🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. بَابُ: هَلْ تُحِدُّ الْمَرْأَةُ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا
باب: کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2086]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کے سوا کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 9 (1490)، سنن النسائی/الطلاق 55 (3533)، (تحفة الأشراف: 15817)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (104)، مسند احمد (6/184، 286، 287) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا امْرَأَةٌ تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار (خوشبو) لگا لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2087]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، مگر بیوی اپنے خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ (اس دوران میں) وہ رنگین کپڑا نہ پہنے، مگر کچھ سفید کچھ رنگین کپڑا پہن سکتی ہے، اور سرمہ نہ لگائے، اور خوشبو نہ لگائے مگر (ماہواری سے فارغ ہو کر) غسل کے موقع پر تھوڑی سی «عُودُ الْہِنْدِيِّ» عود ہندی یا «أَظْفَارٍ» اظفار خوشبو استعمال کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 12 (1313، الجنائز 30 (1278)، الطلاق 47 (5339)، 49 (5342)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (938)، سنن ابی داود/الطلاق 46 (2302، 2303)، سنن النسائی/الطلاق 64 (3564)، 65 (3566)، (تحفة الأشراف: 18134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/65، 85، 408)، سنن الدارمی/ الطلاق 13 (2332) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شرم گاہ کی بدبو دور کرنے کے لئے تھوڑا سا خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: الرَّجُلِ يَأْمُرُهُ أَبُوهُ بِطَلاَقِ امْرَأَتِهِ
باب: اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2088]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے وہ پسند تھی لیکن ابا جان اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الادب 129 (5138)، سنن الترمذی/الطلاق 13 (1189)، (تحفة الأشراف: 6701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/42، 53، 157) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا أَمَرَهُ أَبُوهُ أَوْ أُمُّهُ شَكَّ شُعْبَةُ، أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ، فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى وَيُطِيلُهَا وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى وَالِدَيْكَ أَوِ اتْرُكْ".
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2089]
حضرت ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کے والد یا والدہ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس نے سو غلام آزاد کرنے کی نذر مان لی۔ (اگر وہ بیوی کو طلاق دے تو سو غلام آزاد کرے گا۔) وہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ ضحیٰ (چاشت) کی نماز پڑھ رہے ہیں اور اسے طویل کرتے جاتے ہیں۔ (ظہر کی نماز کے بعد بھی) انہوں نے ظہر سے عصر تک (نفل) نماز ادا کی۔ (آخر جب موقع ملا تو) اس نے ان سے مسئلہ پوچھا۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر اور والدین کی فرمانبرداری کر۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ فرمان) سنا ہے: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ» باپ جنت کا درمیان والا دروازہ ہے۔ اب (تمہاری مرضی ہے) اپنے والدین کا خیال رکھو یا نہ رکھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البر و الصلة 3 (1900)، (تحفة الأشراف: 10948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/196، 197، 6/445، 447، 451) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت ایسی عمدہ چیز ہے، جن کی اطاعت سے جنت ملتی ہے، اور ظاہر ہے کہ جنت کی آدمی کو کتنی فکر ہونی چاہئے، پس ویسے ہی ماں باپ کی اطاعت کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں