🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ: امْتِنَاعِ الْمَلاَئِكَةِ مِنْ دُخُولِ بَيْتٍ فِيهِ كَلْبٌ
باب: جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4288
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمَ. فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي". قَالَ: فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ , فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ. قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ". قَالَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، آپ اس دن اسی طرح (غمزدہ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے (پلے) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل علیہ السلام ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4288]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے افسردہ سے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج صبح سے آپ کی حالت عجیب سی محسوس ہو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ملے نہیں۔ اللہ کی قسم! انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔ آپ سارا دن اسی طرح رہے، پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری بستروں والی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا بیٹھا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے وہاں کچھ پانی چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آپ سے ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: آپ نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ گزشتہ رات مجھ سے ملیں گے؟ وہ کہنے لگے: ہاں، لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 26 (2105)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4157)، (تحفة الأشراف: 18068)، مسند احمد (6/330) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ لِلْمَاشِيَةِ
باب: جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4289
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ إِلَّا ضَارِيًا، أَوْ صَاحِبَ مَاشِيَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے اجر سے دو قیراط اجر کم ہو گا، سوائے شکاری یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4289]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کتا رکھے، اس کے ثواب سے ہر روز دو قیراط کم کیے جائیں گے، الا یہ کہ وہ شکاری ہو یا جانوروں کی حفاظت کے لیے رکھا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 6 (5480)، صحیح مسلم/المساقاة 10(1574)، (تحفة الأشراف: 6750) مسند احمد (2/47، 156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4290
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ خُصَيْفَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَائِيُّ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ". قُلْتُ: يَا سُفْيَانُ , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے ایسا کتا پالا جو نہ کھیت کی حفاظت کرے اور نہ جانوروں کی تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، میں نے عرض کیا: سفیان! کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4290]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سفیان بن ابو زہیر شنئی رضی اللہ عنہ آئے اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا کتا رکھا جو نہ کھیتی کی حفاظت کرتا ہو اور نہ جانوروں کی (اور نہ وہ شکاری ہو) تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط ثواب کم کیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے سفیان! کیا آپ نے یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 3 (2323)، بدء الخلق 17 (3325)، صحیح مسلم/المساقاة 10 (1576)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3206)، (تحفة الأشراف: 4476)، موطا امام مالک/الإستئذان 5 (13)، مسند احمد (5/219، 220)، سنن الدارمی/الصید 2 (2048) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قیراط اور دو قیراط کا اختلاف شاید زمان و مکان کے اعتبار سے ہے، چنانچہ ابتداء میں کتوں کے قتل کا حکم ہوا پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور ثواب میں سے دو قیراط کی کمی کی خبر دی گئی پھر اس میں تخفیف ہوئی اور ایک قیراط کی خبر دی گئی (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ لِلصَّيْدِ
باب: شکار کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4291
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شکار کرنے والے کتے یا جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4291]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شکار یا جانوروں کے لیے کتے کے علاوہ کتا رکھے تو اس کے ثواب سے ہر روز دو قیراط کم کیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4292
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4292]
حضرت سالم اپنے والد محترم (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شکار یا جانوروں (اور کھیتی) کے کتے کے علاوہ کتا رکھا، اس کے ثواب سے ہر روز دو قیراط کم کیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (1574)، (تحفة الأشراف: 6831)، مسند احمد (2/8) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ لِلْحَرْثِ
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ومحمد بن جعفر , عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، أَوْ زَرْعٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شکاری کتے، یا جانوروں یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر ایک قیراط کم ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4293]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کتا رکھا جو نہ شکاری ہو اور نہ جانوروں یا کھیتی کی حفاظت کے لیے ہو تو اس کے ثواب سے ہر روز ایک قیراط کی کمی ہوتی رہے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4285 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4294
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شکاری کتے یا کھیتی اور جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو اس کے عمل (اجر) میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4294]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شکار یا کھیتی یا جانوروں کے کتے کے علاوہ کوئی کتا رکھا، اس کے اعمال صالحہ سے ہر روز ایک قیراط کی کمی ہوتی رہے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (البیوع31) (1575) سنن ابی داود/الصید 1(2844)، سنن الترمذی/الصید4(1490)، (تحفة الأشراف: 15271)، مسند احمد (2/267، 345) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4295
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ایسے کتے کو پالا جو نہ تو شکاری ہو نہ جانوروں کی نگرانی کے لیے ہو اور نہ ہی زمین (کھیتی) کی رکھوالی کے لیے، تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4295]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جانوروں کی حفاظت یا شکار کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا، اس کے نیک اعمال سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (1575)، (تحفة الأشراف: 13346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4296
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے عمل (اجر) میں سے ایک قیراط کم ہو گا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: یا کھیتی کا کتا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4296]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جانوروں کی حفاظت یا شکار کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا، اس کے نیک اعمال سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ بھی بیان فرمائے کہ کھیتی کی حفاظت والا کتا بھی رکھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 10 (1574)، (تحفة الأشراف: 6796) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ
باب: کتے کی قیمت لینے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4297
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎ زانیہ عورت کی کمائی ۲؎ اور کاہن کی اجرت ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4297]
حضرت ابو مسعود عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی شیرینی (نذر و نیاز) سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 113 (2237)، الإجارة 20 (2282)، الطلاق51(5346)، الطب 46 (5761)، صحیح مسلم/المساقاة 9 (البیوع30) (1567)، سنن ابی داود/البیوع41(3428)، 65(3481)، سنن الترمذی/النکاح 37 (1133)، البیوع 46 (1276)، الطب 23 (2071)، سنن ابن ماجہ/التجارات9(2159)، (تحفة الأشراف: 10010)، موطا امام مالک/البیوع 29 (68)، مسند احمد 1/118، 120، 140، سنن الدارمی/البیوع 34 (2610)، ویأتي عند المؤلف في البیوع 91 (برقم4670) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کتا نجس و ناپاک جانور ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہو گی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے جس میں پہلی مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائیداد اور جانوروں کی رکھوالی کے لیے ہو۔ مگر ایسے کتوں کی بھی تجارت ناپسندیدہ ہے، اور جس حدیث میں اس کی رخصت کی بات آئی ہے اس کی صحت میں سخت اختلاف ہے، (جیسے حدیث نمبر ۴۳۰۰) ۲؎ چونکہ زنا بڑے گناہوں اور فحش کاموں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ۳؎: علم غیب رب العالمین کے لیے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا بڑا گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل طریقے سے لوگوں سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں