سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: إِبَاحَةِ أَكْلِ لُحُومِ حُمُرِ الْوَحْشِ
باب: نیل گائے کا گوشت کھانے کی اباحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4348
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ هُوَ ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أَكَلْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَالْوَحْشِ، وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑوں اور نیل گائے کا گوشت کھایا، اور ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) گدھے (کے گوشت کھانے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4348]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے خیبر کے دن گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 12 (3192)، (تحفة الأشراف: 2810)، مسند احمد (3/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4349
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَثَايَا الرَّوْحَاءِ وَهُمْ حُرُمٌ، إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ مَعْقُورٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ هَذَا الْحِمَارُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ يُقَسِّمُهُ بَيْنَ النَّاسِ.
عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران جب کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحاء کے پتھروں میں چل رہے تھے اور لوگ احرام باندھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک زخمی نیل گائے ملی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو ممکن ہے اسے زخمی کرنے والا آئے“، اتنے میں قبیلہ بہز کا ایک شخص آیا، اسی نے اس کو زخمی کیا تھا، وہ بولا: اللہ کے رسول! آپ اس نیل گائے کو لے لیجئے تو آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4349]
حضرت عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحاء کے کسی مقام پر تھے، سب لوگ محرم تھے، انہوں نے ایک زخمی جنگلی گدھا دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو حتیٰ کہ اس کو شکار کرنے والا آ جائے۔“ تھوڑی دیر بعد بہز قبیلے کا وہ آدمی بھی آ گیا جس نے اسے زخمی کیا تھا، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ اس گدھے کو جو چاہیں کیجیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اسے لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10894)، مسند احمد (3/318) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4350
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: أَصَابَ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَأَتَى بِهِ أَصْحَابَهُ , وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ حَلالٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَسَأَلْنَاهُ؟، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ"، فَقَالَ لَنَا:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ"؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" فَاهْدُوا لَنَا"، فَأَتَيْنَاهُ مِنْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا: ہم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا“، پھر فرمایا: ”کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ہمیں بھی دو“، تو ہم اس میں سے کچھ گوشت آپ کے پاس لے آئے، آپ نے اس میں سے کھایا حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4350]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا، میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، وہ سب محرم تھے، صرف میں محرم نہیں تھا، ہم سب نے اس میں سے کچھ گوشت کھا لیا، پھر ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: اگر ہم اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں (تو بہتر ہے)۔ ہم نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“ پھر فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت باقی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کچھ ہمیں بھی بھیجو!“ ہم نے آپ کو بھیجا تو آپ نے اسے کھایا، حالانکہ آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 3 (2570)، الجہاد 46 (2854)، الأطعمة 19 (5406، 5407)، صحیح مسلم/الصید 8 (1196)، (تحفة الأشراف: 12099)، مسند احمد (5/307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
33. بَابُ: إِبَاحَةِ أَكْلِ لُحُومِ الدَّجَاجِ
باب: مرغی کے گوشت کے حلال ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4351
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أُتِيَ بِدَجَاجَةٍ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: ادْنُ فَكُلْ، فَإِنِّي" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ"، وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ.
زہدم سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرغی لائی گئی تو لوگوں میں سے ایک شخص وہاں سے ہٹ گیا، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ وہ بولا: میں نے اسے دیکھا کہ وہ کوئی چیز کھا رہی تھی تو میں نے اس کو گندہ سمجھا اور قسم کھا لی کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب آؤ اور کھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے، اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4351]
حضرت زہدم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرغ لایا گیا۔ ایک شخص ایک طرف کو ہٹ گیا (باقی لوگ کھانے لگے)۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا ہے، اس لیے مجھے اس سے نفرت ہو گئی ہے۔ تو میں نے قسم کھا لی تھی کہ مرغ کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: قریب آ کر کھا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کھاتے دیکھا ہے، پھر آپ نے اسے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرنے کو کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3810 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4352
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَقُدِّمَ طَعَامُهُ، وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى فَلَمْ يَدْنُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: ادْنُ , فَإِنِّي قَدْ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ".
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، اتنے میں انہیں ان کا کھانا پیش کیا گیا اور ان کے کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا گیا، لوگوں میں بنی تیم کا ایک سرخ آدمی تھا جیسے وہ غلام ہو ۱؎، وہ کھانے کے قریب نہیں آیا، اس سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4352]
حضرت زہدم جرمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کا کھانا پیش کیا گیا اور ان کے کھانے میں مرغ کا گوشت تھا۔ حاضرین میں بنو تیم اللہ کے قبیلے میں سے ایک سرخ رنگ کا شخص تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ غلام ہو۔ وہ کھانے کے قریب نہ آیا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (کھانے کے) قریب ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3810 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ عام طور پر غلام عجمی ہوتے ہیں جو رومی یا ایرانی اور ترکی ہوتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4353
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پنجے والے تمام پرندوں کو کھانے سے اور دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4353]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ”پنجے کے ساتھ شکار کرنے والے پرندے اور کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے“ منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 33 (3803)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3805)، (تحفة الأشراف: 5639)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 3 (1934)، مسند احمد (1/ 339) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور چونکہ مرغی ان میں سے نہیں ہے اس لیے حلال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3805) ابن ماجه (3234) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
34. بَابُ: إِبَاحَةِ أَكْلِ الْعَصَافِيرِ
باب: گوریا کھانے کی اباحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4354
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ:" يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4354]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے جانور کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کر کے کھائے، اس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8829)، مسند احمد (2/166، 197، 210)، سنن الدارمی/الأضاحي 16 (2021)، ویأتي عند المؤلف في الضحایا 42 (برقم: 4450) (حسن) (تراجع الالبانی 457، صحیح الترغیب والت رہیب 2266)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
35. بَابُ: مَيْتَةِ الْبَحْرِ
باب: مردہ سمندری جانوروں کی حلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4355
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي مَاءِ الْبَحْرِ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے پانی کے سلسلے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4355]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے پانی کے بارے میں فرمایا: ”سمندر کا پانی طاہر ومطہر ہے اور اس کا جانور بلا ذبح حلال ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 59 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سمندر کا مردار حلال ہے اس سے مراد سمندر کے وہ حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مر گئے اور سمندر نے ان کو ساحل کی طرف بہا دیا ہو اسی کو قرآن میں: «أحل لكم صيد البحر وطعامه» (المائدة: 96) میں طَعام سے مراد لیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ کہلاتا ہے جو خشکی میں زندگی نہ گزار سکے جیسے مچھلی۔ مچھلی کی تمام اقسام حلال ہیں، دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں اگر کسی جانور کا نص شرعی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کھانا ثابت نہیں ہے، جبکہ وہ جانور ان کے زمانہ میں موجود تھا تو اس کے نہ کھانے کے بارے میں ان کی اقتداء ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4356
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ؟، قَالَ:" لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، فَأَتَيْنَا الْبَحْرَ، فَإِذَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سریہ فوجی ٹولی میں) بھیجا، ہم تین سو تھے، ہم اپنا زاد سفر اپنی گردنوں پر لیے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کے حصے میں روزانہ ایک کھجور آتی تھی، عرض کیا گیا: ابوعبداللہ! اتنی سی کھجور آدمی کا کیا بھلا کرے گی؟ انہوں نے کہا: ہمیں اس کا فائدہ تب معلوم ہوا جب ہم نے اسے بھی ختم کر دیا، پھر ہم سمندر پر گئے، دیکھا کہ ایک مچھلی ہے جسے سمندر نے باہر پھینک دیا ہے، تو ہم نے اسے اٹھارہ دن تک کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4356]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ساحل سمندر پر) بھیجا، ہم تین سو آدمی تھے، ہم نے اپنا زادِ راہ اپنی گردنوں پر اٹھایا ہوا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا حتیٰ کہ ہم میں سے ہر آدمی کو ایک دن میں ایک کھجور ملتی تھی۔ ان سے پوچھا گیا: اے ابو عبداللہ! ایک کھجور آدمی کا کیا گزارا کرتی ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: جب کھجوریں بالکل ختم ہو گئیں تو ہمیں اس ایک کھجور کی بھی قدر معلوم ہوتی تھی۔ ہم ساحل سمندر پر پہنچے تو ہم نے ناگہاں وہاں ایک بڑی مچھلی دیکھی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم نے اس میں سے اٹھارہ دن کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشرکة 1 (2483)، الجہاد 124 (2983)، المغازي 65 (3463)، الصید 12 (5494)، سنن الترمذی/القیامة 34 (2475)، سنن ابن ماجہ/الزہد12(4159)، (تحفة الأشراف: 3125)، موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ10(24) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4357
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ، أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ , فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، قَالَ: فَأَلْقَى الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ فَثَابَتْ أَجْسَامُنَا، وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ جَمَلٍ، وَأَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ فَمَرَّ تَحْتَهُ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ جَاعُوا فَنَحَرَ رَجُلٌ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ"؟، قَالَ: فَأَخْرَجْنَا مِنْ عَيْنَيْهِ كَذَا وَكَذَا، قُلَّةً مِنْ وَدَكٍ، وَنَزَلَ فِي حَجَّاجِ عَيْنِهِ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ، وَكَانَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ جِرَابٌ فِيهِ تَمْرٌ فَكَانَ يُعْطِينَا الْقَبْضَةَ، ثُمَّ صَارَ إِلَى التَّمْرَةِ، فَلَمَّا فَقَدْنَاهَا وَجَدْنَا فَقْدَهَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہم قریش کی گھات میں تھے، چنانچہ ہم سمندر کے کنارے ٹھہرے، ہمیں سخت بھوک لگی یہاں تک کہ ہم نے درخت کے پتے کھائے، اتنے میں سمندر نے ایک جانور نکال پھینکا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا، تو ہمارے بدن صحیح ثابت ہو گئے، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی لی پھر فوج میں سے سب سے لمبے شخص کو اونٹ پر بٹھایا، وہ اس کے نیچے سے گزر گیا، پھر ان لوگوں کو بھوک لگی، تو ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کئے، پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا، (سفیان کہتے ہیں: ابوالزبیر جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں)، پھر ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا اس کا کچھ بقیہ تمہارے پاس ہے؟“ پھر ہم نے اس کی آنکھوں کی چربی کا اتنا اتنا گھڑا (بھرا ہوا) نکالا اور اس کی آنکھ کے حلقے میں سے چار لوگ نکل گئے، ابوعبیدہ کے ساتھ ایک تھیلا تھا، جس میں کھجوریں تھیں وہ ہمیں ایک مٹھی کھجور دیتے تھے پھر ایک ایک کھجور ملنے لگی، جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کے نہ ملنے کا احساس ہوا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4357]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو اونٹ سواروں کو (ساحل کی طرف) بھیجا۔ ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم قریش کے ایک قافلے کی گھات میں تھے۔ ہم ساحل پر جا ٹھہرے۔ ہمیں سخت بھوک کا سامنا تھا حتیٰ کہ ہم پتے کھانے لگے، پھر سمندر (کی لہروں) نے ایک آبی جانور (ساحل پر) پھینک دیا۔ اس کو «عَنْبَر» ”عنبر“ کہا جاتا تھا۔ ہم اس سے تقریباً نصف ماہ کھاتے رہے۔ ہم نے اس کی چربی کو بھی خوب استعمال کیا تو ہمارے جسم پہلے کی طرح موٹے تازے ہو گئے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا، پھر لشکر میں سے سب سے اونچا اونٹ اور سب سے لمبا آدمی تلاش کیا۔ وہ آدمی اس اونٹ پر سوار ہو کر پسلی کے نیچے سے صاف گزر گیا۔ (اسی سفر کا واقعہ ہے کہ) پھر لوگ بھوک میں مبتلا ہوئے تو ایک آدمی نے تین اونٹ نحر کیے، پھر انہیں بھوک لگی تو مزید تین اونٹ نحر کر دیے، وہ پھر بھوک کا شکار ہوئے تو اسی نے مزید تین اونٹ نحر کر دیے، وہ پھر بھوک کا شکار ہوئے تو اسی نے مزید تین اونٹ نحر کیے، پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے (بحیثیت امیر) اسے روک دیا۔ (راوی حدیث) سفیان نے ابو زبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا (انہوں نے فرمایا کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور) ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے متعلق) پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس جانور کا کچھ گوشت باقی ہے؟“ (حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ہم نے اس آبی جانور کی آنکھوں سے بہت سے مٹکے چربی کے نکالے اور اس کی آنکھ کے گڑھے میں چار آدمی باآسانی اتر گئے۔ اور (اسی سفر کا واقعہ ہے کہ) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کھجوروں کی تھیلی تھی جس میں سے وہ ہمیں مٹھی مٹھی دیا کرتے تھے، پھر نوبت ایک ایک کھجور تک آگئی۔ جب کھجوریں بالکل ختم ہو گئیں تو (اس وقت) ہمیں ایک کھجور کی قدر و قیمت معلوم ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 65 (4361)، الصید 12 (5494)، صحیح مسلم/الصید 3 (1935)، (تحفة الأشراف: 2529، 2770)، مسند احمد (3/308)، سنن الدارمی/الصید 6 (2055) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں واقعات کی ترتیب آگے پیچھے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه