سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ: التَّمَتُّعِ
باب: حج تمتع کا بیان۔
حدیث نمبر: 2740
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَمَتَّعَ، وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ" , قَالَ فِيهَا قَائِلٌ بِرَأْيِهِ.
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج) تمتع کیا (لیکن) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2740]
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع فرمایا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا، پھر ایک کہنے والے نے اپنی رائے سے کہا (کہ تمتع نہیں کرنا چاہیے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2729 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لہٰذا صریح سنت کے مقابلہ میں قائل کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
51. بَابُ: تَرْكِ التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الإِهْلاَلِ
باب: تلبیہ کہتے وقت حج یا عمرے کا نام نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2741
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَحَدَّثَنَا ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ حِجَجٍ، ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجِّ هَذَا الْعَامِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلُ مَا يَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ جَابِرٌ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ".
ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آ گئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل (تفسیر) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چنانچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2741]
حضرت محمد (باقر) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں رہتے ہوئے نو سال ہو چکے تھے، پھر (دسویں سال) تمام لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے تشریف لے جائیں گے، لہٰذا بہت زیادہ لوگ مدینہ منورہ آگئے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں حج کرے اور جس طرح آپ حج کریں، وہ بھی اسی طرح کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے تو ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے۔ آپ پر وحی اترتی تھی اور آپ ہی قرآن مجید کی صحیح تفسیر جانتے تھے، لہٰذا جو آپ نے کیا، ہم نے بھی کیا۔ ہم (مدینہ منورہ سے) نکلے تو ہماری نیت حج ہی کی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 2713 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2742
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ، حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ:" أَحِضْتِ" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْمُحْرِمُ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2742]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں) نکلے تو ہماری نیت صرف حج کی تھی۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو مجھے حیض شروع ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے حیض شروع ہو گیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کوئی بات نہیں) یہ ایسی چیز ہے جو آدم کی بیٹیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے، لہٰذا جو دوسرے محرم کریں، تو بھی کرتی رہ مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 291 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
52. بَابُ: الْحَجِّ بِغَيْرِ نِيَّةٍ يَقْصِدُهُ الْمُحْرِمُ
باب: دوسرے کی نیت پر نیت کر کے محرم حج کا تلبیہ پکارے۔
حدیث نمبر: 2743
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ مِنْ الْيَمَنِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ حَيْثُ حَجَّ، فَقَالَ:" أَحَجَجْتَ" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ؟ قُلْتَ: قَالَ: قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ" , فَفَعَلْت، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً فَفَلَتْ رَأْسِي، فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ، حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى، رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ، فَأْتَمُّوا بِهِ، وَقَالَ عُمَرُ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے (مجھ سے) پوچھا: ”کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» ”میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے“ آپ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف کر لو، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ (یہ سن کر) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں (وہ جیسا بتائیں) ان کی پیروی کرو۔ (اور جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی تو) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب (قرآن) کو لیں تو وہ (حج اور عمرہ کو) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2743]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (حجۃ الوداع کے موقع پر) یمن سے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء (مکہ) میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے احرام باندھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا: اس احرام کے ساتھ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام ہے، «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کی سعی کرو اور حلال ہو جاؤ۔“ میں نے اسی طرح کیا، پھر میں (اپنے قبیلے کی) ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ میں لوگوں کو اسی بات کا فتویٰ دیا کرتا تھا (کہ تمتع جائز ہے) حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آ گیا تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: اے ابو موسیٰ! اپنا یہ فتویٰ روک لو۔ شاید تم نہیں جانتے کہ امیر المومنین نے تمہارے بعد حج کے بارے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے؟ میں نے کہا: اے لوگو! جس شخص کو ہم نے یہ فتویٰ دیا ہو، وہ ذرا انتظار کر لے (یعنی اس پر عمل نہ کرے)، حضرت امیر المومنین تمہارے پاس تشریف لانے والے ہیں تو تم ان کے حکم کی پابندی کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (آئے تو میرے استفسار پر) کہنے لگے: اگر ہم اللہ کی کتاب کو لیں تو وہ ہمیں مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کو لیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حلال نہیں ہوئے تھے حتیٰ کہ قربانیاں ذبح ہو گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2739 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2744
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا، قَالَ لِعَلِيٍّ: بِمَا أَهْلَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ الْهَدْيُ، قَالَ:" فَلَا تَحِلَّ".
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو تم احرام نہ کھولو“ (جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤ)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2744]
حضرت محمد (باقر) رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے جانور لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور لے کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے کیا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے کہا ہے: میں احرام باندھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح، اور میرے ساتھ قربانی کے جانور بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم (عمرہ کر کے) حلال نہ ہونا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2713 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2745
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ , قَالَ جَابِرٌ: قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟ قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ" قَالَ: وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2745]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن کی حکمرانی سے فارغ ہو کر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! تم نے کیا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے جانور (قربانی والے دن) ذبح کرنا اور اس وقت تک محرم رہو جیسے کہ تم ہو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 32 (1557)، (تحفة الأشراف: 2457)، مسند احمد (3/305، 317، 366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2746
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِي، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ: وَجَدْتُ فَاطِمَةَ قَدْ نَضَحَتْ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ، قَالَ: فَتَخَطَّيْتُهُ، فَقَالَتْ لِي: مَا لَكَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" كَيْفَ صَنَعْتَ؟" قُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ، قَالَ:" فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر (امیر) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آ گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تو تم نے کیسے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2746]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن پر حاکم مقرر فرمایا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ مجھے بھی ان کے ساتھ کچھ اوقیے ملے تھے، پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (یمن سے حجۃ الوداع میں مکہ) آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر کو خوشبو لگا رکھی تھی۔ میں (حضرت فاطمہ کی طرف توجہ کیے بغیر) گھر سے گزر گیا تو وہ مجھے کہنے لگیں: کیا وجہ ہے؟ (آپ توجہ نہیں فرما رہے)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خود حکم دیا ہے اور وہ حلال ہو چکے ہیں۔ میں نے کہا: میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح احرام باندھا ہے، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیسے احرام باندھا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قربانی کے جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2726 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، تقدم (2726) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
53. بَابُ: إِذَا أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ هَلْ يَجْعَلُ مَعَهَا حَجًّا
باب: جب عمرہ کا تلبیہ پکارے تو کیا اس کے ساتھ حج بھی کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2747
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ , فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، قَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ؟ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ، وَحَلَقَ، فَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو (حج سے) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں (حج و عمرہ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آ گئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا (قربانی کیا) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہو گیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2747]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس سال حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سال حج کا ارادہ فرمایا۔ ان سے کہا گیا کہ ان (حجاج اور ابن زبیر) کے درمیان لڑائی ہو گی اور خطرہ ہے کہ لوگ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں۔ انہوں نے فرمایا: (قرآن میں ہے:) ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل میں بہترین نمونہ ہے۔“ ایسی صورت میں میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے زمانے میں) کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کا احرام باندھ کر اسے اپنے آپ پر واجب کر لیا ہے، پھر وہ نکلے حتیٰ کہ جب وہ بیداء (مقام) پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرے کا معاملہ (اگر میں بیت اللہ تک نہ پہنچ سکا) تو ایک ہی ہے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے (یعنی احرام میں حج کو بھی داخل کر لیا ہے)۔ پھر انہوں نے قربانی کا جانور بھی ساتھ لے لیا جو انہوں نے قدید سے خریدا تھا، پھر وہ دونوں (حج و عمرہ) کی «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتے ہوئے چلے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ بیت اللہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی اور اس سے زائد کچھ نہ کیا۔ (اس وقت) نہ قربانی کی، نہ سر منڈوایا، نہ بال کٹوائے اور نہ کسی حرام چیز سے حلال ہوئے حتیٰ کہ قربانیوں کا دن آ گیا، پھر انہوں نے قربانی ذبح کی اور سر منڈوایا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ساتھ اپنے حج و عمرے کا طواف مکمل کر لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 77 (1640)، صحیح مسلم/الحج26 (1230)، (تحفة الأشراف: 8279) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کافروں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا تو آپ نے وہیں قربانی کر ڈالی تھی، بال منڈوا لیا تھا اور احرام کھول دیا تھا پھر دوسرے سال آپ نے عمرہ کی قضاء کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
54. بَابُ: كَيْفَ التَّلْبِيَةُ
باب: تلبیہ کس طرح پکارا جائے؟
حدیث نمبر: 2748
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: إِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي , أَنَّ أَبَاهُ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ" , وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2748]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک کہتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ تمام تعریفیں اور احسانات تیرے لیے ہیں اور حکومت بھی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کھڑی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ کلمات ادا فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2684 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2749
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدًا , وَأَبَا بَكْرٍ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُمَا سَمِعَا نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2749]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں لبیک کہتے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ بار بار حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ یقینا تمام تعریفیں اور احسانات تیرے ساتھ ہی خاص ہیں اور حکومت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7665)، مسند احمد (2/43) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح