🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. بَابُ: ذِكْرِ أَوَّلِ مَنْ يُكْسَى
باب: (قیامت کے دن) جسے سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2089
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُفَاةً غُرْلًا، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَوَهْبٌ: عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 , قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: يُجَاءُ، وَقَالَ وَهْبٌ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ , فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، (ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے (ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی (تو تو ہی ان کا نگہبان تھا) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، (اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و نصیحت کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے ننگے جسم، ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا۔“ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جس طرح ہم نے پہلے پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم پلٹائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں بائیں طرف نکال لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت سے ہیں (یا میرے ساتھی ہیں؟) تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے، انہوں نے آپ کی عدم موجودگی میں کیا کچھ کیا۔ تو میں (اسی طرح) کہوں گا: جس طرح اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام) کا قول ہے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ٭ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 117-118] ”(اے اللہ!) میں تو ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، جب تو نے مجھے اپنے قبضے میں لے لیا، پھر تو تو ہی ان پر نگران تھا (لہٰذا تجھے ہی ان کے کاموں کا علم ہے) اور تو ہر چیز پر خوب گواہ ہے، اگر تو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو بے شک تو غالب ہے خوب حکمت والا ہے۔“ پھر کہا جائے گا: جب سے آپ ان کو چھوڑ کر (ہمارے پاس) آگئے یہ اسی وقت سے مرتد ہو گئے تھے اور مرتد ہی رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2084 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. بَابُ: فِي التَّعْزِيَةِ
باب: تعزیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ، يَأْتِيهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَيُقْعِدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَهَلَكَ، فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ لِذِكْرِ ابْنِهِ فَحَزِنَ عَلَيْهِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَالِي لَا أَرَى فُلَانًا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بُنَيُّهُ الَّذِي رَأَيْتَهُ هَلَكَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ بُنَيِّهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ هَلَكَ، فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" يَا فُلَانُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ تَمَتَّعَ بِهِ عُمُرَكَ أَوْ لَا تَأْتِي غَدًا إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ، يَفْتَحُهُ لَكَ" , قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي لَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ:" فَذَاكَ لَكَ".
قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے (گود میں) بٹھا لیتے (چنانچہ کچھ دنوں بعد) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو (جب) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا: ”کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، (اور) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی (موت کی خبر) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ (جب) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟“ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے ایسا (ہی) ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2090]
حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تو آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ میں سے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ ان میں ایک شخص تھا جس کا ایک معصوم بیٹا تھا۔ وہ پیچھے سے آتا تو باپ اسے اپنے آگے بٹھا لیتا تھا۔ اتفاقاً وہ بچہ فوت ہو گیا تو وہ شخص اپنے بیٹے کی یاد میں (کئی روز تک) آپ کی مجلس میں حاضر نہ ہوا کیونکہ اسے اس (کی وفات) کا شدید غم تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (کئی دن) نہ دیکھا تو فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ فلاں شخص نظر نہیں آتا؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا وہ چھوٹا سا بچہ جو آپ نے بھی دیکھا تھا، فوت ہو گیا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے ملے اور اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ تو فوت ہو چکا ہے۔ آپ نے اسے تسلی دی۔ آپ نے فرمایا: ”اے شخص! تجھے کون سی چیز زیادہ پسند ہے کہ تو اپنی ساری عمر اس سے فائدہ اٹھاتا (آنکھیں ٹھنڈی کرتا) یا یہ کہ تو جنت کے جس دروازے کے پاس بھی جائے، اسے وہاں پائے کہ وہ تجھ سے پہلے پہنچ کر اسے تیرے لیے کھول دے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ مجھ سے پہلے جا کر میرے لیے جنت کا دروازہ کھولے۔ آپ نے فرمایا: ”بس! یہ چیز تجھے مل جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1871 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: تعزیت کی ایک اور قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2091
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ , فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ،" فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ , وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ"، قَالَ: أَيْ رَبِّ , ثُمَّ مَهْ، قَالَ:" الْمَوْتُ" قَالَ: فَالْآنَ ," فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی، اور کہا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ، اور اس سے کہہ: تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر مرنا ہو گا، (موسیٰ علیہ السلام) نے کہا: تب تو ابھی (مرنا بہتر ہے)، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2091]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کے فرشتے کو موسیٰ علیہ السلام کی طرف (انسانی صورت میں) بھیجا گیا، جب وہ فرشتہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی، وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمایا: ”اس کے پاس دوبارہ جاؤ اور اسے کہو کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھے، اسے ہر بال کے عوض، جو اس کے ہاتھ کے نیچے آئے گا، ایک سال زندگی ملے گی۔“ (اس ساری کارروائی کے بعد) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”(پھر) موت!“ انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ گزارش کی کہ مجھے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے تک مقدس سرزمین کے قریب کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی ایک جانب سرخ رنگ کے ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 68 (1339)، والأنبیاء 33 (3407)، صحیح مسلم/الفضائل 42 (2372)، (تحفة الأشراف: 13519)، مسند احمد 2/269- 315 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں