🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ فِي لَفْظِ هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث کے الفاظ میں عبداللہ بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4484
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا , إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیع خیار کے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4484]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو سودا کرنے والوں کے درمیان سودا پکا نہیں ہوتا حتیٰ کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں مگر خیار والی بیع (کا حکم الگ ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7195)، مسند احمد (2/15) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4485
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں، إلا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4485]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سودا کرنے والے دو شخص جب تک جدا نہ ہوں، سودے کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ وہ بیع خیار والی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7173)، مسند احمد (2/9) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4486
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا , أَوْ يَأْخُذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الْبَيْعِ مَا هَوِيَ , وَيَتَخَايَرَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک بیع کو اپنی مرضی کے مطابق لے اور وہ تین بار اختیار لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4486]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سودا کرنے والے دو شخص ایک دوسرے سے جدا ہونے تک سودے کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں، یا پھر ان میں سے ہر ایک اپنی پسند کی بیع کرے۔ اور وہ دونوں تین دفعہ ایک دوسرے کو اختیار دے دیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2183)، (تحفة الأشراف: 4600)، مسند احمد (5/12، 17، 21، 22، 23) (ضعیف) (اس کے رواة ’’قتادہ‘‘ اور ’’حسن بصری‘‘ دونوں مدلس ہیں اور ”عنعنہ“ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کے سماع میں بھی اختلاف ہے، مگر اس حدیث کا پہلا ٹکڑا پہلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وحديث ابن ماجه (2183) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4487
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا , وَيَأْخُذْ أَحَدُهُمَا مَا رَضِيَ مِنْ صَاحِبِهِ أَوْ هَوِيَ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے راضی نہ ہو جائے، یا خواہش پوری نہ کر لے (یعنی بیع خیار تک)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4487]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سودا کرنے والے دو شخص ایک دوسرے سے جدا ہونے تک بیع کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں، یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے اس کی حتمی رضا مندی معلوم کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وحديث ابن ماجه (2183) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: وُجُوبِ الْخِيَارِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ قَبْلَ افْتِرَاقِهِمَا بِأَبْدَانِهِمَا
باب: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ایک دوسرے سے جسمانی طور پر جدا ہونے تک بیع کے توڑنے کے سلسلے میں اختیار حاصل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4488
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ , وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو، اور (کسی فریق کے لیے) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4488]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سودا کرنے والے دونوں شخص (بائع اور مشتری) جدا ہونے تک سودے کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں، الا یہ کہ وہ سودے کے دوران میں اختیار ختم کر چکے ہوں۔ اور کسی ایک فریق کو اجازت نہیں کہ وہ سودے کی واپسی کے ڈر سے اپنے ساتھی سے جدا ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 53 (3456)، سنن الترمذی/البیوع26(1247)، (تحفة الأشراف: 8797)، مسند احمد (2/183) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ جدائی سے مراد جسمانی جدائی ہے، یعنی دونوں کی مجلس بدل جائے، نہ کہ مجلس ایک ہی ہو اور بات چیت کا موضوع بدل جائے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: الْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4489
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" , فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ , يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا: جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو: فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: دھوکہ دھڑی نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4489]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ (اکثر و بیشتر) اس کے ساتھ سودے میں دھوکا اور فریب کیا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ دیا کر: «لَا خِلَابَةَ» دھوکا نہیں چلے گا۔پھر وہ آدمی جب بھی سودا کرتا تو کہہ دیا کرتا تھا کہ «لَا خِلَابَةَ» دھوکا نہیں چلے گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 48 (2117)، الاستقراض 19 (2407)، الخصومات 3 (2414)، الحیل 7 (6964)، صحیح مسلم/البیوع 12 (1533)، سنن ابی داود/البیوع 68 (3500)، (تحفة الأشراف: 7229)، موطا امام مالک/البیوع 46 (98) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہو جاتا اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ اسے فسخ کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4490
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ كَانَ يُبَايِعُ , وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , احْجُرْ عَلَيْهِ , فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ , قَالَ:" إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کم عقلی کا شکار تھا اور تجارت کرتا تھا، اس کے گھر والوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! آپ اسے تجارت کرنے سے روک دیجئیے، تو آپ نے اسے بلایا اور اسے اس سے روکا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں تجارت سے باز نہیں آ سکتا، تو آپ نے فرمایا: جب بیچو تو کہو: فریب و دھوکہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4490]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی کی سوجھ بوجھ میں کچھ کمی تھی۔ وہ سودے کیا کرتا تھا (اور نقصان اٹھاتا تھا) اس کے گھر والوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس پر سودے کرنے کی پابندی لگا دیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اسے سودے کرنے سے منع فرمایا۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں سودا کرنے سے نہیں رک سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: جب تو سودا کرے تو کہہ دیا کر: «لَا خِلَابَةَ» دھوکا نہیں ہونا چاہیے۔ (ورنہ سودا واپس ہو جائے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 68 (3501)، سنن الترمذی/البیوع 28 (1250)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 24 (2354)، (تحفة الأشراف: 1175)، مسند احمد (3/217) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: الْمُحَفَّلَةِ
باب: جانور کے تھن میں دودھ روک کر اسے بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4491
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ الشَّاةَ أَوِ اللَّقْحَةَ , فَلَا يُحَفِّلْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب بکری یا اونٹنی بیچے تو اس کے تھن میں دودھ روک کر نہ رکھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4491]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بکری یا دودھ والی اونٹنی بیچنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اس کا دودھ دوہنا بند نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14846)، مسند احمد 2/273، 481 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ایسے جانور کو اگر بیچا جائے گا تو خریدار کے ساتھ دھوکہ ہو گا اور کسی کو دھوکہ دینا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْمُصَرَّاةِ
باب: «مصراۃ» (تھن باندھے جانور) کی بیع منع ہے «مصراۃ» : اس اونٹنی یا بکری کو کہتے ہیں: جس کے تھن کو باندھ دیا جاتا ہے اور دو تین دن اسے دوہنا ترک کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دودھ اکٹھا ہوتا رہتا ہے، خریدنے والا اس کا دودھ زیادہ دیکھ کر اس کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4492
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ , وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ , مَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ , فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا , وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے جا کر تجارتی قافلے سے مت ملو ۱؎ اور اونٹنیوں اور بکریوں کو ان کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو ۲؎، اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو اسے لوٹا دے اور (لوٹاتے وقت) اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دیدے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4492]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلے والے قافلوں کو (منڈی سے باہر جا کر) خرید و فروخت کے لیے نہ ملو اور اونٹنی یا بکری کا دودھ نہ روکو۔ جو شخص ایسا جانور خرید لے تو اسے (دودھ دوہنے کے بعد) دو چیزوں میں سے بہتر کا اختیار ہے۔ اگر چاہے تو جانور رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13722) مسند احمد (2/242، 243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ باہر سے آنے والے تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہو سکتا ہے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہو گا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔ ۲؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو «تصریہ» کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ۳؎: تاکہ وہ اس دودھ کا بدل بن سکے جو خریددار نے دوہ لیا ہے، نیز واضح رہے کہ کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جا سکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراؤ ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جا رہی ہے اس لیے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی، بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو صحیح اور ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل و قال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔ کسی قیاس سے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4493
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ ابْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَإِنْ رَضِيَهَا إِذَا حَلَبَهَا فَلْيُمْسِكْهَا , وَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ اس کے تھن میں روک رکھا گیا ہو تو جب اسے دو ہے اور اس پر راضی ہو جائے تو چاہیئے کہ اسے روک لے اور اگر اسے وہ ناپسند ہو تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دیدے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4493]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ روکا گیا تھا تو (اس دھوکے کا پتا چل جانے پر) وہ (خریدار) چاہے تو اسے رکھ لے، چاہے واپس کر دے (لیکن واپسی کی صورت میں) اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دینا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 65 (2148 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1524)، (تحفة الأشراف: 14629)، مسند احمد (2/463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں