سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: الضَّبُعِ
باب: لکڑ بگھا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4328
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ؟ فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهَا، فَقُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ.
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا، میں نے کہا: کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ”ہاں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4328]
حضرت ابن ابی عمار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے لگڑبھگڑ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کو کہا، میں نے کہا: کیا وہ شکار میں داخل ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ کہنے لگے: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2839 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «ضبع» : ایک درندہ ہے، جو کتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس کا سربڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع «اضبع» ہے (المعجم الوسیط: ۵۳۳-۵۳۴) ہند و پاک میں اس درندے کو لکڑ بگھا کہتے ہیں، جو بھیڑیئے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کا سر چیتے کے سر کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیر اور چیتوں کے سر کو توڑ سکتا ہے، اکثر رات میں نکلتا ہے، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے، یہ جانور زمین میں سوراخ کر کے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے، نجد میں ان کی اس رہائش کو «مضبعہ» یا «مجفرہ» کہتے ہیں، ماں پورے خاندان کی نگران ہوتی ہے، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے، یہ جانور مردہ کھاتا ہے، لیکن شکار کبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آور ہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اہل نجد کے یہاں یہ جانور کھایا جاتا تھا اور لوگ اس کا شکار کرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں، سے پوچھا تو انہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندر کے گھر کا نقشہ بھی بنا کر دکھایا۔ اس کے گھر کو ماند اور کھوہ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماں نے «ضبع» کا ترجمہ بجو سے کیا ہے، فرماتے ہیں: فارسی زبان میں اسے ”کفتار“ اور ہندی میں بجو کہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ «ضبع» سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکار کیا جاتا ہے، اور اس کو لکڑ بگڑ کھا کہا جاتا ہے، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔ اوپر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور ضبع سے مراد لکڑ بگھا ہے، بجو نہیں، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں «ضبع» کی تعریف بجو سے کی گئی ہے، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کر کے یہی لکھا ہے، مولانا وحیدالزماں بجو کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے، امام شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے، تو اور درندوں کی طرح حرام ہو گا، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے“، سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑ بگھا ہی «ضبع» کا صحیح مصداق ہے، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے۔ واضح رہے کہ چیر پھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے، اور جس سے وہ چیر پھاڑ کرتا ہے، جیسے: کتا، بلی جن کا شمار گھریلو یا پالتو جانور میں ہے اور وحشی جانور جیسے: شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور (نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل) گیدڑ وغیرہ وغیرہ۔ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانور حرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑ بگھا اور لومڑی ابویوسف اور محمد بن حسن کے نزدیک حلال ہے، جمہور علماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے“ (صحیح مسلم و موطا امام مالک)۔ لکڑ بگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بنا پر حلال ہے، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑ بگھا کو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث و آثار ہیں، جن میں سے زیر نظر جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو صحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر۴/۱۵۲)، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر کو یہ بتایا کہ سعد بن ابی وقاص لکڑ بگھا کھاتے ہیں تو ابن عمر نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے: «قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فإن ربك غفور رحيم» (سورة الأنعام: 145) ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ حلال ہوں گے اور ہر کچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بنا پر لکڑ بگھا حلال ہے (ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: ۵/۱۳۳-۱۳۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
28. بَابُ: تَحْرِيمِ أَكْلِ السِّبَاعِ
باب: درندہ کھانے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4329
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ ذِي نَابَ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی دانت (سے پھاڑے) والا درندہ ہو، اسے کھانا حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4329]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کچلی والا درندہ حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 3 (1933)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3233)، (تحفة الأشراف: 14132) وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصید 3 (1479)، موطا امام مالک/الصید 4 (14)، مسند احمد (2/418) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا اور کتا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4330
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4330]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلی والے درندے“ کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 29 (5530)، الطب 57 (5780)، صحیح مسلم/الصید 3 (1932)، سنن ابی داود/الأطعمة 33 (3802)، سنن الترمذی/الصید 11 (1797)، سنن ابن ماجہ/الصید13(3232)، (تحفة الأشراف: 11874)، مسند احمد (4/193، 194، 195)، سنن الدارمی/الأضاحي 18(2024)، ویأتي فیما یلي و برقم: 4347 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4331
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ النُّهْبَى، وَلَا يَحِلُّ مِنَ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ، وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ".
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹا ہوا مال حلال نہیں، دانت (سے پھاڑنے) والا درندہ حلال نہیں، اور «مجثمہ» حلال نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4331]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈاکا ڈالنا حلال نہیں اور کوئی کچلی والا درندہ بھی حلال نہیں۔ اور باندھ کر نشانوں سے مارا ہوا جانور بھی حلال نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11865)، مسند احمد (4/194)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4443) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مجثمہ ہر وہ جانور جسے باندھ کر اس پر تیر وغیرہ چلایا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
29. بَابُ: الإِذْنِ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4332
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" نَهَى، وَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ فِي الْخَيْلِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4332]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (3219)، الصید 27 (5520)، 28 (5524)، صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن ابی داود/الأطعمة 26 (3788)، 34 (3808)، سنن الترمذی/الأطعمة 5 (1793)، (تحفة الأشراف: 2639)، مسند احمد (3/322، 356، 361، 362، 385)، سنن الدارمی/الأضاحي 22 (2036) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی جمہور علماء کا مسلک ہے اور یہی صحیح ہے، حنفیہ گھوڑے کے گوشت کو حرام کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4333
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کا گوشت کھلایا ۱؎ اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4333]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے دیا اور گدھے کے گوشت سے روک دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 5 (1793)، (تحفة الأشراف: 2539) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کھانے کی اجازت دی، جیسا کہ پچھلی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4334
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ جَابِرٍ. وعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلانا اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4334]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی جنگ کے دن ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے دیا اور گدھے کے گوشت سے روک دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2423، 2508، 2688) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4335
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4335]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں گھوڑے کا گوشت کھایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الذبائح 14 (3197)، (تحفة الأشراف: 2430)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
30. بَابُ: تَحْرِيمِ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4336
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ أَكْلُ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4336]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا جائز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 26 (3790)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 14 (3198)، (تحفة الأشراف: 3505)، مسند احمد (4/89) (ضعیف) (اس کے راوی ”صالح بن یحیی“ ضعیف، اور ان کے باپ ”یحییٰ‘‘ مجہول الحال ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3790) ابن ماجه (3198) الحديث الآتي (4337) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
حدیث نمبر: 4337
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4337]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھوڑے، خچر، گدھے اور کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3790) وانظر الحديث الآتي (4336) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353