سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب : إذا شرب أعطى الأيمن فالأيمن
باب: آدمی مشروب پی کر داہنی طرف والے کو دے پھر وہ اپنے داہنی طرف والے کو۔
حدیث نمبر: 3426
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ , وَعَنْ يَسَارِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْقِيَ خَالِدًا؟" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى نَفْسِي أَحَدًا , فَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَشَرِبَ , وَشَرِبَ خَالِدٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3426]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور بائیں طرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں خالد کو پینے کو دوں؟“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا اپنے سے پہلے کسی کو دینا پسند نہیں کرتا۔“ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے لے کر (دودھ) پیا، اور (ان کے بعد) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5858، ومصباح الزجاجة: 1185)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 21 (3730)، سنن الترمذی/الدعوات 55 (3455)، مسند احمد (1/220، 225) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کم عمر بچے تھے، اور خالد رضی اللہ عنہ بڑی عمر والے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہے کیونکہ اصولاًا ور قاعدے سے پہلے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہو سکتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق طرفه (3322)
وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5620،مسلم: 3030) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
ضعيف
انظر الحديث السابق طرفه (3322)
وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5620،مسلم: 3030) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← ابن جريج المكي | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3426
| أتأذن لي أن أسقي خالدا قال ما أحب أن أوثر بسؤر رسول الله على نفسي أحدا فأخذ ابن عباس فشرب وشرب خالد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3426 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3426
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہر اچھے کام میں دایئں جانب کو بایئں جانب پر ترجیح حاصل ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تبرک حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینے کی خواہش ظاہر فرمائی اس میں بڑی عمر والے شخص کا احترام ملحوظ تھا۔
(3)
اسی مقصد کے لئے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت طلب فرمائی کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔
لہٰذا ان کی اجازت کے بغیر کسی کو دینا مناسب نہ تھا۔
نیز اس میں بچوں پر شفقت اور ان کے تحفظ کا اظہار ہے۔
(4)
جب عزت افزائی کا کوئی موقع حاصل ہورہا ہو۔
اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
لیکن اس میں ایسا انداز اختیار نہ کیاجائے۔
کہ دوسروں کی تحقیر محسوس ہو۔
(5)
ہمارے فاضل محقق کے نزدیک یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کے بغیر صحیح ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہر اچھے کام میں دایئں جانب کو بایئں جانب پر ترجیح حاصل ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تبرک حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینے کی خواہش ظاہر فرمائی اس میں بڑی عمر والے شخص کا احترام ملحوظ تھا۔
(3)
اسی مقصد کے لئے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت طلب فرمائی کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔
لہٰذا ان کی اجازت کے بغیر کسی کو دینا مناسب نہ تھا۔
نیز اس میں بچوں پر شفقت اور ان کے تحفظ کا اظہار ہے۔
(4)
جب عزت افزائی کا کوئی موقع حاصل ہورہا ہو۔
اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
لیکن اس میں ایسا انداز اختیار نہ کیاجائے۔
کہ دوسروں کی تحقیر محسوس ہو۔
(5)
ہمارے فاضل محقق کے نزدیک یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کے بغیر صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3426]
Sunan Ibn Majah Hadith 3426 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي