سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب فِي تَمْرَةِ الْعَجْوَةِ
باب: عجوہ کھجور کا بیان۔
حدیث نمبر: 3875
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي، فَقَالَ: إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةَ الْمَدِينَةِ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ، ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3875]
سیدنا سعد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں بہت سخت بیمار ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری چھاتی کے درمیان رکھا، حتیٰ کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دل کے مریض ہو، بنو ثقیف کے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ، وہ طبابت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سے سات کھجوریں لے کر انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ لے اور پھر تمہیں کھلا دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3916) (ضعیف) (مجاہد کا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن وفي سماع مجاهد من سعد بن أبي وقاص رضي اللّٰه عنه نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن وفي سماع مجاهد من سعد بن أبي وقاص رضي اللّٰه عنه نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا، نہ جادو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3876]
جناب عامر بن سعد ابی وقاص اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کو عجوہ کھجور کے سات دانے کھا لے اسے اس دن کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں دے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 43 (5445)، الطب 52 (5799)، صحیح مسلم/الأ شربة 27 (2406)، (تحفة الأشراف: 3895)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5769) صحيح مسلم (2047)
13. باب فِي الْعِلاَقِ
باب: انگلی سے بچوں کے حلق دبانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ:" دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» ۱؎ بنا کر پلایا جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3877]
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ (چونکہ اس کے حلق میں تکلیف تھی تو) میں نے اس کے لٹکے ہوئے گلے انگلی سے اوپر کیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کے گلے لٹکنے کا علاج انگلی سے کیوں کرتی ہو؟ «عُودِ هِنْدِي» ”عودِ ہندی“ اختیار کر لو، اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے۔ ان میں سے ایک «ذَاتِ الْجَنْبِ» ”ذات الجنب“ (پہلو کا درد بھی) ہے (جس میں یہ مفید ہے) حلق کی تکلیف میں اسے ناک میں ٹپکایا جاتا ہے اور پہلو کے درد میں پانی کے ساتھ کھلایا جاتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عود سے مراد «قُسْط» ”قسط“ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 21 (5713)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابن ماجہ/الطب 17 (3462)، (تحفة الأشراف: 18343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «لدود» اس دواء کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5713) صحيح مسلم (2214)
14. باب فِي الأَمْرِ بِالْكُحْلِ
باب: سرمہ لگانے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3878
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3878]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کپڑے سفید پہنا کرو، یہ تمہارے لباسوں میں سے بہتر لباس ہے، اسی میں اپنی میتوں کو کفن دیا کرو اور تمہارے سرموں میں سے بہترین سرمہ «الْإِثْمِدُ» ”اثمد“ ہے جو بینائی کو تیز کرتا اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 18 (994)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 12 (1472)، الطب 25 (3497)، اللباس 5 (3566)، (تحفة الأشراف: 5534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 247، 274، 328، 355، 363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (994 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (4061)
أخرجه الترمذي (994 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (4061)
15. باب مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ
باب: نظر بد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3879
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر بد حق ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3879]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْعَيْنُ حَقٌّ» ”نظر لگ جانا حق ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 36(5740)، صحیح مسلم/السلام 16 (2187)، (تحفة الأشراف: 14696)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 32 (3506)، مسند احمد (2/319) (صحیح متواتر)»
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5740) صحيح مسلم (2187)
حدیث نمبر: 3880
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نظر بد لگانے والے کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے پھر جسے نظر لگی ہوتی اس پانی سے غسل کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3880]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جس شخص کی نظر لگتی اسے حکم دیا جاتا تھا کہ وضو کر کے (وضو کا پانی) دے، پھر اس سے بیمار کو (جسے نظر لگی ہو) غسل کرایا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15965) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش وإبراهيم مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
إسناده ضعيف
الأعمش وإبراهيم مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
16. باب فِي الْغَيْلِ
باب: رضاعت کے دوران عورت سے جماع کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3881
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ".
اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3881]
سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اپنی اولادوں کو مخفی طریقے سے قتل مت کرو۔ بلاشبہ دودھ پینے کے ایام میں عورت سے مباشرت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بچہ (بڑا ہو کر جب گھڑ سواری کرتا ہے تو) گھوڑے سے گر جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 61 (2012)، (تحفة الأشراف: 15777)، وقد أخرجہ: مسند احمد 6/453، 457، 458) (حسن) (تراجع الألبانی 397، وصحیح ابن ماجہ: 1648)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2012)
مهاجر بن أبي مسلم الأنصاري روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده فھو مستور وإليه أشار الحافظ ابن حجر في التقريب (6925) وأخطأ صاحبا التحرير فقالا : ’’ صدوق حسن الحديث ‘‘ !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2012)
مهاجر بن أبي مسلم الأنصاري روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده فھو مستور وإليه أشار الحافظ ابن حجر في التقريب (6925) وأخطأ صاحبا التحرير فقالا : ’’ صدوق حسن الحديث ‘‘ !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
حدیث نمبر: 3882
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جُدَامَةَ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذُكِّرْتُ أَنَّ الرُّومَ، وَفَارِسَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ"، قَالَ مَالِكٌ: الْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے قصد کر لیا تھا کہ «غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا“۔ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3882]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدہ جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرا ارادہ ہوا کہ دودھ پلانے کے ایام میں مباشرت سے منع کر دوں، مگر مجھے یاد دلایا گیا کہ رومی اور فارسی لوگ ایسا کرتے ہیں، مگر ان کے بچوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ” «الْغِيلَةُ» (غیلہ) یہ ہے کہ جس زمانے میں عورت بچے کو دودھ پلاتی ہو اس کا شوہر اس سے مباشرت کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 24 (1442)، سنن الترمذی/الطب 27 (2076)، سنن النسائی/النکاح 54 (3328)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (2011)، (تحفة الأشراف: 15786)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع 3 (16)، مسند احمد (6/361، 434)، سنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلی حدیث سے «غیلہ» یعنی عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو تو ان دنوں میں جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اور دوسری حدیث سے جواز نکلتا ہے، مگریہ اسی صورت میں ہے کہ اولاد کو نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو، اگر نقصان پہنچنے کا ڈر ہو تو ایسا کرنا ناجائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1442)
17. باب فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ
باب: تعویذ لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ"، قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي، فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَاكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جھاڑ پھونک (منتر) ۱؎ گنڈا (تعویذ) اور تولہ ۲؎ شرک ہیں“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو میرا درد بند ہو جاتا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3883]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دم جھاڑ، گنڈے، منکے اور جادو کی چیزیں یا تحریریں شرک ہیں۔“ ان کی اہلیہ نے کہا: ”آپ یہ کیوں کر کہتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میری آنکھ درد کی وجہ سے گویا نکلی جاتی تھی، تو میں فلاں یہودی کے پاس جاتی اور وہ مجھے دم کرتا تھا۔ جب وہ دم کرتا تو میرا درد رک جاتا تھا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ شیطان کی کارستانی ہوتی تھی۔ وہ تیری آنکھ میں اپنی انگلی مارتا تھا، تو جب وہ (یہودی) دم کرتا تو (شیطان) باز آ جاتا تھا۔ حالانکہ تجھے یہی کچھ کہنا کافی تھا، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے رب! دکھ دور کر دے، شفاء عنایت فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے سوا کہیں کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء عنایت فرما جو کوئی دکھ باقی نہ رہنے دے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطب 39 (3530)، (تحفة الأشراف: 9643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/381) (ضعیف) (الصحیحة: 2972، وتراجع الألباني: 142)»
وضاحت: ۱؎: جھاڑ پھونک اور منتر سے مراد وہ منتر ہے جو عربی میں نہ ہو، اور جس کا معنی و مفہوم بھی واضح نہ ہو، لیکن اگر اس کا مفہوم سمجھ میں آئے، اور وہ اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو تو مستحب ہے، جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں ان کو دعاؤں کے سلسلے میں بڑی احتیاط کرنی چاہئے، اور اس سلسلے میں اسلامی آداب کا لحاظ ضروری ہے۔
۲؎: ایک قسم کا جادو ہے جسے دھاگہ یا کاغذ میں عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
۲؎: ایک قسم کا جادو ہے جسے دھاگہ یا کاغذ میں عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ابن ماجه (3530)
الأعمش عنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
و للحديث طريق صحيح مختصر في المستدرك (217/4 ح 7505،اتحاف المھرة 10/ 453) عن قيس بن السكن الأسدي قال : ’’ دخل عبد اللّٰه بن مسعود رضي اللّٰه عنه علي امرأة فرأي عليھا حرزًا من الحمرة فقطعه قطعًا عنيفًا ثم قال : إن آل عبد اللّٰه عن الشرك أغنياء،و قال : كان مما حفظنا عن النبي ﷺ أن الرقي والتمائم والتولية من الشرك‘‘ و صححه الحاكم ووافقه الذهبي وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
ضعيف
ابن ماجه (3530)
الأعمش عنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
و للحديث طريق صحيح مختصر في المستدرك (217/4 ح 7505،اتحاف المھرة 10/ 453) عن قيس بن السكن الأسدي قال : ’’ دخل عبد اللّٰه بن مسعود رضي اللّٰه عنه علي امرأة فرأي عليھا حرزًا من الحمرة فقطعه قطعًا عنيفًا ثم قال : إن آل عبد اللّٰه عن الشرك أغنياء،و قال : كان مما حفظنا عن النبي ﷺ أن الرقي والتمائم والتولية من الشرك‘‘ و صححه الحاكم ووافقه الذهبي وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
حدیث نمبر: 3884
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3884]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم جھاڑ صرف نظرِ بد میں ہے یا زہریلے ڈنک میں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 15 (2057)، (تحفة الأشراف: 10830)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/436، 438، 446)، صحیح البخاری/ الطب 17 (5705)، موقوفًا (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4557)
مشكوة المصابيح (4557)