سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: الْمُنْفِقِ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ
باب: جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4464
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْكَذِبِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہیں دیکھے گا، اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: وہ شخص جو کوئی بھی چیز دیتا ہے تو احسان جتاتا ہے، جو غرور اور گھمنڈ سے تہبند لٹکاتا ہے اور جو جھوٹ بول کر اپنا سامان بیچتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4464]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو (نظرِ رحمت و محبت سے) نہیں دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ وہ شخص جو اپنے عطیے پر احسان جتلاتا ہے، جو شخص اپنا تہ بند لٹکاتا ہے اور جو شخص جھوٹ بول کر اپنا سامان بیچتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2564 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4465
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ".
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ خرید و فروخت میں کثرت سے قسم کھانے سے بچو، اس لیے کہ (قسم کھانے سے) سامان تو بک جاتا ہے، لیکن برکت ختم جاتی رہتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4465]
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سودا کرتے وقت زیادہ قسمیں نہ کھایا کرو کیونکہ (جھوٹی) قسم سے سامان تو بک جاتا ہے مگر برکت اٹھ جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 27 (البیوع) 48 (1607)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2209)، (تحفة الأشراف: 12129)، مسند احمد (5/297، 298، 301) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4466
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم کھانے سے سامان بک تو جاتا ہے، لیکن کمائی (کی برکت) ختم ہو جاتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4466]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اٹھانے سے سامان تو فروخت ہو جاتا ہے مگر کمائی (کی برکت) ختم ہو جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 26 (2087)، صحیح مسلم/المساقاة 27 (البیوع 48) (1606)، سنن ابی داود/البیوع 6 (3335)، (تحفة الأشراف: 1331)، مسند احمد (2/235، 242، 413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
6. بَابُ: الْحَلِفِ الْوَاجِبِ لِلْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ میں ڈال دینے والی قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4467
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ ابْنَ السَّبِيلِ مِنْهُ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لِدُنْيَا إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی طرف نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک شخص وہ ہے جو راستے میں فاضل پانی کا مالک ہو اور مسافر کو دینے سے منع کرے، ایک وہ شخص جو دنیا کی خاطر کسی امام (خلیفہ) کے ہاتھ پر بیعت کرے، اگر وہ اس کا مطالبہ پورا کر دے تو عہد بیعت کو پورا کرے اور مطالبہ پورا نہ کرے تو عہد بیعت کو پورا نہ کرے، ایک وہ شخص جو عصر بعد کسی شخص سے کسی سامان پر مول تول کرے اور اس کے لیے اللہ کی قسم کھائے کہ یہ اتنے اتنے میں لیا گیا تھا تو دوسرا (یعنی خریدنے والا) اسے سچا جانے (حالانکہ اس نے اس سے کم قیمت میں خریدی تھی) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4467]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کو دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ہی کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ایک وہ آدمی جس کے ہاں گزرگاہ کے پاس (اس کی ضرورت سے) فالتو پانی ہے لیکن وہ مسافر کو پانی لینے سے روک دے۔ دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیوی مفاد کی خاطر کسی امام سے بیعت کرتا ہے، اگر امام اس کو اس کی منشا کے مطابق دیتا رہے تو وہ بیعت پر قائم رہتا ہے اور اگر نہ دے تو توڑ دیتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی آدمی سے عصر کے بعد سامان کا بھاؤ کرتا ہے اور اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس سامان کے بدلے اسے اس قدر رقم ملتی تھی (حالانکہ اسے اتنی رقم نہیں ملتی تھی)، دوسرا اس کی تصدیق کر دیتا ہے (اور سامان خرید لیتا ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان46(108)، سنن ابی داود/البیوع 62 (3474)، (تحفة الأشراف: 12338)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2207)، الجہاد 42 (2870)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عصر کے بعد کے وقت خرید و فروخت میں جھوٹی قسم کھانے پر وعید ہے، اس سے جہاں یہ حکم ثابت ہوا وہیں پر عصر کے بعد کی فضیلت ثابت ہوئی، اس وقت رب کی مرضی کے خلاف اس طرح کا اقدام جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و تقدیس کا سہارا لے کر آدمی دنیاوی ترقی کا خواہش معیوب ہے، جب کہ جھوٹ بول کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ مقاصد حاصل کرنا ہر وقت معیوب اور غلط ہے، عصر بعد مزید شناعت و برائی ہے، شاید یہ وقت بازار کی بھیڑ اور اس میں لوگوں کے ریل پیل کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
7. بَابُ: الأَمْرِ بِالصَّدَقَةِ لِمَنْ لَمْ يَعْتَقِدِ الْيَمِينَ بِقَلْبِهِ فِي حَالِ بَيْعِهِ
باب: خرید و فروخت کے وقت دل سے قسم نہ کھانے والے کو صدقہ کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 4468
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا، وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، وَيُسَمِّينَا النَّاسُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ لَنَا مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ، وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے میں (غلوں سے بھرے) وسق خریدتے اور بیچتے تھے، اور ہم اپنا نام «سمسار» (دلال) رکھتے تھے، لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے اور ہمارا ایسا نام رکھا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بہتر تھا، اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں قسم اور لغو باتیں آ جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ کو ملا دیا کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4468]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مدینہ منورہ میں غلے وغیرہ کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو «السِّمْسَارُ» ”سمسار“ کہا کرتے تھے، لوگ بھی ہمیں اسی لفظ سے موسوم کرتے تھے حتیٰ کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں (بازار میں) تشریف لائے اور ہمیں ایسے نام سے پکارا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بدرجہا بہتر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں بلا قصد قسمیں اور فضول باتیں واقع ہوتی رہتی ہیں، لہٰذا تم صدقہ کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خرید و فروخت کے وقت زبان سے «لا واللہ» اور «بلیٰ واللہ» ، اللہ کی قسم، قسم اللہ کی ایمان سے وغیرہ وغیرہ جیسے قسمیہ الفاظ جو نکل جاتے ہیں ان کا شمار یمین لغو (بیکار قسم) میں ہوتا ہے، ان کا کفارہ صدقہ کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
8. بَابُ: وُجُوبِ الْخِيَارِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ قَبْلَ افْتِرَاقِهِمَا
باب: خرید و فروخت کرنے والے جب تک جدا نہ ہوں دونوں کے لیے حق اختیار کے باقی رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4469
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک جدا نہ ہو جائیں دونوں کو اختیار رہتا ہے ۱؎، اگر وہ عیب بیان کر دیں اور سچ بولیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت ختم ہو جاتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4469]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دو شخص جدا ہونے سے پہلے بیع کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں۔ اگر وہ ہر بات واضح بیان کر دیں اور سچ بولیں تو ان کی بیع میں برکت ہو گی۔ اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور صورت حال کو چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت اٹھ جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4462 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: بیع کو فسخ (کالعدم) کر دینے کا اختیار دونوں فریق کو صرف اسی مجلس تک ہوتا ہے جس مجلس میں بیع کا معاملہ طے ہوا ہو، مجلس ختم ہو جانے کے بعد دونوں کا اختیار ختم ہو جاتا ہے اب معاملہ فریق ثانی کی رضا مندی پر ہو گا اگر وہ راضی نہ ہوا تو بیع نافذ رہے گی۔ الا یہ کہ معاملہ کے اندر کسی اور وقت تک کی شرط رکھی گئی ہو۔ تو اس وقت تک اختیار باقی رہے گا (دیکھئیے اگلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
9. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى نَافِعٍ فِي لَفْظِ حَدِيثِهِ
باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والا جب تک الگ الگ نہ ہو جائیں دونوں کو اپنے ساتھی پر اختیار رہتا ہے، سوائے اس بیع کے جس میں اختیار کی شرط ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4470]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دو اشخاص میں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ جدا ہونے سے قبل سودا واپس کرے، البتہ بیع خیار میں ایسے نہیں ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن ابی داود/البیوع 53 (3454)، (تحفة الأشراف: 8341)، مسند احمد (1/56) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: وہ معاملہ جس میں طرفین سے یہ طے ہو کہ فلان تاریخ تک یا اتنے دن تک معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار رہے گا، اس معاملہ میں مقررہ مدت تک حق اختیار اور حاصل رہے گا، باقی دیگر معاملات میں صرف معاملہ کی مجلس ختم ہونے تک اختیار رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4471
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں، یا پھر اختیار کی شرط ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4471]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دو اشخاص جب تک جدا نہ ہوں، واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ بیعِ خیار ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531م)، (تحفة الأشراف: 8180)، مسند احمد (2/54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں، سوائے اس کے کہ بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو، لہٰذا اگر بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہے تو بیع ہو جاتی ہے“ (البتہ اختیار باقی رہتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4472]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو سودا کرنے والے جب تک جدا نہ ہوں، واپسی کا اختیار رکھتے ہیں، الا یہ کہ وہ سودا خیار والا ہو۔ اگر سودے میں اختیار ختم کر دیا گیا ہو تو بیع پکی ہو گئی (اب واپسی کا اختیار نہیں رہے گا، خواہ مجلس قائم بھی ہو)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 7506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4473
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان کی بیع میں اختیار کی شرط ہو، تو اگر بیع میں شرط اختیار ہو تو بیع ہو جاتی ہے (لیکن حق اختیار باقی رہتا ہے)“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4473]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو شخص سودا کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کی واپسی کے بارے میں ایک دوسرے کے جدا ہونے تک اختیار حاصل ہے یا ان کی بیع میں اختیار ختم کر دیا گیا ہو، اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہو گئی۔ (اب واپسی نہیں ہو گی)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7779) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم