سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ
باب: مشک کے منہ سے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3420
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3420]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 24 (5627، 5628)، (تحفة الأشراف: 14245)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 247، 327، 353، 487)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2164) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہو جانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3421]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 24 (5629)، (تحفة الأشراف: 6056)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 14 (3719)، الأطعمة 25 (3786)، سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1825)، سنن النسائی/الضحایا 43 (4453)، مسند احمد (1/226، 241، 293، 339)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2163) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
21. بَابُ: الشُّرْبِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3422
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ قَائِمًا" , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِكْرِمَةَ , فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا فَعَلَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3422]
امام شعبی رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے پی لیا۔“ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے عکرمہ رحمہ اللہ کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 76 (1637)، الأشربة 16 (5617)، صحیح مسلم/الأشربة 15 (2027)، ولیس عندہ ''فذکرت''، سنن الترمذی/الأشربة 12 (1882)، الشمائل 31 (197، 199)، سنن النسائی/الحج 165 (2967)، (تحفة الأشراف: 5767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 220، 242، 243، 249، 287، 342، 369، 372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیا، یہ عکرمہ نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی، ورنہ مشہور روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے کھڑے ہی پیا، اور بعض علماء نے کہا کہ زمزم کا پانی اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے رہ کر پینا مستحب ہے، اور باقی کل پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، اور احتمال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو زمزم کا پانی کھڑے رہ کر پیا یہ عذر کی وجہ سے ہو کہ وہاں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ کھڑے رہ کر پانی پینا پہلے منع تھا، اس کی ممانعت منسوخ ہو گئی، اور بعضوں نے کہا: پہلے جائز تھا، پھر منع ہوا، جابر رضی اللہ عنہ سے ایسا مروی ہے، غرض بہتر یہی ہے بیٹھ کر پانی پیئے، مجبوری کی بات اور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ , عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ , فَشَرِبَ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ" , فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ , تَبْتَغِي بَرَكَةَ مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑ ے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3423]
حضرت کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان کے پاس ایک مشک لٹکی ہوئی تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر اس سے پانی پی لیا۔ حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک کی برکت کے خیال سے مشک کا منہ کاٹ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 18 (1892)، (تحفة الأشراف: 18049)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/434) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3424
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 14 (2024)، سنن الترمذی/الأشربة 11 (1879)، (تحفة الأشراف: 1180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/131، 182، 277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
22. بَابُ: إِذَا شَرِبَ أَعْطَى الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ
باب: آدمی مشروب پی کر داہنی طرف والے کو دے پھر وہ اپنے داہنی طرف والے کو۔
حدیث نمبر: 3425
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ , وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ , ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ , وَقَالَ:" الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3425]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک اعرابی صحابی تھے اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر اعرابی صحابی کو عطا کیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا (زیادہ حق دار ہے) پھر اس کے بعد دائیں طرف والا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 14 (5612)، 18 (5619)، المساقاة 1 (2352)، الھبة 4 (2571)، صحیح مسلم/الأشربة 17 (2029)، سنن ابی داود/الأشربة 19 (3726)، سنن الترمذی/الأشربة 19 (1893)، (تحفة الأشراف: 1528)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 9 (17)، مسند احمد (3/110، 113، 197)، سنن الدارمی/الأشربة 18 (2162) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حالانکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3426
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ , وَعَنْ يَسَارِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْقِيَ خَالِدًا؟" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى نَفْسِي أَحَدًا , فَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَشَرِبَ , وَشَرِبَ خَالِدٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3426]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور بائیں طرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں خالد کو پینے کو دوں؟“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا اپنے سے پہلے کسی کو دینا پسند نہیں کرتا۔“ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے لے کر (دودھ) پیا، اور (ان کے بعد) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5858، ومصباح الزجاجة: 1185)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 21 (3730)، سنن الترمذی/الدعوات 55 (3455)، مسند احمد (1/220، 225) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کم عمر بچے تھے، اور خالد رضی اللہ عنہ بڑی عمر والے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہے کیونکہ اصولاًا ور قاعدے سے پہلے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہو سکتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق طرفه (3322)
وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5620،مسلم: 3030) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
ضعيف
انظر الحديث السابق طرفه (3322)
وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5620،مسلم: 3030) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
23. بَابُ: التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ
باب: پانی کے برتن میں سانس لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3427
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الْإِنَاءَ , ثُمَّ لِيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3427]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص (پانی وغیرہ) پیے تو اسے برتن میں سانس نہیں لینا چاہیے۔ اگر دوبارہ پینا چاہے تو برتن (منہ سے) ہٹائے، پھر چاہے تو دوبارہ (مزید) پی لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15490، ومصباح الزجاجة: 1186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ التَّنَفُّسِ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأشربة 20 (3728)، سنن الترمذی/الأشربة 15 (1888)، (تحفة الأشراف: 6056)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220ھ 309، 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
24. بَابُ: النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ
باب: مشروب میں پھونکنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3429
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3429]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(انظر حدیث رقم: 3288)، (تحفة الأشراف: 6149) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث (3288)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
إسناده ضعيف
انظر الحديث (3288)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500