صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ:
باب: آدمی جب اپنے شہر میں پہنچے تو گھر میں رات کو نہ جائے۔
حدیث نمبر: 1801
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محارب بن دثار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر سے) گھر رات کے وقت اترنے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1801]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(سفر سے) رات کے وقت اپنے گھر آنے سے“ منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ:
باب: جس نے مدینہ طیبہ کے قریب پہنچ کر اپنی سواری تیز کر دی (تاکہ جلد سے جلد اس پاک شہر میں داخلہ نصیب ہو)۔
حدیث نمبر: 1802
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا" , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ حُمَيْدٍحَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جُدُرَاتِ: تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے حمید طویل نے خبر دی انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے یہ لفظ زیادہ کئے ہیں کہ ”مدینہ سے محبت کی وجہ سے سواری تیز کر دیتے تھے۔“ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے (درجات کے بجائے) «جدرات» کہا، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1802]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے مدینہ طیبہ واپس آتے اور مدینہ کی راہوں کو دیکھتے تو (فرطِ شوق سے) اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے، اگر کوئی اور سواری ہوتی تو اسے بھی ایڑی لگاتے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید ہی کے طریق سے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی محبت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ اسماعیل نے حمید سے «دَرَجَاتِ» کے بجائے «جَدَرَاتِ» کے الفاظ نقل کیے ہیں (اور) یہ الفاظ بیان کرنے میں حارث بن عمیر نے اسماعیل کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو۔
حدیث نمبر: 1803
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا كَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ وَلَكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذَلِكَ، فَنَزَلَتْ: وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا سورة البقرة آية 189".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ انصار جب حج کے لیے آتے تو (احرام کے بعد) گھروں میں دروازوں سے نہیں جاتے بلکہ دیواروں سے کود کر (گھر کے اندر) داخل ہوا کرتے تھے پھر (اسلام لانے کے بعد) ایک انصاری شخص آیا اور دروازے سے گھر میں داخل ہو گیا اس پر لوگوں نے لعنت ملامت کی تو یہ وحی نازل ہوئی کہ ”یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے سے (دیواروں پر چڑھ کر) آؤ بلکہ نیک وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1803]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کریمہ ہمارے متعلق نازل ہوئی؛ واقعہ یہ ہوا کہ انصار جب حج کرتے اور واپس آتے تو دروازوں سے اپنے گھروں میں داخل نہ ہوتے تھے بلکہ گھروں کی پچھلی جانب سے اندر آتے۔ ایک انصاری شخص آیا اور وہ دروازے سے اپنے گھر داخل ہوا تو اس وجہ سے اسے شرمندہ کیا گیا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿گھروں کو ان کی پشتوں سے داخل ہونا نیکی نہیں ہے، البتہ نیک وہ شخص ہے جو اللہ سے ڈر جائے اور تم اپنے گھروں میں دروازوں سے آؤ۔﴾ [سورة البقرة: 189] [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ:
باب: سفر بھی گویا عذاب کا ایک حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 1804
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کر چکے تو فوراً گھر واپس آ جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1804]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک حصہ ہے جو کھانے پینے اور سونے کو موقوف کر دیتا ہے، لہٰذا جب سفر کی ضرورت پوری ہو جائے تو اپنے گھر جلدی واپس آنا چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ الْمُسَافِرِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ يُعَجِّلُ إِلَى أَهْلِه
باب: مسافر جب جلد چلنے کی کوشش کر رہا ہو اور اپنے اہل میں جلد پہنچنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 1805
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ شِدَّةُ وَجَعٍ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا، ثُمّ قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا کہ انہیں (اپنی بیوی) صفیہ بنت ابی عبید کی سخت بیماری کی خبر ملی اور وہ نہایت تیزی سے چلنے لگے، پھر جب سرخی غروب ہو گئی تو سواری سے نیچے اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھیں، اس کے بعد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب جلدی چلنا ہوتا تو مغرب میں دیر کر کے دونوں (عشاء اور مغرب) کو ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1805]
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا۔ اس دوران میں انہیں حضرت صفیہ بنت ابوعبید رضی اللہ عنہا کے سخت بیمار ہونے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی سواری تیز کر دی تاآنکہ غروبِ شفق کے بعد اپنی سواری سے اترے اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں، پھر فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر کرنے میں جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کرتے اور دونوں نمازوں (مغرب و عشاء) کو جمع کر کے پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1805]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة