🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ:
باب: اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَتَحَامَلَ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمُ الْيَوْمَ لَمِائَةَ أَلْفٍ".
ہم سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ہم میں سے بہت سے بازار جا کر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتے اور اس طرح ایک مد (غلہ یا کھجور وغیرہ) حاصل کرتے۔ (جسے صدقہ کر دیتے) لیکن آج ہم میں سے بہت سوں کے پاس لاکھ لاکھ (درہم یا دینار) موجود ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1416]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقے کا حکم دیتے تو ہم میں سے کوئی بازار جاتا اور بوجھ اٹھا کر مزدوری کرتا، اجرت میں جو ایک مد ملتا اسے صدقہ کر دیتا، مگر آج یہ حالت ہے کہ بعض انہی لوگوں کے پاس ایک لاکھ درہم موجود ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ سبیعی نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی (مگر ضرور صدقہ کر کے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو)۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1417]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ تمہیں کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا، فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ".
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بیان کیا ‘ ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1418]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک عورت سوال کرتی ہوئی آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، اس وقت میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا، میں نے وہی کھجور اسے دے دی۔ اس نے اسے اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دیا اور خود اس سے کچھ نہ کھایا، پھر جب وہ چلی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا، تو یہ اس کے لیے آگ سے پردہ بن جائیں گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ:
باب: تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1419
وَصَدَقَةُ الشَّحِيحِ الصَّحِيحِ لِقَوْلِهِ: {وَأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} الآيَةَ. وَقَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَ بَيْعٌ فِيهِ} الآيَةَ
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وأنفقوا مما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت‏» ”اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے“ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «يا أيها الذين آمنوا أنفقوا مما رزقناكم من قبل أن يأتي يوم لا بيع فيه‏» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: Q1419]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو۔ تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور امید ہو اور (اس صدقہ خیرات میں) ڈھیل نہ ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1419]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ صدقہ جو تندرستی کی حالت میں ہو جبکہ تجھ پر مال کی حرص کا بھی غلبہ ہو، تجھے ناداری کا اندیشہ بھی ہو اور تونگری کی خواہش بھی۔ اس وقت کا انتظار نہ کر جب دم حلق میں آ جائے تو اس وقت وصیت کرے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا لکھ دو، حالانکہ اب تو وہ از خود ہی فلاں (اور فلاں) کا ہو چکا ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11M. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا، فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَعَلِمْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَتْ طُولَ يَدِهَا الصَّدَقَةُ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ، وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ‘ ان سے فراس بن یحییٰ نے ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون جا کر ملے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہم نے بعد میں سمجھا کہ لمبے ہاتھ والی ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی سے تھی۔ اور سودہ رضی اللہ عنہا ہم سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملیں ‘ صدقہ کرنا آپ رضی اللہ عنہا کو بہت محبوب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1420]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بیویوں نے آپ سے عرض کیا: وفات کے بعد ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ کو ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا ہاتھ تم سب میں لمبا ہے۔“ چنانچہ انہوں نے چھڑی لے کر اپنے ہاتھ ناپنے شروع کر دیے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے بڑا نکلا (مگر سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی۔) تب ہم لوگوں نے سمجھ لیا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد خیرات کرنا تھا، چنانچہ وہ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا) ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملیں، انہیں صدقہ دینے کا بہت شوق تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ صَدَقَةِ الْعَلاَنِيَةِ:
باب: سب کے سامنے صدقہ کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1421-2
وَقَوْلِهِ: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة البقرة آية 274.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا «الذين ينفقون أموالهم بالليل والنهار سرا وعلانية‏» ”جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن میں پوشیدہ طور پر اور ظاہر ‘ ان سب کا ان کے رب کے پاس ثواب ملے گا ‘ انہیں کوئی ڈر نہیں ہو گا اور نہ انہیں کسی قسم کا غم ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: Q1421-2]

13. بَابُ صَدَقَةِ السِّرِّ:
باب: چھپ کر خیرات کرنا افضل ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1421
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ وَقَوْلِهِ: إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 271.
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ”ایک شخص نے صدقہ کیا اور اسے اس طرح چھپایا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اگر تم صدقہ کو ظاہر کر دو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر پوشیدہ طور پر دو اور دو فقراء کو تو یہ بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح خبردار ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: Q1421]

14. بَابُ إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى غَنِيٍّ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ:
باب: اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا (تو اس کو ثواب مل جائے گا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، وَعَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے (بنی اسرائیل میں سے) کہا کہ مجھے ضرور صدقہ (آج رات) دینا ہے۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (ناواقفی سے) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ آج رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ (آج رات) میں پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ دوبارہ صدقہ لے کر نکلا اور اس مرتبہ ایک فاحشہ کے ہاتھ میں دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو پھر لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات کسی نے فاحشہ عورت کو صدقہ دے دیا۔ اس شخص نے کہا اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے ‘ میں زانیہ کو اپنا صدقہ دے آیا۔ اچھا آج رات پھر ضرور صدقہ نکالوں گا۔ چنانچہ اپنا صدقہ لیے ہوئے وہ پھر نکلا اور اس مرتبہ ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں کی زبان پر ذکر تھا کہ ایک مالدار کو کسی نے صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے۔ میں اپنا صدقہ (لاعلمی سے) چور ‘ فاحشہ اور مالدار کو دے آیا۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) بتایا گیا کہ جہاں تک چور کے ہاتھ میں صدقہ چلے جانے کا سوال ہے۔ تو اس میں اس کا امکان ہے کہ وہ چوری سے رک جائے۔ اسی طرح فاحشہ کو صدقہ کا مال مل جانے پر اس کا امکان ہے کہ وہ زنا سے رک جائے اور مالدار کے ہاتھ میں پڑ جانے کا یہ فائدہ ہے کہ اسے عبرت ہو اور پھر جو اللہ عزوجل نے اسے دیا ہے ‘ وہ خرچ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1421]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے طے کیا کہ آج میں صدقہ دوں گا، جب وہ صدقہ لے کر نکلا تو اس نے لاعلمی میں ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کے وقت لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ ایک چور کو صدقہ دے دیا گیا ہے، اس شخص نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے میرے معبود! تعریف صرف تیرے لیے ہے“، اچھا میں آج پھر صدقہ دوں گا، چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اب (نادانستہ طور پر) ایک زانیہ کو دے دیا، صبح کے وقت لوگ پھر باتیں بنانے لگے کہ گزشتہ رات ایک زانیہ کو خیرات دی گئی، جس پر اس شخص نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے میرے معبود! سب تعریف تیرے ہی لیے ہے“، میرا صدقہ تو زانیہ کے ہاتھ لگ گیا، اچھا میں کچھ اور صدقہ دوں گا، چنانچہ وہ پھر صدقہ لے کر نکلا تو اس دفعہ (انجانے میں) ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کے وقت لوگوں میں پھر چرچا ہوا کہ ایک امیر آدمی کو صدقہ دے دیا گیا ہے۔ اس شخص نے کہا: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے میرے معبود! تعریف صرف تیرے لیے ہے“، میرا صدقہ ایک مرتبہ چور کو ملا، پھر ایک بدکار عورت کو، اس کے بعد ایک مالدار شخص کو۔ (آخر یہ ماجرا کیا ہے؟) چنانچہ اسے (خواب میں) ایک شخص ملا، اس نے بتایا کہ تمہارا (صدقہ قبول ہو گیا) جو صدقہ چور کو ملا تو ممکن ہے وہ چوری سے باز آ جائے، اسی طرح زانیہ کو جو صدقہ ملا تو شاید وہ زنا سے رک جائے اور جو صدقہ مالدار کو ملا تو ممکن ہے کہ وہ عبرت حاصل کرے اور جو اللہ نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهِ وَهُوَ لاَ يَشْعُرُ:
باب: اگر باپ ناواقفی سے اپنے بیٹے کو خیرات دیدے کہ اس کو معلوم نہ ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا , وَأَبِي , وَجَدِّي , وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي , وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبِي يَزِيدُ أَخْرَجَ دَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ مَا أَخَذْتَ يَا مَعْنُ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوجویریہ (حطان بن خفاف) نے بیان کیا کہ معن بن یزید نے ان سے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے والد اور دادا (اخفش بن حبیب) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ آپ نے میری منگنی بھی کرائی اور آپ ہی نے نکاح بھی پڑھایا تھا اور میں آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوا تھا۔ وہ یہ کہ میرے والد یزید نے کچھ دینار خیرات کی نیت سے نکالے اور ان کو انہوں نے مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیا۔ میں گیا اور میں نے ان کو اس سے لے لیا۔ پھر جب میں انہیں لے کر والد صاحب کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا کہ قسم اللہ کی میرا ارادہ تجھے دینے کا نہیں تھا۔ یہی مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ دیکھو یزید جو تم نے نیت کی تھی اس کا ثواب تمہیں مل گیا اور معن! جو تو نے لے لیا وہ اب تیرا ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1422]
حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں، میرے باپ اور میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے میری منگنی کی اور نکاح بھی کرایا، ایک دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ مقدمہ لے کر گیا کہ میرے باپ حضرت یزید رضی اللہ عنہ نے خیرات کی کچھ اشرفیاں نکال کر مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیں (تاکہ وہ انہیں تقسیم کر دے) چنانچہ میں گیا اور وہ اشرفیاں اس سے لے کر اپنے گھر چلا آیا۔ میرے والد کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ بالآخر میں یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یزید! تمہاری نیت پوری ہو گئی اور اے معن! جو تم نے لیا ہے وہ تمہارا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں