🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: الْمَقَامِ الَّذِي يُقْصَرُ بِمِثْلِهِ الصَّلاَةُ
باب: کتنے دن کی اقامت تک نماز قصر کی جا سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1454
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے ۱؎ اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1454]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پندرہ دن ٹھہرے۔ دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5832)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 279 (1231)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1076) (شاذ) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، صحیح روایت ”انیس دن‘‘ کی ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ فتح مکہ کی بات ہے اور دس دن کے قیام والی روایت حجۃ الوداع کے موقع کی ہے، فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے دنوں تک قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، صحیح بخاری کی روایت میں ۱۹ دن کا ذکر ہے، اور ابوداؤد کی ایک روایت اٹھارہ دن، اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا، اس نے سترہ کی روایت کی ہے اور جس نے دخول کا شمار کیا اور خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں، اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے، رہی پندرہ دن والی مؤلف کی روایت تو یہ شاذ ہے، اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ۱۷ دن ہے، پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ۱۵ دن کی روایت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ تسعة عشر يوما
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا".
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر حج و عمرہ کے ارکان و مناسک پورے کرنے کے بعد (مکہ میں) تین دن تک ٹھر سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1455]
حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر شخص اپنا حج و عمرہ پورا کرنے کے بعد صرف تین دن مکے میں رہ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 47 (3933)، صحیح مسلم/الحج 81 (1352)، سنن ابی داود/الحج 92 (2022)، سنن الترمذی/الحج 103 (949)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1073)، (تحفة الأشراف: 11008)، مسند احمد 4/339، 5/52، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1553) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ نُسُكِهِ ثَلَاثًا".
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجر اپنے نسک (حج و عمرہ کے ارکان) پورے کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھر سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1456]
حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مکے سے) ہجرت کرنے والا اپنا حج و عمرہ کرنے کے بعد تین دن (مکے میں) ٹھہر سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1457
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا قَدِمَتْ مَكَّةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ , قَالَ:" أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ وَمَا عَابَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے، اور میں نے پوری پڑھی ہے، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا: عائشہ! تم نے اچھا کیا، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1457]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کرنے گئی حتیٰ کہ جب میں مکہ آئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ نماز قصر کرتے رہے، میں پوری پڑھتی رہی۔ آپ روزہ چھوڑتے رہے، میں رکھتی رہی۔ آپ نے فرمایا: عائشہ! تو نے ٹھیک کیا۔ آپ نے مجھ پر اس بات کا عیب نہیں لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16298) (منکر) (سند میں ’’عبدالرحمن‘‘ اور ”عائشہ رضی اللہ عنہا“ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان میں کوئی عمرہ نہیں کیا ہے، جبکہ اس روایت کے بعض طرق میں ’’رمضان میں‘‘ کا تذکرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: تَرْكِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں سنت (نفل) نہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1458
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَبَرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
حضرت وبرہ بن عبدالرحمان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں دو رکعت فرض سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، نہ فرض سے پہلے سنت پڑھتے تھے اور نہ فرض کے بعد، ایک شخص نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8556) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ، فَرَأَى قَوْمًا يُسَبِّحُونَ , قَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ , قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ:" لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ , وَأَبَا بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَذَلِكَ".
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ (اب) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1459]
حضرت حفص بن عاصم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر اپنی بچھی ہوئی چٹائی کی طرف گئے۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نفل (سنتیں) پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: یہ لوگ کیا پڑھ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: نفل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں فرضوں سے پہلے یا بعد میں سنتیں پڑھتا تو میں فرض ہی مکمل پڑھ لیتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ تو سفر میں دو رکعتوں سے زائد نہ پڑھتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 11 (1101، 1102)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن ابی داود/الصلاة 276 (1223)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (544)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 75 (1071)، (تحفة الأشراف: 6693)، مسند احمد 2/24، 56 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں