سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثِّيَابِ الْحُمُرِ
باب: سرخ کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 773
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ فَرَكَزَ عَنَزَةً فَصَلَّى إِلَيْهَا يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سرخ جوڑے میں نکلے، اور آپ نے اپنے سامنے ایک برچھی گاڑی، پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، اور اس کے پیچھے سے کتے، عورتیں اور گدھے گزرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 773]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلے (جوڑے) میں تشریف لائے، ایک برچھا گاڑا اور اس کی طرف نماز پڑھی۔ کتے، گدھے اور عورتیں اس کے آگے سے گزرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 17 (376)، الأذان 18 (633)، المناقب 23 (3553)، اللباس 3 (5786)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، سنن ابی داود/الصلاة 34 (520)، سنن الترمذی/الصلاة 30 (197)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11808)، مسند احمد 4/307، 308، 309 (بعضھم لم یذکر الحلة) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
22. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الشِّعَارِ
باب: جسم سے لگے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 774
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسَ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ مَعِي فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 774]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: ”میں اور ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں سوتے تھے۔ کبھی میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اگر اس کپڑے کو مجھ سے کوئی حیض وغیرہ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی جگہ دھو لیتے، مزید جگہ نہیں دھوتے تھے اور اس میں نماز بھی پڑھتے تھے، پھر دوبارہ میرے ساتھ لیٹ جاتے۔ اگر پھر کوئی چیز لگ جاتی تو دوبارہ اسی طرح دھوتے اور اس سے زائد جگہ نہ دھوتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 285 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «شعار» : اس کپڑے کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے، جیسے کرتے کے نیچے بنیان، یا بغیر بنیان کے کرتا اور چادر وغیرہ، یہاں چادر ہی مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
23. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 775
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قال: رَأَيْتُ جَرِيرًا" بَالَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا".
ہمام کہتے ہیں کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی منگایا، اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 775]
حضرت ہمام رحمہ اللہ نے کہا کہ ”میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا، پھر پانی منگوایا اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ پھر اٹھے اور نماز پڑھی۔“ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمانے لگے: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 118 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
24. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي النَّعْلَيْنِ
باب: جوتوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 776
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَغَسَّانَ بْنِ مُضَرَ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ وَاسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، قال: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ، قال:" نَعَمْ".
ابوسلمہ (ان کا نام سعید بن یزید بصریٰ ہے اور وہ ثقہ ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں (پڑھتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 776]
حضرت ابو مسلمہ سعید بن یزید بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 24 (386)، اللباس 37 (5850)، صحیح مسلم/المساجد 14 (555)، سنن الترمذی/الصلاة 177 (400)، مسند احمد 3/100، 166، 189، سنن الدارمی/الصلاة 103 (1417)، (تحفة الأشراف: 866) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
25. بَابُ: أَيْنَ يَضَعُ الإِمَامُ نَعْلَيْهِ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ
باب: جب امام لوگوں کو نماز پڑھائے تو اپنے جوتے کہاں رکھے؟
حدیث نمبر: 777
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 777]
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز پڑھی تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنی بائیں طرف رکھا۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 89 (648)، سنن ابن ماجہ/إقامة 205 (1431)، (تحفة الأشراف: 5314)، مسند احمد 3/410 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے، آپ کے بائیں جانب کوئی نہیں تھا اس لیے آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں رکھا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بائیں جانب ہو تو بائیں بھی جوتا نہیں رکھنا چاہیئے کیونکہ تمہارا بایاں دوسرے شخص کا دایاں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح