🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ مَا لَمْ يَعْمَلْ
باب: جو کام نہیں کیے ان کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی (پیشگی) پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5530
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ , سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي بِدُعَاءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے ایسی دعا بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں۔ وہ بولیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ”اے اللہ! میں اس عمل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیا ہے اور جو نہیں کیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5530]
حضرت فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی دعا بتلائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» ”اے اللہ! میں ان کاموں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو میں کر چکا ہوں اور ان کاموں کے شر سے بھی جو میں نے (ابھی تک) نہیں کیے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1308 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْخَسْفِ
باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5531
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَهُوَ الْخَسْفُ، قَالَ عُبَادَةُ: فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ”اے اللہ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں“۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» ”اے اللہ! میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر نے کہا کہ نیچے سے اچانک ہلاک کر دیے جانے سے مراد ہے زمین میں دھنس جانا۔ عبادہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا جبیر کا (اپنا) قول ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 110 (5074)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3871)، (تحفة الأشراف: 6673)، مسند احمد (2/25)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 181 (566) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5532
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ" , فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم» ”اے اللہ!“ پھر انہوں نے دعا کا ذکر کیا جس کے آخر میں یہ کہا: «أعوذ بك أن أغتال من تحتي‏» ”میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں نیچے کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنس جاؤں“ اس سے آپ (زمین میں) دھنس جانا مراد لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ!“ پھر راوی نے دعا ذکر کی جس کے آخر میں یہ لفظ ہیں: ”میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جائے۔“ ان الفاظ سے آپ کا مقصد دھنسائے جانے سے پناہ طلب کرنا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ التَّرَدِّي وَالْهَدْمِ
باب: گر پڑنے اور مکان یا دیوار سے دبنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5533
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي وَالْهَدْمِ وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من التردي والهدم والغرق والحريق وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا وأعوذ بك أن أموت لديغا» ”اے اللہ! میں اونچائی سے گر پڑنے، دیوار کے نیچے دب جانے، ڈوب جانے، اور جل جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بہکا دے، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مروں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ (کسی موذی کے) ڈس لینے کی وجہ سے مروں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5533]
حضرت ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَالْهَدْمِ، وَالْغَرَقِ، وَالْحَرِيقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ کسی اونچی جگہ سے گر جاؤں، یا کوئی عمارت مجھ پر گر جائے، یا غرق ہو جاؤں، یا آگ میں جل مروں، اور میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے مرتے وقت شیطان بدحواس کر دے، اور میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ تیرے راستے میں (دوران جہاد میں) میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہوا مارا جاؤں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ کسی زہریلی چیز کے ڈسنے سے مر جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1552، 1553)، (تحفة الأشراف: 11124)، مسند احمد (3/427)، یأتي برقم: 5534، 5535 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5534
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو، فَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ وَالتَّرَدِّي، وَالْهَدْمِ وَالْغَمِّ، وَالْحَرِيقِ وَالْغَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تو کہتے: «اللہم إني أعوذ بك من الهرم والتردي والهدم والغم والحريق والغرق وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت وأن أقتل في سبيلك مدبرا وأعوذ بك أن أموت لديغا» ”اے اللہ! میں بڑھاپے سے، گر پڑنے، دب جانے، رنج و غم میں مبتلا ہونے سے، جل جانے اور ڈوب جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان مجھے موت کے وقت بہکا دے، اور اس بات سے کہ میں تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے بھی کہ میری موت کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5534]
حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یوں فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ، وَالتَّرَدِّي، وَالْهَدْمِ، وَالْغَمِّ، وَالْحَرِيقِ، وَالْغَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ”اے اللہ! میں سخت بڑھاپے، اونچی جگہ سے گر جانے، دب جانے، غم و اندوہ، آگ سے جل مرنے اور غرق ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میری موت کے وقت شیطان مجھے بدحواس کر دے، اور یہ کہ میں دورانِ جہاد میں میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہوا مارا جاؤں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں کسی زہریلی چیز کے ڈنک سے مر جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5535
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ السُّلَمِيِّ , هَكَذَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرِيقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
