سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. بَابُ: سَوْقِ الْهَدْىِ
باب: حاجی کا ہدی کو اپنے ساتھ لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2800
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَاقَ هَدْيًا فِي حَجِّهِ".
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2800]
حضرت محمد (باقر) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں اپنے قربانی کے جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2620) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
74. بَابُ: رُكُوبِ الْبَدَنَةِ
باب: ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2801
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ" , فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے (پھر) فرمایا: ”سوار ہو جاؤ“، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے «ويلك» ”تمہارا برا ہو“ ۱؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2801]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا تھا (اور خود پیچھے پیدل چل رہا تھا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو جا، تجھ پر افسوس!“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 103 (1689)، 112 (1706)، الوصایا 12 (2755)، الأدب 95 (6160)، صحیح مسلم/الحج 65 (1322)، سنن ابی داود/الحج 18 (1760)، (تحفة الأشراف: 13081)، موطا امام مالک/الحج 45 (139)، مسند احمد (2/254، 278، 312، 464، 474، 481، 487، 505) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے یہاں بدعا مقصود نہیں بلکہ زجر و توبیخ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2802
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ اپنے ساتھ ہانکے لیے جا رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے (پھر) فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا: ”سوار ہو جاؤ تیرا برا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2802]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ پیدل ایک اونٹ کو ہانکتا لے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا۔“ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سوار ہو جا۔“ اس نے پھر کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی دفعہ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا۔ تجھ پر افسوس!“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1219)، مسند احمد (3/170)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج103 (1690)، الوصایا 12 (2754)، الأدب 95 (6159)، صحیح مسلم/الحج 65 (1323)، مسند احمد (3/99، 170، 173، 202، 231، 243، 275، 276، 291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
75. بَابُ: رُكُوبِ الْبَدَنَةِ لِمَنْ جَهَدَهُ الْمَشْىُ
باب: چلتے چلتے تھک جانے والا شخص ہدی کے جانور پر سوار ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً وَقَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ، قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کا جانور ہانک کر لے جا رہا تھا۔ وہ بے چارہ بڑی مشقت سے چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اونٹ پر سوار ہو جا۔“ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو جا اگرچہ یہ قربانی کا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 396) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج 65 (1323)، مسند احمد (3/99، 106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
76. بَابُ: رُكُوبِ الْبَدَنَةِ بِالْمَعْرُوفِ
باب: معروف طریقے پر ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2804
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2804]
حضرت ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ میرے سامنے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اس پر اچھے طریقے سے سواری کر، جب تجھے ضرورت پیش آئے حتیٰ کہ تجھے سواری مل جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج65 (1324)، سنن ابی داود/المناسک 18 (1761)، (تحفة الأشراف: 2808)، مسند احمد (3/317، 324، 325، 348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
77. بَابُ: إِبَاحَةِ فَسْخِ الْحَجِّ بِعُمْرَةٍ لِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْىَ
باب: جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2805
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ، فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ، قَالَ:" أَوَ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ؟" قُلْتُ: لَا , قَالَ:" فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانُ كَذَا وَكَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا (جس کی وجہ سے) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، (اور طواف وغیرہ کر کے) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2805]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں مدینہ منورہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا (اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے، حکم دیا کہ وہ حلال ہو جائیں۔ تو جو شخص قربانی ساتھ نہیں لائے تھے، وہ حلال ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائی تھیں، وہ بھی حلال ہو گئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے تو حیض آنے لگا تھا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی تھی۔ جب محصب والی رات (چودھویں) ہوئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ حج اور عمرہ کر کے (اپنے گھروں کو) جائیں گے اور میں صرف حج کر کے جاؤں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ہم مکہ مکرمہ آئے تھے تو تم نے ان راتوں میں طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی (حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تنعیم کے مقام پر جاؤ اور عمرے کا احرام باندھو، پھر (عمرے کی ادائیگی کے بعد) ہمیں فلاں مقام پر آ ملنا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2719 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ،" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2806]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حجۃ الوداع میں) نکلے تو ہمارا ارادہ حج ہی کا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہے، وہ (طواف کرنے کے بعد) اپنے احرام پر قائم رہے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ (عمرہ کرنے کے بعد) حلال ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2651 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2807
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ؟" قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" هِيَ لِلْأَبَدِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ”احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو“، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہو جائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہو چکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو گیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہو گئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا“۔ (اسی دوران) علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو“۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے خالص حج کا احرام باندھا تھا۔ کسی اور چیز کی نیت نہیں تھی، صرف حج کی نیت تھی۔ ہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو مکہ مکرمہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ”اس احرام کو عمرہ بنا لو اور (عمرہ کر کے) حلال ہو جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں: جب ہمارے اور یومِ عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن کا فاصلہ رہ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں، ہم منیٰ کو جائیں گے تو گویا ہمارے اعضائے تناسل منی بہا رہے ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”جو بات تم نے کہی ہے، وہ مجھے پہنچ گئی ہے۔ یقیناً میں تم سب سے بڑھ کر نیک اور پرہیزگار ہوں اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں خود حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے اس بات کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا بعد میں پتہ چلا تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے کیا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا: جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم (یومِ نحر کو) جانور ذبح کرنا اور تم محرم رہو جس طرح تم ہو۔“ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں: کیا اس ہمارے عمرے کی اجازت صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 23 (1787)، (تحفة الأشراف: 4259)، مسند احمد (3/317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں، کیا ہمارا یہ عمرہ (یعنی ایام حج کے دوران میں) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج40 (2977)، (تحفة الأشراف: 3815)، مسند احمد (4/175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2809
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ: سُرَاقَةُ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ:" بَلْ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا، پھر ہم نے کہا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2808 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن