🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
160. باب : ترك الوضوء من بعد الغسل
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 253
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث الحسن بن صالح عن أبی إسحاق تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16019)، مسند احمد 6/235، حدیث شریک بن عبداللہ، عن أبی إسحاق قد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 79 (107)، سنن ابن ماجہ/فیہ 96 (579)، (تحفة الأشراف: 16025)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 99 (250)، مسند احمد 6/68، 119، 154، 192، 253، 258، ویأتي عند المؤلف برقم: 430 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غسل سے غسل جنابت مراد ہے کیونکہ ابن ماجہ کی روایت «لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة» میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (107) ابن ماجه (579) وانظر الحديث الآتي (430) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة مكثر
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن علي الفلاس
ثقة مكثر
👤←👥الحسن بن صالح الثوري، أبو عبد الله
Newالحسن بن صالح الثوري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥عثمان بن حكيم الأودي، أبو عمرو
Newعثمان بن حكيم الأودي ← الحسن بن صالح الثوري
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن عثمان الأودي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عثمان الأودي ← عثمان بن حكيم الأودي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
253
لا يتوضأ بعد الغسل
سنن النسائى الصغرى
430
لا يتوضأ بعد الغسل
جامع الترمذي
107
لا يتوضأ بعد الغسل
سنن ابن ماجه
579
لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 253 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 253
253۔ اردو حاشیہ:
➊ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا غسل کے بعد وضو کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، بشرطیکہ اس نے وضو کے بعد دوران غسل میں اگلی اور پچھلی شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگایا ہو ورنہ وضو دوبار ہ کرنا پڑے گا۔
➋ اسی طرح اگر اس نے مسنون غسل نہ کیا ہو، یعنی غسل کی ابتدا وضو سے نہ کی ہو، تب بھی اسے غسل کے بعد وضو کرنا پڑے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 253]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 430
غسل کرنے کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 430]
430۔ اردو حاشیہ: چونکہ مسنون غسل کی ابتدا ہی وضو سے ہوتی ہے، لہٰذا بعد میں وضو کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ وضو کرنے کے بعد غسل کے دوران میں شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔ اگر غسل مسنون نہ ہو، یعنی وضو کے بغیر کیا گیا ہو تو بعد میں وضو کرنا ہو گا۔ مزید دیکھیے، حدیث: 253 اور اس کا فائدہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 430]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث579
کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 579]
اردو حاشہ:
(1)
اس کی وجہ یہ ہے کہ غسل کرتے وقت پہلے استنجاء کرکے وضو کرلیتے تھے۔
اس کے بعد اعضائے مستورہ ومخصوصہ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے، اس لیے غسل والے وضو ہی سے نماز پڑھ لیتے تھے۔

(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف کہا ہے جبکہ روایت میں مذکورہ مسئلہ فی نفسہ صحیح ہے، غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے حسن اور صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه، مسند إمام احمد: 455، 454/40، حديث: 24389)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 579]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 107
غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی:
درمیانِ غسل جو وضو کرچکا ہے وہ کافی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 107]

Sunan an-Nasa'i Hadith 253 in Urdu