صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ:
باب: رمضان میں عمرہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1782
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُخْبِرُنَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا:" مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا؟ , قَالَتْ: كَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَكِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا، وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے ہمیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون (ام سنان رضی اللہ عنہا) سے (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کا نام بتایا تھا لیکن مجھے یاد نہ رہا) پوچھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، جس پر ابوفلاں (یعنی اس کا خاوند) اور اس کا بیٹا سوار ہو کر حج کے لیے چل دیئے اور ایک اونٹ انہوں نے چھوڑا ہے، جس سے پانی لایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے یا اسی جیسی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1782]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ حج کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟“ (راوی حدیث حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا:) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس عورت کا نام ذکر کیا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں، اس عورت نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک آب کش اونٹ تھا جس پر ابو فلاں اور اس کا بیٹا سوار ہو کر چلے گئے ہیں، اس نے اپنے شوہر اور بیٹے کی طرف اشارہ کیا، ایک دوسرا اونٹ چھوڑ گئے ہیں جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان المبارک کا مہینہ آئے تو اس میں عمرہ کرنا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ارشاد فرمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1782]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
5. بَابُ الْعُمْرَةِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ وَغَيْرِهَا:
باب: محصب کی رات عمرہ کرنا یا اس کے علاوہ کسی دن بھی عمرہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1783
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحَجَّةِ، فَقَالَ لَنَا: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَظَلَّنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ارْفُضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلے تو ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے تو وہ حج کا باندھ لے اور اگر کوئی عمرہ کا باندھنا چاہتا ہے تو وہ عمرہ کا باندھ لے۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم میں بعض نے تو عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، لیکن عرفہ کا دن آیا تو میں اس وقت حائضہ تھی، چنانچہ میں نے اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول دے اور اس میں کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھا لینا۔ (میں نے ایسا ہی کیا) جب محصب میں قیام کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو میرے ساتھ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں باندھا (جس کو توڑ ڈالا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1783]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت روانہ ہوئے جب ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”تم میں سے جو حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے، وہ حج کا احرام باندھ لے اور جو عمرے کا احرام باندھنا پسند کرتا ہے وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ اگر میں نے قربانی ساتھ نہ لی ہوتی تو میں بھی عمرے کا احرام باندھتا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم میں سے بعض نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھ لیا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ عرفہ کا دن آیا تو مجھے حیض آ گیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ چھوڑ کر اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کر لو، پھر حج کا احرام باندھ لو۔“ جب محصب کی رات تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو تنعیم بھیجا تو میں نے گزشتہ عمرے کے بجائے اور عمرے کا احرام باندھ لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
6. بَابُ عُمْرَةِ التَّنْعِيمِ:
باب: تنعیم سے عمرہ کرنا۔
حدیث نمبر: 1784
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ وَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ" , قَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً سَمِعْتُ عَمْرًا، كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ عَمْرٍو.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے عمرو بن اوس سے سنا، ان کو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سواری پر لے جائیں اور تنعیم سے انہیں عمرہ کرا لائیں۔ سفیان بن عیینہ نے کہیں یوں کہا میں نے عمرو بن دینار سے سنا، کہیں یوں کہا میں نے کئی بار اس حدیث کو عمرو بن دینار سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1784]
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کرکے لے جائیں اور انہیں مقام تنعیم سے عمرہ کر لائیں۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی تو کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا، اور کبھی کہا: میں نے عمرو سے کئی بار یہ حدیث سنی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1785
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِأَصْحَابِهِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا بالبيت، ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا، إِلَّا مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى، وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ، وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بالبيت، قَالَ: فَلَمَّا طَهُرَتْ وَطَافَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنْطَلِقُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحَجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ".
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے، ان سے حبیب معلم نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا قربانی کسی کے پاس نہیں تھی۔ ان ہی دنوں میں علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کے ساتھ بھی قربانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو (مکہ میں پہنچ کر) اس کی اجازت دے دی تھی کہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیں اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے بال ترشوا لیں اور احرام کھول دیں، لیکن وہ لوگ ایسا نہ کریں جن کے ساتھ قربانی ہو۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم منیٰ سے حج کے لیے اس طرح سے جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بات اب ہوئی اگر پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو (افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد) میں بھی احرام کھول دیتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا (اس حج میں) حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے انہوں نے اگرچہ تمام مناسک ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور طواف کر لیا تو عرض کی یا رسول اللہ! سب لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں ہمراہ لے کر تنعیم جائیں اور عمرہ کرا لائیں، یہ عمرہ حج کے بعد ذی الحجہ کے ہی مہینہ میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے تو سراقہ بن مالک بن جعشم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ ہی کے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1785]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حج کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے اور ان کے ساتھ ہدی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسی شرط کے ساتھ احرام باندھا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ وہ اس احرامِ حج کو عمرہ میں بدل لیں۔ بیت اللہ کا طواف کریں اور بال کٹوا کر حلال ہوجائیں، ہاں! جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ احرام نہ کھولے۔ لوگوں میں سے کچھ نے کہا کہ ہم جب منیٰ جائیں گے تو ہمارے ذَکَر سے منی ٹپک رہی ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے علم ہوجاتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔“ اتفاق یہ ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس دوران میں حیض آگیا۔ انہوں نے بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے تمام ارکان پورے کرلیے۔ جب وہ حیض سے پاک ہوگئیں اور بیت اللہ کا طواف کرلیا تو عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سب حج اور عمرہ کرکے واپس جارہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس جاؤں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم جائیں، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ماہِ ذوالحجہ میں عمرہ کیا۔ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو رمی کررہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا کرنا صرف آپ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ الاِعْتِمَارِ بَعْدَ الْحَجِّ بِغَيْرِ هَدْيٍ:
باب: حج کے بعد عمرہ کرنا اور قربانی نہ دینا۔
حدیث نمبر: 1786
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحَجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ، وَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ , وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعِي عُمْرَتَكِ , وَانْقُضِي رَأْسَكِ , وَامْتَشِطِي , وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَرْدَفَهَا، فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی کہا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے حج کے لیے چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھ لے اور جو حج کا باندھنا چاہے وہ حج کا باندھ لے، اگر میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا ہی احرام باندھتا، چنانچہ بہت سے لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بہتوں نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر میں مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حائضہ ہو گئی، عرفہ کا دن آ گیا اور ابھی میں حائضہ ہی تھی، اس کا رونا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول لے اور کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھ لینا، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد جب محصب کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن کو تنعیم بھیجا وہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر لے گئے وہاں سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے (چھوڑے ہوئے) عمرے کے بجائے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا بھی حج اور عمرہ دونوں ہی پورے کر دیئے نہ تو اس کے لیے انہیں قربانی لانی پڑی نہ صدقہ دینا پڑا اور نہ روزہ رکھنا پڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1786]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت (سفر حج پر) روانہ ہوئے جب ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاہے وہ عمرے کا احرام باندھ لے اور جو شخص حج کا احرام باندھنا پسند کرے وہ اس کا احرام باندھ لے اور اگر میں نے قربانی ساتھ نہ لی ہوتی تو میں عمرے کا احرام باندھتا۔“ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میں سے بعض نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا۔ اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور مجھے یوم عرفہ نے اسی حالت میں پا لیا کہ میں بحالت حیض تھی۔ میں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ چھوڑ دو۔ سر کے بال کھول کر ان میں کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لو۔“ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب محصب کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ انہوں نے انہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیا تو انہوں نے پہلے عمرے کے بدلے دوسرے عمرے کا احرام باندھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا حج اور عمرہ پورا کر دیا اور اس میں کوئی چیز قربانی، صدقہ اور روزہ وغیرہ نہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
8. بَابُ أَجْرِ الْعُمْرَةِ عَلَى قَدْرِ النَّصَبِ:
باب: عمرہ میں جتنی تکلیف ہو اتنا ہی ثواب ہے۔
حدیث نمبر: 1787
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ، وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ، فَقِيلَ لَهَا: انْتَظِرِي، فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي، ثُمَّ ائْتِينَا بِمَكَانِ كَذَا، وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ أَوْ نَصَبِكِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور دوسری (روایت میں) ابن عون، ابراہیم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اسود سے، انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو دو نسک (حج اور عمرہ) کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں نے صرف ایک نسک (حج) کیا ہے؟ اس پر ان سے کہا گیا کہ پھر انتظار کریں اور جب پاک ہو جائیں تو تنعیم جا کر وہاں سے (عمرہ کا) احرام باندھیں، پھر ہم سے فلاں جگہ آ ملیں اور یہ کہ اس عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور محنت کے مطابق ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1787]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ دو عبادتیں (حج و عمرہ) کر کے واپس جائیں گے جبکہ میں صرف ایک عبادت (حج) کر کے واپس جا رہی ہوں؟ تو ان سے کہا گیا: ”آپ انتظار کریں، جب حیض سے پاک ہو جائیں تو تنعیم جا کر عمرے کا احرام باندھیں، پھر فلاں جگہ ہمارے پاس آئیں، لیکن عمرے کا ثواب تمہارے خرچ یا تمہاری مشقت کے مطابق دیا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ الْمُعْتَمِرِ إِذَا طَافَ طَوَافَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ خَرَجَ، هَلْ يُجْزِئُهُ مِنْ طَوَافِ الْوَدَاعِ:
باب: (حج کے بعد) عمرہ کرنے والا عمرہ کا طواف کر کے مکہ سے چل دے تو طواف وداع کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1788
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا سَرِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْيُ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ , قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ لِأَصْحَابِكَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكِ؟ قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: فَلَا يَضِرْكِ، أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كُتِبَ عَلَيْكِ مَا كُتِبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا، قَالَتْ: فَكُنْتُ حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنًى، فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: اخْرُجْ بِأُخْتِكَ الْحَرَمَ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكُمَا أَنْتَظِرْكُمَا هَا هُنَا، فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: فَرَغْتُمَا، قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَادَى بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ، وَمَنْ طَافَ بالبيت قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے بعض مقدور والوں کے ساتھ قربانی تھی، اس لیے ان کا (احرام صرف) عمرہ کا نہیں رہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ رو کیوں رہی ہو؟ میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا میں سن رہی تھی، اب تو میرا عمرہ رہ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی (حیض کی وجہ سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے، اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے۔ اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم (حج سے فارغ ہو کر اور) منی سے نکل کر محصب میں اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی بہن کو حد حرم سے باہر لے جا (تنعیم) تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں، پھر طواف و سعی کرو ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے۔ ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا فارغ ہو گئے؟ میں نے کہا ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا۔ بیت اللہ کا طواف وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1788]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم حج کے مہینوں میں اور حج کے اوقات میں احرام باندھ کر روانہ ہوئے۔ جب ہم نے مقامِ سرف پر پڑاؤ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں اور وہ اسے عمرے کے احرام میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہے اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اہل ثروت کے پاس قربانی کے جانور تھے، لہٰذا ان کے لیے یہ الگ عمرہ نہ ہوا۔ اس دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ آپ نے جو بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمائی ہے اسے میں نے سن لیا ہے، لیکن میں عمرے سے روک دی گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا کیوں ہے؟“ میں نے کہا: میں نماز پڑھ سکتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس بات کا کوئی نقصان نہیں، آخر تم بھی تو آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہو، تیرے مقدر میں وہی چیز لکھی گئی ہے جو ان کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔ لہٰذا تم اپنے حج کے احرام میں رہو، عنقریب اللہ تمہیں عمرہ نصیب کرے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اسی حالت میں رہی یہاں تک کہ جب ہم منیٰ سے روانہ ہوئے اور وادی محصب میں پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی ہمشیرہ کو حرم سے باہر لے جاؤ، وہاں سے وہ عمرے کا احرام باندھے، پھر جب طواف سے فارغ ہو جاؤ تو واپس آؤ، میں تمہارا انتظار کرتا ہوں۔“ ہم آدھی رات کو آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چلنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کوچ کی تیاری کر لی اور ان لوگوں نے بھی کوچ کیا جنہوں نے نماز فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کر لیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
10. بَابُ يَفْعَلُ فِي الْعُمْرَةِ مَا يَفْعَلُ فِي الْحَجِّ:
باب: عمرہ میں ان ہی کاموں کا پرہیز ہے جن سے حج میں پرہیز ہے۔
حدیث نمبر: 1789
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوقِ أَوْ قَالَ: صُفْرَةٌ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَوَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَقَالَ عُمَرُ: تَعَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْوَحْيَ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ , وَأَحْسِبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبَكْرِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اخْلَعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ عَنْكَ، وَأَنْقِ الصُّفْرَةَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جبہ پہنے ہوئے اور اس پر خلوق یا زردی کا نشان تھا۔ اس نے پوچھا مجھے اپنے عمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا ڈال دیا گیا، میری بڑی آرزو تھی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہاں آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہو رہی ہو، اس وقت تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے آرزو مند ہو؟ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا اور میں نے اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ زور زور سے خراٹے لے رہے تھے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے بیان کیا ”جیسے اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے“ پھر جب وحی اترنی بند ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے جو عمرہ کے بارے میں پوچھتا تھا؟ اپنا جبہ اتار دے، خلوق کے اثر کو دھو ڈال اور (زعفران کی) زردی صاف کر لے اور جس طرح حج میں کرتے ہو اسی طرح اس میں بھی کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1789]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آپ کے پاس آیا۔ اس نے ایسا جبہ پہن رکھا تھا جس پر خلوق یا زردی کے نشانات تھے۔ اس نے عرض کیا: آپ مجھے عمرہ کرنے کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ اس دوران میں آپ کو کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔ میری خواہش تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی کیفیت دیکھوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آؤ، کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی کیفیت دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بایں حالت دیکھا کہ آپ سے خراٹے بھرنے کی آواز آ رہی تھی۔ یہ آواز اونٹ کے بلبلانے کی طرح تھی۔ جب آپ سے یہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”عمرے کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟“ (اسے فرمایا:) ”اپنا جبہ اتار دو اور اپنے جسم سے خوشبو کے اثرات دھو ڈالو، نیز زردی کو صاف کرو اور عمرہ کرتے وقت وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1790
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ،" أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَلَا أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا والمروة، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158" , زَادَ سُفْيَانُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا والمروة.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا جب کہ ابھی میں نوعمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔ یہ سن کر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم بتا رہے ہو پھر تو ان کی سعی نہ کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہ آیت تو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل میں رکھا ہوا تھا وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ سفیان اور ابومعاویہ نے ہشام سے یہ زیادتی نکالی ہے کہ جو کوئی صفا مروہ کا پھیرا نہ کرے تو اللہ اس کا حج اور عمرہ پورا نہ کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1790]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا، جبکہ میں اس وقت نو عمر تھا، درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ کے بارے میں آپ کیا فرماتی ہیں: ﴿صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔﴾ [سورة البقرة: 158] میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر فرمایا: ایسا ہرگز نہیں۔ اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو آیت یوں ہوتی: اس پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان کا طواف نہ کرے۔ لیکن یہ آیت تو انصار کے متعلق نازل ہوئی جو منات کے لیے احرام باندھتے تھے جو قدید کے سامنے رکھا ہوا تھا، اور وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ﴿بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف (سعی) کرے۔﴾ [سورة البقرة: 158] سفیان اور ابو معاویہ نے ہشام سے بیان کرتے ہوئے یہ مزید الفاظ نقل کیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج یا عمرہ پورا نہیں کرے گا جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کی۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
11. بَابُ مَتَى يَحِلُّ الْمُعْتَمِرُ:
باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
حدیث نمبر: Q1791
وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا.
اور عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ حج کے احرام کو عمرہ سے بدل دیں اور طواف (بیت اللہ اور صفا و مروہ) کریں پھر بال ترشوا کر احرام سے نکل جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: Q1791]