سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: مَتَى يَسْتَسْقِي الإِمَامُ
باب: امام بارش کے لیے کب دعا کرے؟
حدیث نمبر: 1505
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ , فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، (اور پانی نہ ہونے سے) راستے (سفر) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے (سیلاب کی وجہ سے) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا“ تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا (اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1505]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! جانور (قحط سالی کی بنا پر) ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے، اللہ تعالیٰ سے (بارش کی) دعا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اس جمعے سے اگلے جمعے تک (مسلسل) بارش ہوتی رہی۔ تو (وہی) آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! (زیادہ بارش کی وجہ سے) گھر گر گئے اور راستے منقطع ہو گئے اور جانور مرنے لگے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر، ٹیلوں پر، وادیوں کے نشیب (نالوں) اور جنگلات میں بارش برسا۔“ تو بادل مدینہ منورہ سے اس طرح چھٹ گئے جس طرح درمیان سے کپڑا پھٹ جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 9 (1016)، 10 (1017)، 12 (1019)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1175)، (تحفة الأشراف: 906)، موطا امام مالک/الإستسقاء 2 (3)، مسند احمد 3/4 10، 182، 194، 245، 261، 271 ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1516، 1519 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
2. بَابُ: خُرُوجِ الإِمَامِ إِلَى الْمُصَلَّى لِلاِسْتِسْقَاءِ
باب: امام کا استسقاء کے لیے عیدگاہ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1506
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا غَلَطٌ مِنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، وَهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1506]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنھیں خواب میں اذان سکھلائی گئی تھی) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی چادر الٹائی اور دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی غلطی ہے کیونکہ جس عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھلائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ ہیں، جبکہ مذکورہ حدیث بیان کرنے والے عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستسقاء 1 (1005) 4 (1011، 1012)، 15 (1023)، 16 (1024)، 17 (1025)، 18 (1026)، 19 (1027)، 20 (1028)، الدعوات 25 (6343)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (894)، سنن ابی داود/الصلاة 258 (1161، 1162، 1163، 1164)، 259 (1166، 1167)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (556)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1267)، موطا امام مالک/الإستسقاء 1 (1)، مسند احمد 4/38، 39، 40، 41، 42، سنن الدارمی/الصلاة 188 (1574، 1575)، (تحفة الأشراف: 5297)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1508، 1510، 1511، 1512، 1513، 1520، 1521، 1523 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سفیان بن عیینہ کا اس حدیث کے راوی کے بارے میں یہ کہنا کہ ”انہیں کو خواب میں اذان دکھائی گئی“ ان کا وہم ہے، اذان ”عبداللہ بن زیدبن عبدربہ“ کو دکھائی گئی، اور اس حدیث کے راوی کا نام ”عبداللہ بن زید بن عاصم“ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
3. بَابُ: الْحَالِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ لِلإِمَامِ أَنْ يَكُونَ عَلَيْهَا إِذَا خَرَجَ
باب: استسقاء کے لیے جب امام نکلے تو اس کی ہئیت کیسی ہو؟
حدیث نمبر: 1507
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي فُلَانٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کی نماز کے لیے) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1507]
حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے فلاں شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گڑگڑاتے ہوئے، عاجزی کے ساتھ سادہ کپڑوں میں (آرائش اور زینت کے بغیر) نکلے۔ آپ نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا، پھر دو رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 258 (1165)، سنن الترمذی/فیہ 278 (الجمعة 43) (558، 559)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1266)، (تحفة الأشراف: 5359)، مسند احمد 1/230، 269، 355، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1509، 1522 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1508
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَسْقَى وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور آپ کے جسم مبارک پر ایک سیاہ چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1508]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ استسقاء پڑھائی تو آپ پر سیاہ اونی چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
4. بَابُ: جُلُوسِ الإِمَامِ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلاِسْتِسْقَاءِ
باب: بارش کی دعا کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ , وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1509]
حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ استسقاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سادہ کپڑوں میں، عاجزی کے ساتھ، گڑگڑاتے ہوئے نکلے، پھر آپ منبر پر بیٹھے لیکن تمہارے خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا بلکہ آپ دعا کرتے رہے، گڑگڑاتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرتے رہے، پھر آپ نے عیدین کی نماز کی طرح دو رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1507 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
5. بَابُ: تَحْوِيلِ الإِمَامِ ظَهْرَهُ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقاء میں دعا کے وقت امام کا اپنی پیٹھ لوگوں کی طرف پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1510
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَحَوَّلَ لِلنَّاسِ ظَهْرَهُ وَدَعَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَرَأَ فَجَهَرَ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1510]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا (حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں بھی دعائے استسقاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر الٹائی اور لوگوں کی طرف پشت کر لی اور دعا کرنے لگے، پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں بلند آواز سے قراءت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
6. بَابُ: تَقْلِيبِ الإِمَامِ الرِّدَاءَ عِنْدَ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقاء کے وقت امام کے چادر پلٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1511
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَسْقَى وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1511]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا فرمائی اور دو رکعتیں پڑھیں اور اپنی چادر الٹائی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
7. بَابُ: مَتَى يُحَوِّلُ الإِمَامُ رِدَاءَهُ
باب: امام کب اپنی چادر پلٹے؟
حدیث نمبر: 1512
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جائے نماز کی طرف) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1512]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) باہر نکلے اور بارش کی دعا کی اور جب (دعا کے لیے) قبلہ رخ ہوئے تو آپ نے اپنی چادر الٹائی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
8. بَابُ: رَفْعِ الإِمَامِ يَدَهُ
باب: (استسقاء کے لیے دعا مانگتے وقت) امام کے ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1513
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو تَقِيٍّ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الِاسْتِسْقَاءِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ الرِّدَاءَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور (دعا مانگنے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1513]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائے استسقاء میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ فرمایا، چادر کو الٹایا اور (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
9. بَابُ: كَيْفَ يَرْفَعُ
باب: استسقاء میں ہاتھ کیسے اٹھائے؟
حدیث نمبر: 1514
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1514]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی دعا میں اتنے بلند ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے جتنے دعائے استسقاء میں، آپ اس میں ہاتھ اتنے بلند اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستسقاء 22 (1031)، المناقب 23 (3565)، الدعوات 23 (6341)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (895)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1170)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 118 (1180)، (تحفة الأشراف: 1168)، مسند احمد 3/ 181، 282، سنن الدارمی/الصلاة 189 (1576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه