُوا. [ ص: 296 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ.
جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم سے متعلق فرمایا جب اس نے ان کو زخمی کیا: ”اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اچھے طریقے سے قید کر کے رکھو، اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا ولی ہوں، اگر چاہوں تو معاف کر دوں، اور اگر چاہوں تو انتقام لے لوں، اور اگر میں شہید ہو جاؤں تو تم اس کو قتل کر دینا، اس کا مثلہ نہ کرنا۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1617]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي ولإنقطاعه بين محمد بن علی و علی بن ابی طالب: اخرجه البیهقی: 8/ 183 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5003).»
9. بَابُ إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى الْقَاتِلُ غَيْرَ قَاتِلِهِ
اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ دشمن اس قاتل کا بیان جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے کا بیان
حدیث نمبر: 1618
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ:"إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى الْقَاتِلُ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَالضَّارِبُ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا، فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کے ساتھ ایک کتاب پائی گئی کہ: ”بے شک لوگوں میں سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑا ظالم وہ قاتل ہے جو لڑائی نہ کرنے والے کو قتل کرے، اور اس کو مارنے والے کے علاوہ کسی دوسرے کو مارے، اور جس نے اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور کو اپنا ولی بنایا تو اس نے اس وحی کا انکار کیا جو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1618]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي و لانقطاعه واخرجه البيهقي: 8 / 26 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4797) - وعبد الرزاق (18847). وابو یعلی (330).»
حدیث نمبر: 1619
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا كَانَ فِي الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي قِرَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ فِيهَا:"لَعَنَ اللَّهُ الْقَاتِلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَالضَّارِبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ وَلِيِّ نِعْمَتِهِ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
محمد بن اسحاق نے روایت کیا کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کی میان میں موجود صحیفے میں کیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں تھا کہ اللہ نے اپنے قاتل کے علاوہ دوسرے کو قتل کرنے والے پر لعنت کی ہے، اور اس کو مارنے والے کے علاوہ دوسرے کو مارنے والے پر بھی (لعنت کی ہے)۔ اور جس نے کسی کو کسی کی نعمت کا غیر ولی کو مالک بنا دیا، اس نے اس وحی کا انکار کیا جو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإعضاله اخرجه البيهقي: 26/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4798).»
10. بَابُ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُؤْخَذُ بِذَنْبِ غَيْرِهِ، حَتَّى جَاءَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى أَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى [النَّجْمِ: 37-38] .
عمرو بن اوس سے روایت ہے، فرمایا: پہلے ایک آدمی کو دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا تھا حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور وفدار ابراہیم کے صحیفوں میں تھا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ (النجم: 37، 38) [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله اخرجه البيهقى 345/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5299).»