ابوالاسود سلمی (ابوالیسر) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الهدم وأعوذ بك من التردي وأعوذ بك من الغرق والحريق وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا وأعوذ بك أن أموت لديغا‏» ”اے اللہ! میں (دیوار کے نیچے) دب جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اونچائی سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، ڈوب جانے اور جل جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان موت کے وقت مجھے بہکا دے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری موت تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے آئے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے میری موت ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5535]
حضرت ابوالاسود سلمی رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ”اے اللہ! میں دب کر مرنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں نیچے گر کر مرنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔ میں ڈوب کر مرنے اور آگ میں جل مرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بدحواس کر دے۔ اور اس بات سے بھی کہ میں تیرے راستے میں (میدانِ جنگ سے) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہوا مر جاؤں۔ اور اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے ڈسنے سے مارا جاؤں۔““ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5533 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ بِرِضَاءِ اللَّهِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ تعالیٰ کے غصے اور ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5536
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي فِرَاشِي، فَلَمْ أُصِبْهُ , فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى رَأْسِ الْفِرَاشِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ:" أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر ڈھونڈا تو آپ کو نہیں پایا، چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ بستر کے سرہانے پر پھیرا تو وہ آپ کے قدموں کے تلوے سے جا لگا، دیکھا تو آپ سجدے میں تھے، اور فرما رہے تھے: «أعوذ بعفوك من عقابك وأعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بك منك» ”میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیرے غصے اور ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5536]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر تلاش کیا لیکن آپ مجھے نہ ملے۔ میں نے اپنا ہاتھ بستر کے سرہانے کی جانب مارا تو میرا ہاتھ آپ کے مبارک پاؤں کے تلووں پر لگا۔ آپ سجدے کی حالت میں تھے اور فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ» ”(اے اللہ!) میں تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں۔ تیری ناراضی سے بچنے کے لیے تیری رضا مندی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ اور تجھ سے (تیرے عذاب سے بچنے کے لیے) تیری پناہ لیتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17632) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
باب: قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5537
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ حَدَّثَهُ، وَحَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ، يُقَالُ لَهُ: الْحَرَازِيُّ شَامِيٌّ عَزِيز الْحَدِيث، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ , كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تہجد کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ وہ بولیں: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی ہے جو کسی نے نہیں پوچھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر» کہتے، دس بار «سبحان اللہ» کہتے، دس بار «استغفراللہ» کہتے، اور کہتے: «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے روزی عطا کر، مجھے محفوظ رکھ“، اور آپ قیامت کے روز کھڑے ہونے کی پریشانی (سوال کے لیے) سے اللہ کی پناہ مانگتے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5537]
حضرت عاصم بن حمید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کس دعا سے شروع فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: تو نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ کسی اور نے وہ چیز نہیں پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس دفعہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، دس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتے، دس دفعہ «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں“ کہتے، پھر فرماتے: ” «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي» اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا فرما، مجھے عافیت عطا فرما۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن مقام کی تنگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1618 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ دُعَاءٍ لاَ يُسْمَعُ
باب: نہ سنی جانے والی دعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5538
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَعِيدٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بَلْ سَمِعَهُ مِنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» ”اے اللہ! میں اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مفید اور نفع بخش نہ ہو، اس دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سعید نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی بلکہ اپنے بھائی سے سنی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5538]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس علم سے جو فائدہ نہ دے، اس دل سے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی نہ کرے، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔“”ابو عبد الرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: سعید (مقبری) نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی بلکہ اس نے اپنے بھائی (عباد بن ابوسعید) سے سنی ہے اور اس (عباد) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی صراحت ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 26 (250)، (تحفة الأشراف: 13046) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5539
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» ”اے اللہ! میں اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مفید اور نفع بخش نہ ہو، اس دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5539]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس علم سے جو نفع مند نہ ہو، اس دل سے جس میں خشوع و خضوع نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5469 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں