سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: امام کا لوگوں کی طرف منہ کر کے خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1577
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الثَّانِيَةِ وَسَلَّمَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ وَإِلَّا أَمَرَ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , قَالَ:" تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" , فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے تو لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر جب دوسری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے، تو کھڑے ہوتے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، پھر اگر آپ کو کوئی ضرورت ہوتی جیسے کہیں فوج بھیجنا ہو تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ دینے کا حکم دیتے، تین بار کہتے: ”صدقہ کرو“، تو صدقہ دینے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1577]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عیدگاہ تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ جب دوسری رکعت کے بعد بیٹھ کر سلام پھیرتے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ سب لوگ (اپنی اپنی جگہوں پر) بیٹھے رہتے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر بھیجنے کی ضرورت محسوس فرماتے تو لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ وغیرہ کرنے کا حکم دیتے۔ تین دفعہ فرماتے: ”صدقہ کرو۔“ تو صدقہ کرنے والی اکثر عورتیں ہی ہوتیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 6 (304)، العیدین 6 (956)، الزکاة 44 (1462)، صحیح مسلم/الإیمان 34 (80) مطولاً، العیدین (889)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 158 (1288)، (تحفة الأشراف: 4271)، مسند احمد 3/36، 57 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
21. بَابُ: الإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ
باب: خطبہ کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1578
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1578]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے امام صاحب کے خطبے کے دوران میں اپنے ساتھی کو زبان سے کہا: چپ رہ، تو تو نے بھی فضول کام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 235 (1112)، (تحفة الأشراف: 13240)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد 2/474، 485، 532، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1590) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
22. بَابُ: كَيْفَ الْخُطْبَةُ؟
باب: عیدین کا خطبہ کیسا ہو؟
حدیث نمبر: 1579
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ , ثُمَّ يَقُولُ:" مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ , وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ , وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ" , ثُمَّ يَقُولُ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ" وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ , ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ , وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے: ”جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے“، پھر آپ فرماتے: ”میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں“، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے، اور آواز بلند ہو جاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں: (ہوشیار رہو! دشمن) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے: ”جو (مرنے کے بعد) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1579]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ یوں شروع فرماتے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرماتے جو اللہ تعالیٰ کی شانِ گرامی کے لائق ہے، پھر فرماتے: ”جسے اللہ تعالیٰ راہِ راست پر لے آئے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے، اسے کوئی راہِ راست پر لانے والا نہیں۔ بلاشبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ اور بدترین کام وہ ہیں جنہیں (شریعت میں) اپنی طرف سے جاری کیا گیا۔ ہر ایسا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں (انگشتِ شہادت اور ساتھ والی) کی طرح (ملا کر) بھیجا گیا ہے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ کے رخسارِ مبارک سرخ ہو جاتے، آواز بلند ہو جاتی اور غصے کے آثار چہرے پر نمایاں ہو جاتے۔ یوں لگتا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں (یعنی اس کے حملے کی خبر دے رہے ہیں) کہ تم پر صبح حملہ کر دے گا یا شام کو۔ (پھر فرماتے:) ”جو شخص مال چھوڑ جائے، وہ تو اس کے رشتے داروں کو ملے گا اور جو آدمی قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے (جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے) چھوڑ جائے تو وہ میرے سپرد ہوں اور ان کے اخراجات اور قرض وغیرہ کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی کیونکہ مومنین سے میرا تعلق اور رشتہ تمام رشتوں سے قوی اور مضبوط ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (867)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (45)، مسند احمد 3/310، 311، 319، 337، 371، سنن الدارمی/المقدمة 23 (212)، (تحفة الأشراف: 2599) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جن کا کفیل کوئی نہیں ان کا کفیل میں ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
23. بَابُ: حَثُّ الإِمَامِ عَلَى الصَّدَقَةِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: عیدین کے خطبے میں امام لوگوں کو صدقہ کرنے پر ابھارے۔
حدیث نمبر: 1580
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قال: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ" , فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ , فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا رَجَعَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر خطبہ دیتے تو صدقہ کرنے کا حکم دیتے، تو صدقہ کرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھی، پھر اگر آپ کو کوئی حاجت ہوتی یا کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو ذکر کرتے ورنہ لوٹ آتے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1580]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن باہر تشریف لے جاتے، دو رکعتیں پڑھتے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے اور صدقے کا حکم دیتے۔ اکثر عورتیں ہی صدقہ کرتیں۔ اگر کوئی ضرورت پیش ہوتی یا لشکر بھیجنا مقصود ہوتا تو اس سے متعلق کلام فرماتے، ورنہ واپس تشریف لے آتے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1577 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1581
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ , قال: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ , فَقَالَ" أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ , فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ , فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ , وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو، تو (یہ سن کر) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، تو انہوں نے کہا: یہاں مدینہ والے کون کون ہیں، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو، چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام، مرد، عورت سب پر فرض کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1581]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا اور فرمایا: اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ آپ نے فرمایا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون لوگ ہیں؟ (اے اہل مدینہ!) اٹھو اور اپنے (ان بصری) بھائیوں کو تعلیم دو (بتلاؤ) کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اور مذکر و مؤنث پر صدقۂ فطر نصف صاع گندم یا جو مقرر فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 20 (1622) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5394)، مسند احمد 1/228، 351، ویأتی عند المؤلف برقم: 2510، 2517 (صحیح) (سند میں حسن بصری کا سماع ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نہیں ہے، اس لیے صرف حدیث کا مرفوع حصہ دوسرے طرق سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1622) وانظر الحديث الآتي (2510) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ , ثُمَّ قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ" , فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ" , قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”جس نے ہماری (طرح) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے (خود) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کی بکری ہوئی“ (اب قربانی کے طور پر دوسری کرو) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے (بھی) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1582]
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں والے دن نماز عید کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا: ”جس شخص نے ہماری (نماز کی طرح) نماز پڑھی اور ہماری طرح (نماز کے بعد) قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہے، لیکن جس نے نماز عید سے قبل قربانی ذبح کر دی تو یہ گوشت کھانے کے لیے بکری ذبح کی گئی ہے (قربانی نہیں)۔“ حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! «وَاللّٰهِ» ”واللہ!“ میں نے تو نماز عید کے لیے آنے سے قبل ہی قربانی ذبح کر دی ہے۔ میں نے سوچا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کی۔ خود بھی گوشت کھایا، اہل و عیال اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو گوشت کے لیے بکری ذبح کی گئی ہے۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک (بکری کی قسم سے) موٹا تازہ جذع ہے جو گوشت کے لحاظ سے دو بکریوں سے بہتر ہے (مگر وہ دانتا نہیں، چھوٹا ہے) تو کیا وہ میری طرف سے کفایت کر جائے گا (اگر میں اسے ذبح کر دوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن یہ تیرے علاوہ کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ قربانی کے لیے نہیں بلکہ صرف کھانے کے لیے ذبح کی گئی بکری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
24. بَابُ: الْقَصْدُ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ میں میانہ روی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1583
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا , وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا، تو آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی، اور آپ کا خطبہ (بھی) درمیانہ (اوسط درجہ کا) ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1583]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (866)، سنن الترمذی/الصلاة 247 (507)، (تحفة الأشراف: 2167)، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598)، 200 (1600) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
25. بَابُ: الْجُلُوسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ وَالسُّكُوتُ فِيهِ
باب: دونوں خطبوں میں بیٹھنے اور اس میں خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1584
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا , ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ فِيهَا , ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ خَبَّرَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا فَلَا تُصَدِّقْهُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1584]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ (پہلے) کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر (تھوڑی دیر کے لیے) بیٹھ جاتے اور اس دوران میں (کوئی تقریر یا) بات چیت نہ کرتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے، لہٰذا جو شخص تجھے بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، اس کی تصدیق نہ کر۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 228 (1095)، (تحفة الأشراف: 2197)، مسند احمد 5/90، 97 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ مؤلف کا محض استنباط ہے، جس کی بنیاد عیدین کے خطبہ کو جمعہ کے خطبہ پر قیاس ہے، خاص طور پر عیدین کے خطبہ کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صراحت مروی نہیں ہے، اس لیے بعض علماء جمعہ کے خطبہ پر قیاس کر کے عیدین میں بھی دو خطبے کے قائل ہیں، جب کہ بعض علماء صرف ایک خطبہ کے قائل ہیں، عیدین کے سلسلے میں ایک خطبہ ہی قرین قیاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
26. بَابُ: الْقِرَائَةُ فِي الْخُطْبَةِ الثَّانِيَةِ وَالذِّكْرُ فِيهَا
باب: دوسرے خطبہ میں قرآن پڑھنے اور ذکر الٰہی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا , ثُمَّ يَجْلِسُ , ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط (درمیانی) ہوا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1585]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا اور نماز بھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1419 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
27. بَابُ: نُزُولُ الإِمَامِ عَنْ الْمِنْبَرِ قَبْلَ فَرَاغِهِ مِنْ الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ سے فارغ ہونے سے پہلے امام کے منبر سے اترنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1586
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال:" بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ , إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلَام , عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ وَحَمَلَهُمَا , فَقَالَ:" صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15" رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا , فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى نَزَلْتُ فَحَمَلْتُهُمَا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آتے دکھائی دیے، آپ منبر سے اتر پڑے، اور ان دونوں کو اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ”تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں“ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں منبر سے اتر گیا، اور میں نے ان کو اٹھا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1586]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سامنے آگئے، انہوں نے سرخ قمیصیں پہن رکھی تھیں، وہ چلتے تھے تو (قمیصوں کی وجہ سے) لڑکھڑاتے تھے (یعنی گرتے پڑتے آ رہے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے، انہیں اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] ”تمہارے مال و اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔“ میں نے انہیں دیکھا کہ اپنی قمیصوں میں گرتے پڑتے آ رہے ہیں تو میں صبر نہ کر سکا حتیٰ کہ میں منبر سے اترا اور انہیں اٹھایا۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1414 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن