سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: تَخْمِيرِ الإِنَاءِ
باب: برتن ڈھانک کر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ , وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ , وَأَغْلِقُوا الْبَابَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً , وَلَا يَفْتَحُ بَابًا , وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ , فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3410]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن ڈھانپ دیا کرو، مشکیزے کا منہ باندھ دیا کرو، چراغ بجھا دیا کرو اور دروازہ بند کر دیا کرو کیونکہ شیطان (منہ بند) مشک کو نہیں کھولتا، دروازہ نہیں کھولتا نہیں کھولتا اور (ڈھانپے ہوئے) برتن کو نہیں کھولتا۔ اگر کسی کو برتن پر رکھنے کے لیے لکڑی (درخت کی پتلی شاخ وغیرہ) کے سوا کچھ نہ ملے تو اسے ہی اللہ کا نام لے کر رکھ دے۔ (چراغ بجھا دیا کرو) اس لیے کہ ننھی شریر چوہیا گھر کو آگ لگا کر (گھر کو یا گھر والوں کو) جلا دیتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 12 (2012)، سنن ابی داود/الأشربة 22 (3731)، سنن الترمذی/الأدب 74 (2857)، (تحفة الأشراف: 2924)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 22 (5623)، مسند احمد (3/355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چوہیا چراغ کی بتی منہ میں پکڑ کر لے جاتی ہے، اور اس سے گھر میں آگ لگ جاتی ہے، تو سوتے وقت چراغ بجھا دینا ضروری ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ پانی کا برتن ڈھانپ کر رکھنے میں ایک تو شیطان سے حفاظت ہے، دوسرے وباء سے حفاظت ہے جو سال میں ایک رات میں آسمان سے اترتی ہے، اور کھلے برتن میں سما جاتی ہے، تیسرے نجاستوں سے حفاظت ہے، چوتھے کیڑے مکوڑوں سے حفاظت ہے، اور کبھی پانی میں کیڑا ہوتا ہے، اور آدمی غفلت میں پی جاتا ہے، اور نقصان اٹھاتا ہے اس لئے برتن ڈھانپنا بہت ضروری ہے، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب رات کا ایک حصہ گزر جائے، تو اپنے بچوں کو باہر جانے سے روک رکھو، غرض اس حدیث میں دین اور دنیا دونوں کے فائدے جمع ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3411
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ , وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ , وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کر دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3411]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”برتن ڈھانپنے کا، مشک کا منہ باندھنے کا اور برتن اوندھے کر کے رکھنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12639، ومصباح الزجاجة: 1181)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/367)، سنن الدارمی/الأشربة 26 (2178) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ خِرِّيتٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَصنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً: إِنَاءً لِطَهُورِهِ , وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ , وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3412]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (پانی کے) برتن ڈھانپ کر رکھتی تھی۔ ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استنجا کے لیے، ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک (اور وضو) کے لیے اور ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16237، ومصباح الزجاجة: 1182) (ضعیف)» (حریش بن خریت ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (361)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
ضعيف
انظر الحديث السابق (361)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
17. بَابُ: الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ
باب: چاندی کے برتن میں پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ , إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3413]
اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں (پانی یا کوئی اور مشروب) پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ ڈال رہا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 28 (5634)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2065)، (تحفة الأشراف: 18182)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 7 (11)، مسند احمد (6/98، 301، 302، 304، 306)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّة وَقَالَ:" هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا , وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3414]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”وہ دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 33 (5303)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 39، 396، 398، 400، 408)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2175، 2176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ , فَكَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3415]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ ڈال رہا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17865، ومصباح الزجاجة: 1183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/98) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
18. بَابُ: الشُّرْبِ بِثَلاَثَةِ أَنْفَاسٍ
باب: پانی تین سانس میں پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3416
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا , وَزَعَمَ أَنَسٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن میں تین بار سانس لیتے تھے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں تین بار سانس لیتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 66 (5631)، صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028)، سنن الترمذی/الأشربة 13 (1884)، (تحفة الأشراف: 498)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 19 (3728)، مسند احمد (3/114، 119، 128، 185)، سنن الدارمی/الأشربة 20 (2166) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کر لے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3417
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو آپ نے دوبار سانس لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3417]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی) پیا تو اس میں دو بار سانس لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 14 (1886)، (تحفة الأشراف: 6347)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/284، 285) (ضعیف)» (رشدین بن کریب ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1886)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
إسناده ضعيف
ترمذي (1886)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
19. بَابُ: اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ
باب: مشک کا منہ باہر نکال کر پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3418
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ، اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ , أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3418]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مشکیزوں کے منہ اوپر کی طرف موڑ کر ان کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 23 (5625، 5626)، صحیح مسلم/الأشربة 13 (2023)، سنن ابی داود/الأشربة 15 (3720)، سنن الترمذی/الأشربة 17 (1890)، (تحفة الأشراف: 4138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 67، 69، 93)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2195) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ" , وَإِنَّ رَجُلًا بَعْدَ مَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ , فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3419]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ اوپر کی طرف موڑ کر ان کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے بعد ایک آدمی رات کو اٹھا اور اس نے (پانی پینے کے لیے) مشکیزے کا منہ الٹایا تو اس میں سے سانپ نکل آیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6099، ومصباح الزجاجة: 1184) (ضعیف)» (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1126)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زمعة بن صالح ضعيف
و روي الحاكم (4/ 140 ح 7213) بسند صحيح عن أبي ھريرة رضي اللّٰه عنه: ’’ أن رسول اللّٰه ﷺ نھي أن يشرب من في السقاء ‘‘ قال أيوب (السختياني،الراوي عن عكرمة عن أبي ھريرة): ’’ فأنبئت أن رجلاً شرب من في السقاء فخرجت حية ‘‘ و صححه علي شرط البخاري ووافقه الذهبي
و رواه البخاري (5628) مختصرًا دون قول أيوب رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
إسناده ضعيف
زمعة بن صالح ضعيف
و روي الحاكم (4/ 140 ح 7213) بسند صحيح عن أبي ھريرة رضي اللّٰه عنه: ’’ أن رسول اللّٰه ﷺ نھي أن يشرب من في السقاء ‘‘ قال أيوب (السختياني،الراوي عن عكرمة عن أبي ھريرة): ’’ فأنبئت أن رجلاً شرب من في السقاء فخرجت حية ‘‘ و صححه علي شرط البخاري ووافقه الذهبي
و رواه البخاري (5628) مختصرًا دون قول أيوب رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499