سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: الْمُصَلِّي يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الإِمَامِ سُتْرَةٌ
باب: نمازی اور امام کے درمیان پردہ حائل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 763
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرَةٌ يَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهَا، فَفَطَنَ لَهُ النَّاسُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْحَصِيرَةُ، فَقَالَ:" اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ"، ثُمَّ تَرَكَ مُصَلَّاهُ ذَلِكَ فَمَا عَادَ لَهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے آپ دن میں بچھایا کرتے تھے، اور رات میں اس کو حجرہ نما بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے، لوگوں کو اس کا علم ہوا تو آپ کے ساتھ وہ بھی نماز پڑھنے لگے، آپ کے اور ان کے درمیان وہی چٹائی حائل ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اتنا ہی) عمل کرو جتنا کہ تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکے گا البتہ تم (عمل سے) تھک جاؤ گے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو گرچہ وہ کم ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ چھوڑ دی، اور وہاں دوبارہ نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ جب کوئی کام کرتے تو اسے جاری رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 81 (730) مختصراً، اللباس 43 (5861)، صحیح مسلم/المسافرین 30 (782)، سنن ابی داود/الصلاة 317 (1368) (من قولہ: اکلفوا من العمل الخ)، سنن ابن ماجہ/إقامة 36 (942) مختصراً، (تحفة الأشراف: 17720)، مسند احمد 6/40، 61، 241، (ولیس قولہ: ”ثم ترک م صلاة۔۔۔حتی قبضہ اللہ‘‘ عند أحد سوی المؤلف (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
14. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 764
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ:" أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 4 (358)، 9 (365)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن ابی داود/الصلاة 78 (625)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 13231)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (30)، مسند احمد 6/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410، 1411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 765
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 4 (356)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (517)، سنن الترمذی/الصلاة 138 (339)، سنن ابن ماجہ/إقامة 69 (1049)، (تحفة الأشراف: 10684)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (29)، مسند احمد 4/26، 27 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
15. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ
باب: ایک قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 766
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا الْقَمِيصُ، أَفَأُصَلِّي فِيهِ؟ قَالَ:" وَزُرَّهُ عَلَيْكَ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 81 (632)، (تحفة الأشراف: 4533)، مسند احمد 4/49، 54 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
16. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الإِزَارِ
باب: تہبند میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قال: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِينَ أُزْرَهُمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ:" لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے (جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں) کہا گیا کہ ”جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 6 (362)، الأذان 136 (814)، العمل في الصلاة 14 (1215)، صحیح مسلم/الصلاة 29 (441)، سنن ابی داود/الصلاة 79 (630)، (تحفة الأشراف: 4681)، مسند احمد 3/433، 5/331 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قال: لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: إِنَّهُ قَالَ:" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ". قَالَ: فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ؟.
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے“، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 637 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
17. بَابُ: صَلاَةِ الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ بَعْضُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ
باب: مرد کا ایسے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان جس کا کچھ حصہ اس کی بیوی پر ہو۔
حدیث نمبر: 769
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ مِرْطٌ بَعْضُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے پہلو میں ہوتی، اور میں حائضہ ہوتی، اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (بھی) ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 51 (514)، سنن ابی داود/الطھارة 135 (370)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 131 (652)، (تحفة الأشراف: 16308)، مسند احمد 6/67، 99، 137، 199، 204 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
18. بَابُ: صَلاَةِ الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَىْءٌ
باب: مرد کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 770
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 52 (516)، سنن ابی داود/الصلاة 78 (626)، (تحفة الأشراف: 13678)، مسند احمد 2/243، 464، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
19. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الْحَرِيرِ
باب: ریشمی کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 771
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی قباء ہدیے میں دی گئی، تو آپ نے اسے پہنا، پھر اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو اسے زور سے اتار پھینکا جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل تقویٰ کے لیے یہ مناسب نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 16 (375)، اللباس 12 (5801)، صحیح مسلم/الصلاة 2 (2075)، (تحفة الأشراف: 9959)، مسند احمد 4/143، 149، 150 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
20. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ
باب: نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 772
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، ثُمَّ قَالَ:" شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اور اس کے عوض کوئی سادی چادر لے آؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 14 (373)، الأذان 93 (752)، اللباس 19 (5817)، صحیح مسلم/المساجد 15 (556)، سنن ابی داود/الصلاة 167 (914)، اللباس 11 (4053)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 1 (3550)، (تحفة الأشراف: 16434)، موطا امام مالک/الصلاة 18 (68) مرسلاً، مسند احمد 6/37، 46، 177، 199، 208 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه