🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ
باب: شماتت اعداء یعنی دشمنوں کے ہنسنے سے پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5490
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ حُيَيٌّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کرتے تھے: «‏اللہم إني أعوذ بك من غلبة الدين وشماتة الأعداء» ”اللہ! میں قرض کے دباؤ اور شماتت اعداء یعنی دشمنوں کے ہنسنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5490]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ» ”اے اللہ! میں واجب الادا حق (قرض وغیرہ) کے غلبے اور دشمنوں کی ناروا خوشی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5477 (صحیح الٕاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْهَرَمِ
باب: بڑھاپے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5491
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ وَالْعَجْزِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والعجز ومن فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں سستی و کاہلی، بڑھاپے ۱؎، بزدلی، عاجزی اور موت و زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5491]
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْعَجْزِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں کاہلی، شدید بڑھاپے، بزدلی، نکمے پن اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔقشراف: 9768) (صحیح الٕاسناد)»
وضاحت: ۱؎: مراد ایسا بڑھاپا ہے جس میں آدمی بالکل بے بس و لاچار ہو جاتا ہے، اسی کو «ارذل العمر» کہا گیا ہے جس میں آدمی کی بھلے برے کی تمیز بھی ختم ہو جاتی ہے، عام بڑھاپا جو ساٹھ سال کی عمر میں میں ہوتا ہے تو اس سے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود دوچار ہوئے تھے (نیز بہت سارے صحابہ کرام بھی) جو یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5492
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ، وَالْمَأْثَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم وأعوذ بك من شر المسيح الدجال وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار» ”اے اللہ! میں سستی و کاہلی، بڑھاپے، قرض اور معصیت (گناہ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کے شر و فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5492]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! میں کاہلی، شدید بڑھاپے، جان نہ چھوڑنے والے قرض اور گناہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، نیز مسیح دجال کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ قبر کے عذاب سے بچاؤ کے لیے تیری پناہ کا طالب ہوں اور آگ کے عذاب سے بچنے کے لیے بھی تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8818)، مسند احمد (2/185، 186) (حسن، صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ
باب: بری تقدیر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5493
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ هَذِهِ الثَّلَاثَةِ: مِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَجَهْدِ الْبَلَاءِ"، قَالَ سُفْيَانُ: هُوَ ثَلَاثَةٌ فَذَكَرْتُ أَرْبَعَةً لِأَنِّي لَا أَحْفَظُ الْوَاحِدَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: ”شقاوت و بدبختی آ جانے سے، شماتت اعداء (یعنی دشمنوں کی مصیبت میں ہنسی)، بری تقدیر اور بری بلا سے“۔ سفیان کہتے ہیں: ان میں کوئی تین باتیں تھیں، چوں کہ مجھے نہیں یاد ہے کہ ان میں سے کون سی ایک بات نہیں تھی اس لیے چار کا ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5493]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے: ”بدبختی کے آ پکڑنے سے، دشمنوں کی ناروا خوشی سے، بری تقدیر سے اور شدید آزمائش اور مصیبت سے۔“ (راوی حدیث) سفیان (ابن عیینہ) نے کہا: حدیث میں تو تین چیزیں ذکر تھیں مگر میں نے چار اس لیے ذکر کر دیں کہ مجھے یاد نہ رہا، وہ تین کون سی ہیں؟ اور چوتھی کون سی جو ان میں شامل نہیں؟ (ویسے یہ چاروں آئندہ صحیح حدیث میں مذکور ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 28 (6347)، القدر 13 (6616)، صحیح مسلم/الذکر 16 (2707)، (تحفة الأشراف: 12557)، مسند احمد (2/246) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ
باب: شقاوت و بدبختی آنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5494
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَسْتَعِيذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَجَهْدِ الْبَلَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بری تقدیر، شماتت اعداء (دشمنوں کی مصیبت پر ہنسنے)، شقاوت بدبختی کے آنے اور بری بلا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5494]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”بری تقدیر، دشمنوں کی ناروا خوشی، بدبختی کی گرفت اور شدید مصیبت و آزمائش“ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْجُنُونِ
باب: جنون اور پاگل پن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5495
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الجنون والجذام والبرص وسييء الأسقام» ”اے اللہ! جنون (پاگل پن)، جذام، برص اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5495]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں بھی دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ» ”اے اللہ! میں پاگل پن، کوڑھ، پھلبہری اور دوسری بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الٔاشراف: 1424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1554) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ
باب: جنوں کی نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5496
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَعَوَّذُ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ، وَعَيْنِ الْإِنْسِ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد اور انسانوں کی نظر بد سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین اتری تو آپ نے ان کو پڑھنا شروع کیا اور باقی سب چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5496]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کی نظرِ بد سے بچاؤ کی دعا کیا کرتے تھے، جب معوذتین ( ﴿سورۃ الفلق﴾ اور ﴿سورۃ الناس﴾) نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھنا شروع کر دیا اور دوسری پناہ والی دعائیں چھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 16 (2058)، سنن ابن ماجہ/الطب 23 (3511)، (تحفة الأشراف: 4327) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2058) ابن ماجه (3511) سعيد الجريري اختلط ولم أجد بأنه حدث به قبل اختلاطه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ الْكِبَرِ
باب: بڑھاپے کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5497
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ , كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے، آپ کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وسوء الكبر وفتنة الدجال وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں سستی و کاہلی، بڑھاپے، بزدلی و کم ہمتی، بخیلی و کنجوسی، بڑھاپے کی برائی، دجال کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5497]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کاہلی، شدید بڑھاپے، بزدلی، کنجوسی، ذلیل عمر، دجال کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 661) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ
باب: بےبسی و لاچاری اور مجبوری کی عمر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5498
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا خَمْسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پانچ باتیں سکھاتے تھے جن کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من عذاب القبر» ”اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی و کم ہمتی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، لاچاری و مجبوری کی عمر کو پہنچنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5498]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں وہ پانچ کلمات سکھایا کرتے تھے جنھیں پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں، میں بزدلی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین عمر میں لے جایا جائے، نیز میں عذابِ قبر سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ سُوءِ الْعُمُرِ
باب: بری عمر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5499
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق يَعْنِي أَبَاهُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: بِجَمْعٍ أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو مقام جمع میں انہیں کہتے ہوئے سنا: سنو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے، فرماتے تھے: «‏اللہم إني أعوذ بك من البخل والجبن وأعوذ بك من سوء العمر وأعوذ بك من فتنة الصدر وأعوذ بك من عذاب القبر» ”اے اللہ! میں بخیلی و کنجوسی اور کم ہمتی و بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بری (لاچاری کی) عمر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، سینے (دل) کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5499]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کو گیا۔ میں نے ان کو مزدلفہ میں فرماتے سنا: خبردار! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں بری عمر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ سینے کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5445 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مقام جمع سے مراد مزدلفہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں