🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ: ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3898
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ طَاوُسٍ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ عَلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَحَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". فَأَبَى طَاوُسٌ , فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا. وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ: عَنْ رَافِعٍ مُرْسَلًا.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں انہیں لے کر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے (اسید) کے یہاں گیا، تو انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا، تو طاؤس نے انکار کر دیا اور کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور اس حدیث کو ابو عوانہ نے ابوحصین سے، اور ابوحصین نے مجاہد سے، اور مجاہد نے رافع رضی اللہ عنہ سے مرسلاً (یعنی منقطعا) روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3898]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت طاوس رحمہ اللہ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے کے پاس لاکھڑا کیا، تو اس نے انہیں اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین بٹائی پر دینے سے منع کیا ہے۔ لیکن حضرت طاوس رحمہ اللہ نے اسے تسلیم نہ کیا، وہ فرمانے لگے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خود سنا ہے، وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہ روایت ابوعوانہ رحمہ اللہ نے ابو حصین رحمہ اللہ سے، انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اور مجاہد رحمہ اللہ نے ابورافع رضی اللہ عنہ سے مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع21 (1550) (تحفة الأشراف: 3591) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سابقہ تمام سندوں میں مجاہد اور رافع کے درمیان یا تو اسید بن رافع بن خدیج یا اسید بن ظہیر کسی ایک کا واسطہ ہے اور اس سند میں یہ واسطہ ساقط ہے، اس لیے یہ سند منقطع ہے مگر متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3899
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ:" نَهَانَا أَنْ نَتَقَبَّلَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ خَرْجِهَا". تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن مہاجر نے ابوحصین کی متابعت کی ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3899]
حضرت رافع بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سر اور آنکھوں پر (بسر و چشم تسلیم کیا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ: ہم زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرایہ پر دیں۔ ابراہیم بن مہاجر نے (ابوحصین کی) متابعت کی ہے (اسی طرح حکم اور عبدالملک نے بھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأحکام42(1384)، (تحفة الأشراف: 3578)، مسند احمد (1/286)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2900-3903) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ:" لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ؟". قَالَ: لِفُلَانٍ , أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ. فَقَالَ:" لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ". فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا , وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے جسے آپ جانتے تھے کہ وہ ضرورت مند ہے، پھر فرمایا: یہ زمین کس کی ہے؟ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے پر دی ہے، آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پردے دی ہوتی (تو اچھا ہوتا)، تب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انصار کے پاس آ کر کہا بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو تمہارے لیے نفع بخش تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3900]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے، آپ جانتے تھے کہ وہ شخص محتاج ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ زمین کس کی ہے؟ اس نے کہا: فلاں کی ہے، اس نے مجھے کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر وہ اپنے اس (غریب) بھائی کو (وقتی طور پر عطیے کے طور پر) دے دیتا (تو کیا ہی خوب ہوتا)۔ تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ انصار کے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سند میں راوی ’’ابراہیم‘‘ کا حافظہ کمزور تھا، اور سند میں انقطاع بھی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3901
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3901]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: «حقل» کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے مقصد تہائی اور چوتھائی کے بٹائی دینے کا معاملہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يَمْنَحْهَا , أَوْ يَذَرْهَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے تو آپ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش تھی اور فرمایا: جس کے پاس کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اس میں کھیتی کرے یا وہ اسے کسی کو دیدے یا اسے (یونہی) چھوڑ دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے نفع مند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی بھائی کو بطور عطیہ (کاشت کے لیے) دے دے، یا پھر پڑی رہنے دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا , وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا، قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ لِيَذَرْهَا , أَوْ لِيَمْنَحْهَا". وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ طَاوُسًا لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو ہمیں ایک ایسی چیز سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے چھوڑ دے یا اسے (کسی کو) دیدے۔ اور اس بات کی دلیل کہ یہ حدیث طاؤس نے (رافع رضی اللہ عنہ سے خود) نہیں سنی ہے آنے والی حدیث ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3903]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے مفید تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی ہمارے لیے سب سے بڑھ کر بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: جس شخص کے پاس (فالتو) زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا پڑی رہنے دے یا کسی بھائی کو بطور وقتی عطیہ کے دے دے۔ یہ حدیث (3904) دلالت کرتی ہے کہ طاوس نے یہ حدیث حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3899 (صحیح) (سابقہ متابعات کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3904
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ طَاوُسٌ يَكْرَهُ أَنْ يُؤَاجِرَ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ , وَالْفِضَّةِ , وَلَا يَرَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بَأْسًا، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , فَاسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ , وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ ابْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا". وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعٍ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ، وَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ.
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ طاؤس اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھائے۔ البتہ (پیداوار کی) تہائی یا چوتھائی کے بدلے بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ تو ان سے مجاہد نے کہا: رافع بن خدیج کے لڑکے (اسید) کے پاس جاؤ اور ان سے ان کی حدیث سنو، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے تو میں ایسا نہ کرتا لیکن مجھ سے ایک ایسے شخص نے بیان کیا جو ان سے بڑا عالم ہے یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس اتنا فرمایا تھا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین دیدے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر ایک متعین محصول (لگان) وصول کرے۔ اس حدیث میں عطاء کے سلسلہ میں اختلاف واقع ہے، عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں: «عن عطاء، عن رافع» (عطا سے روایت ہے وہ رافع سے روایت کرتے ہیں) (جیسا کہ حدیث رقم ۳۹۰۳ میں ہے) اور یہ بات اوپر کی روایت میں گزر چکی ہے اور عبدالملک بن ابی سلیمان ( «عن رافع» کے بجائے) «عن عطاء عن جابر» کہتے ہیں (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3904]
حضرت عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ حضرت طاوس اپنی زمین سونے چاندی (یعنی رقم) کے عوض ٹھیکے پر دینا پسند کرتے تھے لیکن تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دینا جائز سمجھتے تھے۔ حضرت مجاہد نے ان سے کہا: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے ہاں جائیے اور ان سے ان کی حدیث سنیے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں ہرگز یہ کام نہ کرتا لیکن مجھے ان سے بڑے عالم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو اپنی (فالتو) زمین بطور عطیہ کے دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے، بجائے اس بات کے کہ وہ اس سے مقررہ پیداوار وصول کرلے۔ اس حدیث میں عطاء پر اختلاف کیا گیا ہے (عطاء کے شاگردوں نے اس پر اختلاف کیا ہے اور وہ اس طرح کہ) عبدالملک بن میسرہ نے (جب بیان کیا تو) کہا: «عَنْ عَطَاءٍ عَنْ رَافِعٍ» ۔ اس کا ذکر ہم سابقہ حدیث میں کر آئے ہیں۔ اور عبدالملک بن ابی سلیمان نے (جب بیان کیا تو) کہا: «عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ» ۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 10 (2330)، 18 (2342)، الہبة 35 (2634)، صحیح مسلم/البیوع 21(1550)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3389)، سنن الترمذی/الأحکام 42 (1385)، سنن ابن ماجہ/الرہون 9 (2456)، 11(2464)، (تحفة الأشراف: 5735) مسند احمد (1/234، 281، 349) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ عَجَزَ أَنْ يَزْرَعَهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، وَلَا يُزْرِعْهَا إِيَّاهُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے اور اگر وہ اس سے عاجز ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیدے اور اس سے اس میں بٹائی پر کھیتی نہ کرائے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3905]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس (فالتو) زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے۔ اگر وہ خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو اپنے مسلمان بھائی کو بطور وقتی عطیہ کے دے دے، بٹائی یا ٹھیکے پر نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17(1536)، (تحفة الأشراف: 2439)، مسند احمد (3/302، 304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا". تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو دیدے اور اسے بٹائی پر نہ دے۔ عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے (یہ متابعت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3906]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو وقتی طور پر بطور عطیہ دے دے لیکن اسے کرایہ (بٹائی یا ٹھیکے) پر نہ دے۔ اس حدیث کو (عن عطاء عن جابر سے) بیان کرنے میں عبدالرحمن بن عمرو اوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يُزْرِعْهَا , أَوْ يُمْسِكْهَا". وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں جنہیں وہ آدھا، تہائی اور چوتھائی پر اٹھاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا اس میں (بلا کرایہ لیے) کھیتی کرائے یا بلا کھیتی کرائے روکے رکھے۔ مطر بن طہمان نے اوزاعی کی موافقت (متابعت) کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3907]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس فالتو زمینیں تھیں۔ وہ انہیں نصف یا تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس فالتو زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی اسلامی بھائی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دے یا پھر سنبھالے رکھے۔ مطر بن طہمان نے اس (اوزاعی) کی موافقت کی ہے۔ (مطر نے بھی اپنی روایت میں عن عطاء میں جابر کہا ہے، نہ کہ عن ابن عباس)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الہبة 35 (2632)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن ابن ماجہ/الرہون 7 (2451)، (تحفة الأشراف: 2424)، مسند احمد (3/355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں