🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. بَابُ: الْعَمَلِ فِي الإِهْلاَلِ
باب: تلبیہ کب پکاریں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2760
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ. ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2760]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کھڑی ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 28 (1552)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، (تحفة الأشراف: 7680)، 82 (1970)، مسند احمد 2/36، سنن الدارمی/المناسک 82 (1970) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِكَ نَاقَتُكَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَانْبَعَثَتْ".
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2761]
حضرت عبید بن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ اس وقت «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہتے ہیں جب سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوتی ہے (کیا وجہ ہے؟) انہوں نے فرمایا: بلا شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی وقت «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں فرمایا کرتے تھے جب آپ کی سواری آپ کو لے کر اٹھتی اور سیدھی کھڑی ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 30 (166)، اللباس 37 (5851)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، دالحج 21 (1772)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، (تحفة الأشراف: 7316)، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد (2/، 17)، وراجع رقم117، وما یأتي برقم: 2953، 5245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ: إِهْلاَلِ النُّفَسَاءِ
باب: نفاس والی عورت کے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَأْتِيَ رَاكِبًا أَوْ رَاجِلًا إِلَّا قَدِمَ، فَتَدَارَكَ النَّاسُ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، ثُمَّ أَهِلِّي" , فَفَعَلَتْ مُخْتَصَرٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر (دسویں سال) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2762]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ میں) نو سال ٹھہرے مگر آپ نے حج نہیں فرمایا، پھر (دسویں سال میں) آپ نے تمام لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا جو سوار یا پیدل آنے کی طاقت رکھتا تھا مگر وہ نہ آیا ہو (یعنی ضرور آیا)۔ سب لوگ جمع ہو گئے تاکہ آپ کے ساتھ حج کو جائیں حتیٰ کہ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو آپ نے فرمایا: تو غسل کر کے لنگوٹ باندھ لے، پھر لبیک شروع کر دے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2763
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ؟" فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2763]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے (حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحلیفہ میں) محمد بن ابی بکر کو جنم دیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ رہی تھیں کہ اب کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: غسل کر کے لنگوٹ باندھ لے اور «لَبَّيْكَ» لبیک کہے (یعنی احرام شروع کر دے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ: فِي الْمُهِلَّةِ بِالْعُمْرَةِ تَحِيضُ وَتَخَافُ فَوْتَ الْحَجِّ
باب: عمرہ کا تلبیہ پکارنے والی عورت کو حیض آ جائے اور اسے حج کے فوت ہو جانے کا ڈر ہو تو وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ،" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ" , فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟" فَقَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ، وَلَمْ أُحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ" , فَفَعَلَتْ، وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ۱؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہو گئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم (مکہ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ساری چیزیں حلال ہو گئی (یہ سن کر) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے (سلے) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے، اور لوگ حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور (ابھی تک) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ۲؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا، اور وقوف کی جگ ہوں (یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ (پھر عمرہ کیسے ہوا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) سے فرمایا: عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2764]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھے (یا حج کی لبیک کہتے ہوئے) جا رہے تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا۔ جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو انھیں حیض شروع ہو گیا حتیٰ کہ جب ہم (مکہ مکرمہ میں) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لایا، وہ حلال ہو جائے۔ ہم نے کہا: کس قسم کے حلال ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل حلال ہو جائیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا، خوشبوئیں لگائیں اور عام کپڑے پہنے، حالانکہ ہمارے اور یومِ عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے ترویے (۸ ذوالحجہ) کے دن دوبارہ احرام باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انھیں روتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: ہوا یہ ہے کہ مجھے حیض آ رہا ہے۔ لوگ (عمرہ کر کے) حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہو سکی (یعنی عمرہ ہی نہیں کر سکی)۔ اب لوگ حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی بات نہیں) یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ رکھی ہے، لہٰذا تو غسل کر، پھر حج کا احرام باندھ لے۔ تو انھوں نے ایسے ہی کیا اور تمام ٹھہرنے کی جگہوں (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ) میں ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے حج اور عمرے دونوں سے حلال (فارغ) ہو گئی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کر رہی ہوں کیونکہ میں نے حج سے قبل بیت اللہ کا طواف وغیرہ نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبدالرحمن! انھیں لے جاؤ اور انھیں تنعیم سے عمرہ کراؤ۔ یہ اس رات کی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محصب میں گزاری تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج17 (1213)، سنن ابی داود/الحج23 (1785)، (تحفة الأشراف: 2908)، مسند احمد (3/394) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سرف مکہ سے دس میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: یعنی حیض کی وجہ سے میں ابھی عمرے سے فارغ نہیں ہو سکی ہوں۔ ۳؎: یعنی منیٰ سے بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو روانگی کے بعد محصب میں ٹھہرنے والی رات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ" , فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، قَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سکی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کر چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے (پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ۱؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا (یعنی قران کیا تھا) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2765]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے، پھر وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہو۔ میں مکہ میں آئی تو مجھے حیض آ رہا تھا۔ (حیض کی بنا پر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ میں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر (یعنی بال) کھول لو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔ میں نے ایسے ہی کیا۔ جب میں نے حج پورا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بھائی) حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے اس عمرے کی جگہ ہے (جو تجھ سے رہ گیا تھا)۔ تو جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد اپنے حج کا ایک اور طواف کیا لیکن جنہوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا، انہوں نے صرف ایک طواف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 243 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں طواف سے مراد صفا و مروہ کی سعی ہے مطلب یہ ہے کہ قارن پر ایک ہی سعی ہے عمرہ اور حج دونوں میں سے کسی ایک کی سعی کر لے کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. بَابُ: الاِشْتِرَاطِ فِي الْحَجِّ
باب: حج میں شرط لگا نے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2766
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ،" فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ (احرام کے وقت) شرط لگا لیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسے ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج15 (1208)، (تحفة الأشراف: 5595) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تلبیہ پکارے وقت اس بات کی شرط کر لیں کہ اگر میں کسی وجہ سے مکہ تک نہیں پہنچ سکی تو جہاں تک پہنچ سکوں گی وہیں احرام کھول ڈالوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ: كَيْفَ يَقُولُ إِذَا اشْتَرَطَ
باب: جب شرط لگائے تو کس طرح کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب:، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ , عَنِ الرَّجُلِ يَحُجُّ يَشْتَرِطُ؟ قَالَ: الشَّرْطُ بَيْنَ النَّاسِ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهُ يَعْنِي عِكْرِمَةَ، فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي، فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ".
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2767]
ہلال بن خباب رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے آدمی کے احرامِ حج میں شرط لگانے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے: شرط تو لوگوں کے درمیان ہوتی ہے (نہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ)۔ تو میں نے انہیں عکرمہ رحمہ اللہ والی روایت بیان کی جو انہوں نے مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کی تھی کہ حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو (احرام کے وقت) کہہ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہوگی جہاں تو مجھے روک لے۔ (یعنی جہاں بیماری مجھے عاجز کر دے۔) پھر جو تو اپنے رب سے شرط لگائے گی، تجھے اس پر عمل کرنے کا حق ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 22 (1776)، سنن الترمذی/الحج 97 (941)، (تحفة الأشراف: 6232)، مسند احمد (1/352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس طرح اور شرطیں جائز ہیں اسی طرح یہ شرط بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2768
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا , وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ؟ قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2768]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدتنا ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں بیمار عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں تو آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور شرط لگا لو کہ «مَحَلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہوگی جہاں (اے اللہ!) تو مجھے روک لے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن ابن ماجہ/الحج 24 (2938)، (تحفة الأشراف: 5754)، مسند احمد (1/337) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2769
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُجِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي" , قَالَ إِسْحَاق: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: كِلَاهُمَا عَنْ عَائِشَةَ , هِشَامٌ وَالزُّهْرِيُّ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ مَعْمَرٍ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: حج کرو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2769]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو وہ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کو جاؤ لیکن شرط لگا لو کہ «مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» میں وہاں حلال ہو جاؤں گی جہاں تو مجھے روک لے گا۔ اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ہشام اور زہری دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام لیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت معمر کے علاوہ کسی نے زہری سے متصل مرفوع بیان کی ہو۔ (مگر اس سے معمر کی روایت کمزور نہیں بنتی کیونکہ معمر بذات خود ثقہ راوی ہیں۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج15 (1207)، (تحفة الأشراف: 16644، 17245)، صحیح البخاری/النکاح15 (5089)، مسند احمد (6/164، 202) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں