سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: عَدَدِ صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز کی رکعات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1567
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زُبَيْدٍ الْأَيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ذَكَرَهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال:" صَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ , وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ , وَصَلَاةُ الْمُسَافِرِ رَكْعَتَانِ , وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ , تَمَامٌ لَيْسَ بِقَصْرٍ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، مسافر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ اور یہ سب (دو دو رکعت ہونے کے باوجود) بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1567]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، مسافر کی نماز دو رکعت ہے اور جمعے کی نماز بھی دو رکعت ہے۔ یہ تمام نمازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مکمل ہیں، ان میں کوئی کمی اور نقص نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1421 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
12. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِـ {ق} وَ {اقْتَرَبَتْ}
باب: عیدین میں سورۃ ”قٓ“ اور سورۃ ”اقتربت“ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1568
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ عِيدٍ فَسَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ , بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ فَقَالَ:" بِقَافْ وَاقْتَرَبَتْ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) عید کے دن عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو انہوں نے ابوواقد لیثی سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کون سی (سورتیں) پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: سورۃ ”قٓ“ اور سورۃ ”اقتربت“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1568]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو آپ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کون سی سورتیں (نماز عید میں) پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ﴿ق﴾ [سورة ق: 1] اور ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ [سورة القمر: 1] ۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العیدین 3 (891)، سنن ابی داود/الصلاة 252 (1154)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33) (534، 535)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 157 (1282)، موطا امام مالک/العیدین 4 (8)، مسند احمد 5/217، 219 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
13. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَ {هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ}}
باب: عیدین میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1569
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ , وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1569]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعے کے دن سورۂ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھا کرتے تھے۔ کبھی جمع اور عید ایک دن میں اکٹھے ہو جاتے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی دونوں سورتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1425 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
14. بَابُ: الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بَعْدَ الصَّلاَةِ
باب: عیدین کا خطبہ نماز کے بعد دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1570
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُخْبِرُ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنِّي شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک رہا، تو آپ نے خطبہ سے پہلے نماز شروع کی، پھر آپ نے خطبہ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1570]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر حاضر ہوا۔ آپ نے خطبے سے پہلے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، العیدین 16 (975)، 18 (977)، الزکاة 33 (1449) مطولاً، النکاح 124 (5233)، اللباس 56 (5880)، الاعتصام 16 (7323)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1142، 1143، 1144)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1273)، (تحفة الأشراف: 5883)، مسند احمد 1/220، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1571
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1571]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدِ قربان کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
15. بَابُ: التَّخْيِيرِ بَيْنَ الْجُلُوسِ فِي الْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عید کا خطبہ سننے کے لیے بیٹھنے اور نہ بیٹھنے دونوں کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ , قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْصَرِفَ فَلْيَنْصَرِفْ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيُقِمْ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”جو (واپس) لوٹنا چاہے لوٹ جائے، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1572]
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”جو آدمی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہتا ہے، وہ ٹھہرے۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 253 (1155)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 159 (1290)، (تحفة الأشراف: 5315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
16. بَابُ: الزِّينَةِ لِلْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کے خطبہ کے لیے زینت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1573
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قال:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ پر ہرے رنگ کی دو چادریں تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1573]
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سبز چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد المؤلف بلفظ ’’یخطب‘‘ وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/اللباس 19 (4065)، الترجل 18 (4206، 4207)، سنن الترمذی/الأدب 48 (2812)، (تحفة الأشراف: 12036)، مسند احمد 2/226، 227، 228 و 4/163، سنن الدارمی/الدیات 25 (2433، 2434)، ولیس عندھم ذکرالخطبة، بل فی بعض روایات أحمد أنہ کان جالسا فی ظل الکعبة، وبدون ذکرالخطبة، یأتی عند المؤلف نفسہ فی الزینة 96 (برقم: 5321) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
17. بَابُ: الْخُطْبَةِ عَلَى الْبَعِيرِ
باب: اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1574
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قال: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ الْأَحْمَسِيِّ، قال:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِ النَّاقَةِ".
ابو کاہل احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1574]
حضرت ابوکاہل احمسی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا جبکہ ایک حبشی (حضرت حضرت بلال رضی اللہ عنہ) نے اونٹنی کی مہار تھام رکھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 158 (1284، 1285)، (تحفة الأشراف: 12142)، مسند احمد 4/306 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
18. بَابُ: قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1575
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قال: سَأَلْتُ جَابِرًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا؟ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ".
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ کچھ دیر بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1575]
حضرت سماک رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر کچھ دیر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوجاتے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1105)، (تحفة الأشراف: 2184)، مسند احمد 5/87، 101 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
19. بَابُ: قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ مُتَوَكِّئًا عَلَى إِنْسَانٍ
باب: خطبہ میں امام کے کسی آدمی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قال: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ مَالَ وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ , فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ حَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ قَالَ:" تَصَدَّقْنَ , فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ" , فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ" , فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ قَلَائِدَهُنَّ وَأَقْرُطَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی، پھر جب نماز پوری کر لی، تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو نصیحتیں کیں، اور انہیں (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا، اور انہیں نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر فرمایا: ”تم صدقہ کیا کرو کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا: کس سبب سے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”(کیونکہ) وہ شکوے اور گلے بہت کرتی ہیں، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں“، عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ انہیں صدقہ میں دے رہی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1576]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں حاضر ہوا۔ آپ نے بغیر اذان اور اقامت کے خطبے سے پہلے نماز عید پڑھائی۔ جب آپ نے نماز پوری فرمائی تو بلال رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انھیں (اللہ اور رسول کی) اطاعت کی تلقین فرمائی، پھر آپ ایک طرف سے ہو کر عورتوں کی طرف گئے، بلال رضی اللہ عنہ بدستور آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان (عورتوں) کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا اور انھیں وعظ و نصیحت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور انھیں اللہ (اور رسول) کی اطاعت کی رغبت دلائی، پھر فرمایا: ”(اے عورتو!) صدقہ کرو کیونکہ اکثر عورتیں جہنم کا ایندھن بنیں گی۔“ تو ایک سیاہ مٹیالے رخساروں والی عام سی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ نے فرمایا: ”تم شکوے شکایت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔“ عورتیں اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر بطور صدقہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں (تاکہ وہ بیت المال میں جمع کروا دیں۔) [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1563 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم