🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب فِي الْكَىِّ
باب: داغنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمُّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ يَسْمَعُ تَسْلِيمَ الْمَلَائِكَةِ، فَلَمَّا اكْتَوَى انْقَطَعَ عَنْهُ، فَلَمَّا تَرَكَ رَجَعَ إِلَيْهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے (یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3865]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا ہے، پس ہم نے داغ لگوائے مگر یہ کامیاب رہے نہ مفید ثابت ہوئے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”سیدنا عمران رضی اللہ عنہ ملائکہ کا سلام سنا کرتے تھے۔ جب انہوں نے داغ لگوائے تو یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ پھر جب چھوڑ دیا تو پھر سے سلام سننے لگے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10845)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 10 (2094)، سنن ابن ماجہ/الطب 23 (3491)، مسند احمد (4/444، 446) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله عند مسلم (1226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3866
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمِيَّتِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3866]
سیدنا جابر (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے منقول ہے کہ ”سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگنے کے باعث جو زخم آیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو داغ لگوایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2694)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2208)، سنن ابن ماجہ/الطب 24 (3494)، مسند احمد (3/363) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے علاج کے طور پر داغنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ممانعت تو وہ یا تو عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ ممکن ہے انہیں کوئی ایسی بیماری لگی ہو جس میں داغنا مفید نہ ہو، یا بیماری سے بچنے کے لئے احتیاطاً وہ یہ کرنے جارہے ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو کیونکہ بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2208)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب فِي السَّعُوطِ
باب: ناک میں دوا ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3867
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَطَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں دوا ڈالی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3867]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں دوا ڈالی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5723)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 26 (1202)، سنن الترمذی/الطب 9 (2047) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5691) صحيح مسلم (1202 بعد ح 1577)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب فِي النُّشْرَةِ
باب: نشرہ کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3868
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ؟، فَقَالَ: هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «نشرہ» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ شیطانی کام ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3868]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نشرہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطانی عمل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/294) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «نشرہ» ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4553)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب فِي التِّرْيَاقِ
باب: تریاق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3869
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ.
عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3869]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مجھے کوئی پروا نہیں جو چاہے کرتا پھروں، اگر میں تریاق پیوں یا منکے لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”تریاق کا استعمال نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی اور تریاق کے استعمال میں علماء کی ایک جماعت نے رخصت دی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 8878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/167، 223) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبد الرحمن تنوخی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن رافع التنوخي : ضعيف (تقريب التهذيب: 3856)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب فِي الأَدْوِيَةِ الْمَكْرُوهَةِ
باب: ناجائز اور مکروہ دواؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3870
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس یا حرام دوا سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3870]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خبیث دواؤں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 7 (2045)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (3459)، (تحفة الأشراف: 14346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305، 446، 478) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جیسے پیشاب یا شراب وغیرہ، یعنی دوا کے طور پر بھی ان کا استعمال حرام ہے، سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں صراحت ہے کہ دوائے خبیث سے مراد «سم» یعنی زہرہے، لیکن لفظ عام ہے، عام معنی مراد لینے میں کوئی مانع نہیں ہے، «سم» (زہر) کا لفظ راوی کی طرف سے ادراج (تفسیر و اضافہ) بھی ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4539)
أخرجه ابن ماجه (3459 وسنده حسن)
قَالَ لَنَا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثيِرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ،" أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ؟، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا".
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک طبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوا میں مینڈک کے استعمال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3871]
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایک معالج نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کے متعلق دریافت کیا کہ کیا اسے دوا میں ڈال لیا کرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (طبیب) کو مینڈک کے قتل کرنے سے منع کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید 36 (4360)، (تحفة الأشراف: 9706)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/453، 499)، سنن الدارمی/الأضاحي 26 (2041)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5269) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4545)
أخرجه النسائي (4360 وسنده صحيح) سعيد ھو ابن خالد بن عبد الله بن قارظ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَسَا سُمًّا فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زہر پیے گا تو قیامت کے دن وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور اسے جہنم میں پیا کرے گا اور ہمیشہ ہمیش اسی میں پڑا رہے گا کبھی باہر نہ آ سکے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3872]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے زہر پیا (تو آخرت میں) اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ابدالآباد تک پیتا رہے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 7 (1044)، (تحفة الأشراف: 12526)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (175)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1967)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (3460)، مسند احمد (2/254، 478، 488)، سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (5778) ومسلم (109)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3873
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ذَكَرَ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ أَوْ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ؟ فَنَهَاهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا دَوَاءٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَلَكِنَّهَا دَاءٌ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، طارق بن سوید یا سوید بن طارق نے ذکر کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں منع فرمایا، انہوں نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر منع فرمایا تو انہوں نے آپ سے کہا: اللہ کے نبی! وہ تو دوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ بیماری ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3873]
سیدنا طارق بن سوید یا سوید بن طارق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اس نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! یہ دوا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں یہ بیماری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطب 27 (3500)، (تحفة الأشراف: 4980)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 3 (1984)، سنن الترمذی/الطب 8 (2046)، مسند احمد (4/311، 5/293)، سنن الدارمی/الأشربة 6 (2140) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1984)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3874
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ،عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے بیماری اور دوا (علاج) دونوں اتارا ہے اور ہر بیماری کی ایک دوا پیدا کی ہے لہٰذا تم دوا کرو لیکن حرام سے دوا نہ کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3874]
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بیماری اتاری ہے تو دوا بھی نازل فرمائی ہے اور ہر بیماری کے لیے دوا ہے، لہٰذا دوا استعمال کیا کرو، لیکن حرام سے علاج نہ کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11007) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ثعلبہ مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ثعلبة بن مسلم روي عنه جماعة ولم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ : مستور (تق : 846) وباقي السند حسن
والحديث صححه ابن الملقن (تحفة المحتاج : 2847) ولبعض الحديث شاھد صحيح (تقدم،الأصل : 3855)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں