🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
156. بَابُ: ذِكْرِ وُضُوءِ الْجُنُبِ قَبْلَ الْغُسْلِ
باب: غسل سے پہلے جنبی کے وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ الْمَاءَ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ كُلِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 248]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر وضو فرماتے جس طرح نماز کے لیے وضو فرمایا کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے اور ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 1 (248)، (تحفة الأشراف: 17164)، موطا امام مالک/الطہارة 17 (67)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
157. بَابُ: تَخْلِيلِ الْجُنُبِ رَأْسَهُ
باب: جنبی کے اپنے سر کا خلال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ كَانَ" يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ (پانی) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کی بابت بیان کیا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سب سے پہلے) اپنے ہاتھ دھوتے تھے اور وضو فرماتے اور اپنے سر کے بالوں میں (گیلی) انگلیاں پھیرتے تھے (حتیٰ کہ بال گیلے ہو جاتے)، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17331)، مسند احمد 6/52، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 9 (316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 250]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) اپنے سر کے بالوں کو خلال سے اچھی طرح تر کر لیتے تھے، پھر سر پر تین چلو (پانی) ڈالتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16937)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 76 (104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
158. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَكْفِي الْجُنُبَ مِنْ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى رَأْسِهِ
باب: سر پر کتنا پانی بہانا جنبی کے لیے کافی ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قال: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنِّي لَأَغْسِلُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا: میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 251]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ کسی نے کہا کہ میں تو اتنی اتنی دفعہ (سر کو) دھوتا ہوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر صرف تین چلو پانی بہاتا ہوں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 4 (254) مختصرًا، صحیح مسلم/الحیض 11 (327)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (239)، سنن ابن ماجہ/فیہ 95 (575)، (تحفة الأشراف: 3186)، صحیح مسلم/81، 84، 85، ویأتي عندالمؤلف برقم: 425 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
159. بَابُ: ذِكْرِ الْعَمَلِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْحَيْضِ
باب: حیض کا غسل کیسے کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَخْبَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ: وَكَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَاسْتَتَرَ كَذَا، ثُمَّ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَذَبْتُ الْمَرْأَةَ، وَقُلْتُ: تَتَّبِعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا: (غسل کے بعد) مشک لگا ہوا (روئی کا) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو، (عورت بولی) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پردہ کر لیا (یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کر لی) پھر فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا، اور (چپکے سے اس کے کان میں) کہا: اسے خون کے نشان پر پھیرو ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 252]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا: کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے لو اور اس سے صفائی کرلو۔ اس نے کہا: اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، تم اس کے ساتھ صفائی کرلو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور کہا کہ اسے خون کے نشانات پر لگا لو۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 13 (314)، 14 (315)، الاعتصام 24 (7357)، صحیح مسلم/الحیض 13 (332)، (تحفة الأشراف: 17859)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 122 (314)، سنن ابن ماجہ/فیہ 124 (632)، مسند احمد 6/122، سنن الدارمی/الطھارة 84، 800، ویاتٔي عند المؤلف برقم: 427 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ بدبو چلی جائے، یہ حکم استحبابی ہے اگر مشک نہ ملے تو اور خوشبو استعمال کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
160. بَابُ: تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْ بَعْدِ الْغُسْلِ
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 253
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث الحسن بن صالح عن أبی إسحاق تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16019)، مسند احمد 6/235، حدیث شریک بن عبداللہ، عن أبی إسحاق قد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 79 (107)، سنن ابن ماجہ/فیہ 96 (579)، (تحفة الأشراف: 16025)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 99 (250)، مسند احمد 6/68، 119، 154، 192، 253، 258، ویأتي عند المؤلف برقم: 430 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غسل سے غسل جنابت مراد ہے کیونکہ ابن ماجہ کی روایت «لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة» میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (107) ابن ماجه (579) وانظر الحديث الآتي (430) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
161. بَابُ: غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فِي غَيْرِ الْمَكَانِ الَّذِي يَغْتَسِلُ فِيهِ
باب: غسل کی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 254
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قالت: أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الْإِنَاءِ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 254]
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے لیے پانی قریب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو دو یا تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اسے زور سے رگڑا، پھر نماز والا وضو کیا، پھر اپنے سر پر دونوں ہاتھ بھر بھر کر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے باقی (سارے) جسم کو دھویا، پھر اس جگہ سے ایک طرف ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رومال لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (245)، سنن الترمذی/فیہ 76 (103)، سنن ابن ماجہ/فیہ 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، مسند احمد (6/329، 330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (738)، 67 (774)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 408، 418، 419، 428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
162. بَابُ: تَرْكِ الْمِنْدِيلِ بَعْدَ الْغُسْلِ
باب: غسل کے بعد (بدن پوچھنے کے لیے) تولیہ نہ لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 255
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ فَأُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ بِالْمَاءِ هَكَذَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، تو آپ کے لیے تولیہ لایا گیا تو آپ نے اسے نہیں چھوا ۱؎ اور پانی کو ہاتھ سے پونچھ کر اس طرح جھاڑنے لگے ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 255]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور بعد میں رومال لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا بلکہ پانی کو ہاتھوں کے ساتھ اس طرح جھاڑنے لگے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 6351) (صحیح): یقول المزی: المحفوظ حدیث ابن عباس، عن میمونة (وحدیث میمونة قد تقدم برقم: 245)»
وضاحت: ۱؎: ممکن ہے آپ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو، یا تولیہ صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن پوچھنے کو ناپسند کیا ہو، لہٰذا یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں ہے: «كان للنبي رسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوئ» اور معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت کے بھی منافی نہیں جس میں ہے: «رأيت رسول الله رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ مسح وجهه بطرف ثوبه» اگرچہ ان دونوں حدیثوں میں کلام ہے لیکن ایک دوسرے سے تقویت پا رہی ہیں۔ ۲؎: اس سے ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے کا جواز ثابت ہوا، اور جس روایت میں ہاتھ سے پانی جھاڑنے کی ممانعت آئی ہے وہ ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
163. بَابُ: وُضُوءِ الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ
باب: جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 256
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَمْرٌو: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ". زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اور عمرو کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 256]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو فرما لیتے تھے، اور عمرو نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ نماز والا وضو فرما لیتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطھارة 89 (224)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 103 (591)، (تحفة الأشراف: 15926)، مسند احمد 6/126، 143، 191، 192، 235، 260، 273، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784)، الأطمة 36 (2123) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
164. بَابُ: اقْتِصَارِ الْجُنُبِ عَلَى غَسْلِ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ
باب: جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو اس کے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 257]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو فرماتے اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو ہاتھ دھو لیتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطھارة 88 (223)، سنن ابن ماجہ/فیہ 99 (584)، 104 (593)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، 27 (288)، مسند احمد 6/36، 102، 200، 279، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 258، 259 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کبھی تو بیان جواز کے لیے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں