سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. بَابُ: اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ
باب: قبروں کو مسجد بنانے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2049
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی ہے (کیونکہ) ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2049]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13318)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 54 (434)، صحیح مسلم/المساجد 3 (529)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3227)، مسند احمد 2/246، 260، 284، 285، 366، 396، (بعضھم بلفظ ’’قاتل‘‘ الخ) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
107. بَابُ: كَرَاهِيَةِ الْمَشْىِ بَيْنَ الْقُبُورِ فِي النِّعَالِ السِّبْتِيَّةِ
باب: بالدار چمڑے کی جوتیوں میں قبروں کے درمیان چلنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّ بَشِيرَ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ شَرًّا كَثِيرًا"، ثُمَّ مَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ:" لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا"، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ فِي نَعْلَيْهِ , فَقَالَ:" يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا".
بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے شر و فساد سے (بچ) کر آگے نکل گئے“، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے خیر سے (محروم) ہو کر آگے نکل گئے“، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سبتی جوتوں والو! انہیں اتار دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2050]
حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، آپ چند مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ (وفات کی وجہ سے) بہت زیادہ شر سے بچ گئے ہیں۔“ پھر آپ کچھ مشرکین کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ (اپنی موت کی وجہ سے) بہت زیادہ خیر سے محروم رہے۔“ اچانک آپ نے توجہ فرمائی تو ایک شخص کو قبرستان میں جوتوں سمیت چلتے دیکھا تو فرمایا: ”اے صاحبِ رنگے ہوئے (رنگ کر صاف کیے ہوئے) چمڑے کے جوتے پہننے والے! انہیں اتار دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 78 (3230)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 46 (1568)، (تحفة الأشراف: 2021)، مسند احمد 5/83، 84، 224 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
108. بَابُ: التَّسْهِيلِ فِي غَيْرِ السِّبْتِيَّةِ
باب: سبتی جوتیوں کے علاوہ میں چھوٹ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2051
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2051]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے دفن کرنے کے بعد واپس آ جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 67 (1338)، 86 (1373، 1374)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2870)، سنن ابی داود/الجنائز 78 (3231)، والسنة 27 (4752)، (تحفة الأشراف: 1170)، حصحیح مسلم/3/126، 233 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مؤلف نے اس بات پر استدلال ہے کہ سبتی جوتیوں کے علاوہ دوسری جوتیاں پہن کر قبروں کے درمیان چلنا جائز ہے کیونکہ جوتیوں کی آواز اسی وقت سنی جا سکتی ہے جب انہیں پہن کر ان میں چلا جائے، واضح رہے کہ سبتی جوتیوں کے علاوہ کی قید مؤلف نے دونوں روایتوں میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے لگائی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سبتی جوتوں کی بات اتفاقی ہے، وہ شخص اس وقت سبتی جوتے پہنے تھا، اگر ان کے سوا کوئی اور جوتے بھی ہوتے تو آپ یہی فرماتے، اور اس حدیث میں بات بیان جواز کی ہے یا قبروں سے بچ بچ کر جوتوں میں چل سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
109. بَابُ: الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ
باب: قبر میں مردہ سے سوال و جواب۔
حدیث نمبر: 2052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا".
انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتیوں کی آواز سنتا ہے، (پھر) اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اسے بٹھاتے ہیں، (اور) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص (محمد) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکانا دیا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ ان دونوں (جنت و جہنم) کو ایک ساتھ دیکھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2052]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو جب قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے دفن کر کے واپس آ جاتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آ جاتے ہیں۔ وہ اسے بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ مومن شخص تو کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے: تو اپنے جہنمی ٹھکانے کو دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اس کے بجائے جنتی ٹھکانا دے دیا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 17 (2870)، (تحفة الأشراف: 1300)، مسند احمد 3/126 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
110. بَابُ: مَسْأَلَةِ الْكَافِرِ
باب: قبر میں کافر و مشرک سے سوال و جواب۔
حدیث نمبر: 2053
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ , فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ , فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا خَيْرًا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ , فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، (پھر) دو فرشتے آتے ہیں، (اور) اسے بٹھاتے ہیں (پھر) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، (پھر) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ ان دونوں (جنت و جہنم) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے: اس شخص (محمد) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟، تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جائے گا: نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2053]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے لوٹ کر جاتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آ جاتے ہیں۔ وہ اسے بٹھا لیتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تو اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟ مومن کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اسے کہا جاتا ہے: تو اپنے جہنمی ٹھکانے کو دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اس کے بجائے اچھا ٹھکانا دے دیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے، لیکن کافر یا منافق سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں کچھ نہیں جانتا، جس طرح لوگ کہتے تھے، میں بھی کہتا تھا۔ اسے (فرشتوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے: نہ تو نے جاننے کی کوشش کی اور نہ تو نے قرآن پڑھا، پھر اس کے کانوں کے درمیان (یعنی اس کے چہرے پر) سخت ضرب لگائی جاتی ہے تو وہ اس قدر چیختا ہے کہ انسان و جن کے علاوہ ہر قریبی مخلوق اس کی آہ و بکا سنتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2051 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
111. بَابُ: مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ
باب: پیٹ کی بیماری میں مرنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2054
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَذَكَرُوا: أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ، فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جِنَازَتِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ" , فَقَالَ الْآخَرُ: بَلَى.
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور (وہیں) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما (بھی) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2054]
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو پیٹ کی تکلیف سے فوت ہو گیا تھا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک بزرگ نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے جنازے میں شریک ہوں۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”جو آدمی پیٹ کی تکلیف سے مر جائے، اسے عذابِ قبر نہیں ہو گا؟“ تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں! (آپ نے ضرور فرمایا تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 65 (1064)، (تحفة الأشراف: 3503)، مسند احمد 4/262 و 5/292 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
112. بَابُ: الشَّهِيدِ
باب: شہید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ، قَالَ:" كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَة".
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2055]
حضرت راشد بن سعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اہل ایمان کا ان کی قبروں میں امتحان لیا جاتا ہے مگر شہید کا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سر پر چمکتی تلواریں اس کے لیے امتحان سے کافی ہو گئیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15569) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2056
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ:" الطَّاعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ" , قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا، وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ (تیمی) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2056]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”طاعون، پیٹ کی تکلیف، غرق اور دروزہ سے آنے والی موت شہادت ہے۔“ (راویٔ حدیث سلیمان تیمی نے) کہا: ہم سے یہ حدیث ابوعثمان نے کئی بار بیان کی اور ایک بار اس کو (مرفوع) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4948)، مسند احمد 3/400، 401 و 6/465، 466، سنن الدارمی/الجھاد 22 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
113. بَابُ: ضَمَّةِ الْقَبْرِ وَضَغْطَتِهِ
باب: قبر کے دبانے اور دبوچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2057
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) اس سے جاتا رہا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2057]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دفن کے وقت) فرمایا: ”یہ شخص جس کے لیے عرش جھوم گیا، اس (کی روح) کے لیے آسمان کے تمام دروازے کھول دیے گئے اور اس کے جنازے پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے، وہ بھی بھینچ دیا گیا مگر پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7926) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
114. بَابُ: عَذَابِ الْقَبْرِ
باب: قبر کے عذاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2058
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ:" نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“ (ابراہیم: ۲۷)۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2058]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت عذابِ قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة إبراهيم: 27] ”اللہ تعالیٰ مومنین کو دنیا اور آخرت (قبر) میں صحیح بات پر قائم رکھتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، (تحفة الأشراف: 1754) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم