🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. بَابُ: اللَّعِبُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْعِيدِ وَنَظَرُ النِّسَائِ إِلَى ذَلِكَ
باب: عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1597
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑو (کھیلنے دو) یہ بنو ارفدہ ہی تو ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1597]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو حبشی مسجد میں (جنگی کھیل) کھیل رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! رہنے دو۔ یہ «بَنُو أَرْفِدَةَ» بنوارفدہ (حبشی لوگ) ہیں (اور جنگی کھیل کھیلنا ان کی فطرت میں داخل ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13194)، وقد أخرجہ: خ /الجھاد 79 (2901)، صحیح مسلم/العیدین 4 (893)، مسند احمد 2/368، 540 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بنی ارفدہ حبشیوں کا لقب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: الرُّخْصَةُ فِي الاسْتِمَاعِ إِلَى الْغِنَائِ وَضَرْبُ الدُّفِّ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن گانا سننے اور دف بجانے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1598
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ , فَقَالَ:" دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ , إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى" وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے (گھر میں) داخل ہوئے، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور گانا گا رہی تھیں ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا، اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑو کھیلنے دو، یہ عید کے دن ہیں، اور منیٰ کے دن تھے ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1598]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (والد محترم) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے تو میرے پاس دو بچیاں دف بجا رہی تھیں اور (جنگی) نغمے گا رہی تھیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں جھڑکا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر! انھیں رہنے دو۔ یہ عید کے دن ہیں۔ یہ وہ دن تھے جن میں حاجی منیٰ میں ہوتے ہیں (یعنی ایامِ تشریق) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ منورہ میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16609) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ گانا کوئی فحش گانا نہیں تھا، بلکہ ان کے آباء و اجداد کی بہادری کے قصے تھے، فحش گانے کسی بھی صورت میں اور کسی بھی موقع پر جائز نہیں، نیز جائز گانوں میں بھی موسیقی کی آمیزش ہو تو جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں