🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ: الْمُخْتَلِعَةِ تَأْخُذُ مَا أَعْطَاهَا
باب: شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2056
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ، وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ لَا أُطِيقُهُ بُغْضًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلَا يَزْدَادَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں (اپنے شوہر) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر (شوہر کی ناشکری) کو ناپسند کرتی ہوں، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں، اور زیادہ نہ لیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2056]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اللہ کی قسم! میں ثابت (بن قیس بن شماس) رضی اللہ عنہ کے دین اور اخلاق (کی کسی خرابی) کی وجہ سے ناراض نہیں لیکن مجھے مسلمان ہوتے ہوئے (خاوند کی) ناشکری کرنا اچھا نہیں لگتا۔ مجھے وہ اتنے برے لگتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اسے اس کا باغ واپس دے دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان سے باغ واپس لے لیں اور زائد کچھ نہ لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6205، ومصباح الزجاجة: 6205)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 12 (5273، 5274)، سنن ابی داود/الطلاق 18 (22289)، سنن الترمذی/الطلاق 10 (1185)، سنن النسائی/الطلاق 34 (3492) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیح سند سے دارقطنی کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ثابت نے مہر میں اس کو ایک باغ دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کا باغ واپس کر دیتی ہو جو اس نے تم کو دیا ہے؟ تو انہوں کہا: ہاں، باغ بھی دیتی ہوں اور کچھ زیادہ بھی دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ نہیں، صرف باغ لوٹا دو، اس نے کہا: بہت اچھا۔ معلوم ہوا کہ شوہر نے جو بیوی کو دیا خلع کے بدلے اس سے زیادہ لینا جائز نہیں، علی، طاؤس، عطاء، زہری، ابوحنیفہ، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ اور جمہور کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بھی لینا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فلا جناح عليهما فيما افتدت به» ، اور یہ عام ہے، قلیل اور کثیر دونوں کو شامل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں سے اس کی تخصیص ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن أبي عروبة مدلس
و قتادة مدلس وعنعنا
و حديث البخاري (5273) يغني عنه من غير قوله: ’’ولا يزداد ‘‘ فإنه ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2057]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت حبیبہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ خوش شکل آدمی نہ تھے۔ حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قسم ہے اللہ کی! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو جب وہ میرے پاس آئے تھے، میں ان کے چہرے پر تھوک دیتی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ (راویِ حدیث نے کہا:) چنانچہ انہوں نے ان کا باغ واپس کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8677، ومصباح الزجاجة: 726)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن صحیح احادیث اس سے مستغنی کر دیتی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس وضعفه البوصيري لتدليس الحجاج
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ
باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2058
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَ:" قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟، فَقَالَ: لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً، قَالَتْ: وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آ جائے، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کر لیا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2058]
حضرت عبادہ بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے انہیں کہا: مجھے اپنا واقعہ سنائیے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے خاوند سے خلع لے لیا، پھر میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم پر کوئی عدت نہیں، سوائے اس صورت کے کہ اس نے تجھ سے تھوڑا عرصہ پہلے مقاربت کی ہو، تب تم اس کے پاس ٹھہری رہو حتی کہ ایک حیض آ جائے۔ حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس مقدمے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مریم مغالیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دیا تھا۔ وہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے خلع لے لیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطلاق 53 (3528)، (تحفة الأشراف: 15836) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نسائی میں ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ ثابت کی عورت کے قصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو تمہارا اس کے پاس ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑ دو ثابت نے کہا: اچھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم دیا۔ اور یہ کئی طریق سے مروی ہے، ان حدیثوں سے یہ نکلتا ہے کہ خلع کرانے والی کی عدت ایک حیض ہے اور خلع نکاح کا فسخ ہے، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اگر خلع طلاق ہوتا تو اس کی عدت تین حیض ہوتی، ابوجعفر النحاس نے الناسخ والمنسوخ میں اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور یہی دلائل کی روشنی میں زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: الإِيلاَءِ
باب: ایلاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2059
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَمَكَثَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا كَانَ مِسَاءَ ثَلَاثِينَ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، فَقَالَ:" شَهْرٌ هَكَذَا يُرْسِلُ أَصَابِعَهُ فِيهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَشَّهْرُ هَكَذَا وَأَرْسَلَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَمْسَكَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الثَّالِثَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے کہا: آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا، اس طرح کل تیس دن ہوئے، پھر فرمایا: اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2059]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ آپ ایک مہینہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس تشریف نہیں لے جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے۔ جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ میرے ہاں تشریف لے آئے۔ میں نے عرض کی: آپ نے قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے۔ (اور ابھی انتیس دن پورے ہوئے ہیں، صبح تیسواں دن ہو گا۔) تو آپ نے تین بار انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مہینہ اتنا ہوتا ہے (تیس دن کا۔) اور (دوسری بار) ساری انگلیوں سے (دوبار) اشارہ فرما کر تیسری بار ایک انگلی بند کی، اور فرمایا: اور مہینہ اتنا بھی ہوتا ہے (انتیس دن۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17919، ومصباح الزجاجة: 727)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/33، 105) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2060
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا آلَى لِأَنَّ زَيْنَبَ رَدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ أَقْمَأَتْكَ فَغَضِبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآلَى مِنْهُنَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا، اس لیے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب نے آپ کی بےقدری کی ہے، یہ سن کر آپ غصہ ہوئے اور ان سب سے ایلاء کر لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2060]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ایلاء کیا تھا کہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا۔ (اس پر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کی عظمت و شان کا خیال نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ نے ان (سب) سے ایلاء کر لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17890، ومصباح الزجاجة: 728) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حارثہ بن محمد بن ابی الرجال ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج و ملال ہوا، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا، آپ نے سب بیویوں کو اس میں سے حصے بھیجے، زینب رضی اللہ عنہا نے وہ حصہ واپس کر دیا، آپ نے اور زیادہ کر کے بھیجا جب بھی پھیر دیا، تب آپ غصہ ہوئے، اور قسم کھائی کہ میں تم سب کے پاس ایک مہینہ تک نہ آؤں گا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور ذبح کیا تھا، اس کا گوشت سب بیویوں کو بھیجا جب انہوں نے نہ لیا تو اس وقت آپ کو غصہ آیا۔ اور بعضوں نے کہا: ایلاء کا سبب یہ نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ سے خرچ مانگتی تھیں، اور تقاضا کرتی تھیں، چنانچہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آئے، انہوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا، پھر یہ آیت تخییر اتری۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حارثه بن أبي الرجال: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَى مِنْ بَعْضِ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ رَاحَ أَوْ غَدَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2061]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے ایک مہینے کے لیے ایلاء کیا۔ جب انتیس دن ہو گئے تو (تیسویں دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام کے وقت (امہات المومنین کے پاس) تشریف لے گئے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! ابھی انتیس دن گزرے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 11 (1910)، صحیح مسلم/الصیام 4 (1085)، (تحفة الأشراف: 18201)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/315) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: الظِّهَارِ
باب: ظہار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2062
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لَا أَرَى رَجُلًا كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُ، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ، فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَوَاقَعْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي، فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، وَقُلْتُ لَهُمْ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ إِذًا يُنْزِلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِينَا كِتَابًا، أَوْ يَكُونَ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلٌ: فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهُ، وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ لِجَرِيرَتِكَ، اذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ بِذَاكَ"، فَقُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، وَهَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَابِرٌ لِحُكْمِ اللَّهِ عَلَيَّ، قَالَ:" فَأَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ دَخَلَ عَلَيَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلَاءِ إِلَّا بِالصَّوْمِ؟، قَالَ:" فَتَصَدَّقْ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا عَشَاءٌ، قَالَ:" فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ: فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا".
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا، میں اس پہ چڑھ بیٹھا، اور اس سے مباشرت کر لی، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، تو انہوں نے کہا: ہم نہیں پوچھیں گے، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال بیان کرو۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: تم نے یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے روزے ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صدقہ دو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دیدے، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2062]
حضرت سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے عورتوں سے بہت رغبت تھی۔ میرے خیال میں کوئی مرد اتنی کثرت سے صحبت نہیں کرتا ہو گا جس کثرت سے میں کرتا تھا۔ جب رمضان شروع ہوا تو میں نے رمضان ختم ہونے تک بیوی سے ظہار کر لیا۔ ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ کھل گیا۔ میں بے قابو ہو کر اس سے ہم بستر ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی قوم (کے کچھ افراد) کے پاس جا کر اپنا واقعہ سنایا اور انہیں کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مسئلہ) پوچھ دیں (کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟) انہوں نے کہا: ہم لوگ تو نہیں پوچھیں گے۔ (اگر ہم نے پوچھا تو) اللہ تعالیٰ ہمارے بارے میں قرآن مجید (کی آیات) نازل فرما دے گا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ (ناراضی والے) الفاظ ارشاد فرما دیں گے جو ہمارے لیے عار کا باعث بنے رہیں گے، اس لیے ہم تیرے گناہ کے بدلے تجھی کو بھیجتے ہیں۔ تو خود ہی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا معاملہ عرض کر۔ (حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں روانہ ہوا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور اپنا واقعہ عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے یہ کام کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے یہ کام کیا ہے اور اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ اللہ کا میرے بارے میں جو حکم ہو گا، اس پر صبر (اور اسے دل سے قبول) کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن (غلام یا لونڈی) آزاد کر دو۔ میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے! میں تو صرف اپنی اس گردن کا مالک ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ لو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر جو آزمائش آئی ہے، یہ بھی روزوں ہی کی وجہ سے آئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب صدقہ کر۔ یا فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے! ہم نے تو یہ رات اسی طرح گزاری ہے کہ ہمارے پاس شام کا کھانا بھی نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ بنو زریق کی زکاۃ جمع کرنے والے عامل کے پاس جا، اسے کہہ کہ وہ (اپنے قبیلے کی) زکاۃ تجھے دے دے۔ (اس میں سے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے اور باقی سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 17 (2213)، سنن الترمذی/الطلاق 20 (1198، 1200)، (تحفة الأشراف: 4555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/37، 5/436)، سنن الدارمی/الطلاق 9 (2319) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 2091، وصحیح ابی داود: 1942 - 1949) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، کفارہ ادا ہو گیا، اور مال بھی ہاتھ آ گیا، یہی حال ہوتا ہے اس کا جو سچائی اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی کی درگاہ میں حاضر ہو، اور اس پر اجماع ہے کہ ظہار کا کفارہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب مرد اپنی بیوی سے جماع کا ارادہ کرے، اور اگر کفارے سے پہلے جماع کر لیا تو گنہگار ہو گا، لیکن ایک ہی کفارہ واجب ہو گا اور یہی حق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2213) ترمذي (1198،3299)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ، إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَ شَبَابِي، وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي، وَانْقَطَعَ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ سورة المجادلة آية 1.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله» (سورة المجادلة: 1) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2063]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ بڑی برکتوں والا ہے جو سب کچھ سنتا ہے۔ جب حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاوند (حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ) کی شکایت کر رہی تھیں تو میں بھی ان کی باتیں سن رہی تھی لیکن کچھ باتیں (قریب ہونے کے باوجود) میری سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں: اے اللہ کے رسول! (میرا خاوند) میری جوانی کھا گیا، میں نے اس کے لیے (بچے جن جن کر) پیٹ خالی کر دیا۔ اب جب کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں اور مجھے اولاد ہونا بند ہو گئی ہے تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے۔ یا اللہ! میں تجھی سے شکایت کرتی ہوں۔ وہ ابھی وہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہو گئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1] یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی... [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التوحید 9 (7385 تعلیقاً)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3490)، (تحفة الأشراف: 16332)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/46) (دیکھئے: حدیث نمبر: 188) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اپنی مصیبت اور دکھ کا شکوہ کر رہی تھی، تب اللہ تعالی نے یہ حکم اتارا، اور ظہار کا کفارہ بیان فرمایا، اور عورت کی داد رسی کی شوہر نے کفارہ دے کر پھر اس کو بیوی کی طرح سمجھا، اور اس سے صحبت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: الْمُظَاهِرُ يُجَامِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ
باب: ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ: كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ".
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہار کرنے والے شخص کے متعلق جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر لے فرمایا: اس پر ایک ہی کفارہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2064]
حضرت سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ظہار کرنے والا جو مرد کفارہ ادا کرنے سے پہلے مباشرت کر لے، اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کے ذمے) ایک ہی کفارہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرحدیث (رقم: 2062) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (2062)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَأَمَرَهُ أَلَّا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2065]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے ہم بستر ہو گیا، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! چاندنی میں میری نظر اس کی پازیبوں پر پڑی، پھر مجھے اپنے آپ پر قابو نہ رہا، اور میں اس سے مباشرت کر بیٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور اسے حکم دیا کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 17 (2223)، سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487)، (تحفة الأشراف: 6036) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں حکم بن ابان ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں