سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في الكى
باب: داغنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمُّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ يَسْمَعُ تَسْلِيمَ الْمَلَائِكَةِ، فَلَمَّا اكْتَوَى انْقَطَعَ عَنْهُ، فَلَمَّا تَرَكَ رَجَعَ إِلَيْهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا، اور ہم نے داغ لگایا تو نہ تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا، نہ وہ ہمارے کسی کام آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ فرشتوں کا سلام سنتے تھے جب داغ لگوانے لگے تو سننا بند ہو گیا، پھر جب اس سے رک گئے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے (یعنی پھر ان کا سلام سننے لگے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3865]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا ہے، پس ہم نے داغ لگوائے مگر یہ کامیاب رہے نہ مفید ثابت ہوئے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”سیدنا عمران رضی اللہ عنہ ملائکہ کا سلام سنا کرتے تھے۔ جب انہوں نے داغ لگوائے تو یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ پھر جب چھوڑ دیا تو پھر سے سلام سننے لگے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10845)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 10 (2094)، سنن ابن ماجہ/الطب 23 (3491)، مسند احمد (4/444، 446) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله عند مسلم (1226)
أصله عند مسلم (1226)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2049
| نهى عن الكي |
جامع الترمذي |
2049
| نهينا عن الكي |
سنن أبي داود |
3865
| نهى عن الكي فاكتوينا فما أفلحن ولا أنجحن |
سنن ابن ماجه |
3490
| نهى عن الكي فاكتويت فما أفلحت ولا أنجحت |
Sunan Abi Dawud Hadith 3865 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي