سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا
باب: دنیا کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5480
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُهُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَيَرْوِيهِنَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ انہیں دعا کے یہ کلمات سکھاتے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں بخل و کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں لاچاری و مجبوری کی عمر کو پہنچوں، دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5480]
حضرت مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ (والد محترم) حضرت سعد رضی اللہ عنہ اسے یہ کلمات سکھایا کرتے تھے اور انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین میں داخل کیا جائے۔ میں دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5481
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَا: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْغِلْمَانَ , وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا , وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے جیسے استاذ بچوں کو سکھاتا ہے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے آخر میں انہیں کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں بخل و کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی و کم ہمتی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، لاچاری و مجبوری کی عمر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5481]
حضرت مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جس طرح استاد بچوں کو سبق رٹاتا ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر (فرض) نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ مجھے ذلیل ترین عمر میں پہنچایا جائے اور دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5449 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5482
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يَتَعَوَّذُ مِنَ: الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی و کم ہمتی، کنجوسی و بخیلی، بری اور لاچاری و مجبوری کی عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5482]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”بزدلی، کنجوسی، بری عمر، سینے اور دل کے فتنے اور عذابِ قبر“ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5445 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5483
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ هُوَ أَبُو دَاوُدَ الْمُصَاحِفِيّ , قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الجبن والبخل وسوء العمر وفتنة الصدر وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں بزدلی، کنجوسی، بری عمر، دل کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5483]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں بزدلی، کنجوسی، بری عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5445 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5484
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَعَوَّذُ مِنَ الشُّحِّ وَالْجُبْنِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ مجھ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیلی، بزدلی، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5484]
حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے بہت سے اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”حرص، کنجوسی، بزدلی، سینے کے فتنے اور عذابِ قبر“ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5445 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5485
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ". مُرْسَلٌ.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ یہ روایت مرسل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5485]
حضرت عمر بن میمون رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5445 (صحیح) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ سند میں عمرو بن میمون نے اس کو صحابہ کرام سے نقل کیا ہے، اس لیے یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
28. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ الذَّكَرِ
باب: عضو تناسل کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5486
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَلِسَانِي، وَقَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي"، يَعْنِي ذَكَرَهُ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو، آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللہم عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي وشر منيي» ”اے اللہ مجھے میرے کان، میری نگاہ، میری زبان، میرے دل اور منی کی برائی سے بچائے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5486]
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیے جس سے میں فائدہ حاصل کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» ”اے اللہ! مجھے میرے کانوں، آنکھوں، زبان، دل اور منی، یعنی شرم گاہ کے شر سے محفوظ رکھنا۔“” [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5446 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عضو تناسل کی برائی یہ ہے کہ اس کا استعمال حرام جگہ میں ہو، اس کی برائی سے پناہ مانگنے کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکل رضی اللہ عنہ کو دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
29. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ الْكُفْرِ
باب: کفر و شرک کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5487
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: وَيَعْدِلَانِ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر» ”اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ مانگتا ہوں“، ایک شخص نے کہا: کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5487]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ ایک آدمی نے کہا: یہ دونوں برابر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5475 (ضعیف) (دراج، ابوالہیثم سے روایت میں ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
30. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الضَّلاَلِ
باب: ضلالت و گمراہی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5488
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے: «بسم اللہ رب أعوذ بك من أن أزل أو أضل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں، یا گمراہ ہو جاؤں، یا ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5488]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر نکلتے تو یوں دعا فرماتے: «بِسْمِ اللَّهِ، رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے۔ اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں لغزش کر جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں یا کسی پر ظلم کروں یا مظلوم بن جاؤں یا کسی سے نا مناسب سلوک کروں یا مجھ سے نا مناسب سلوک کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔردب 112 (5094)، سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 18 (3884)، (تحفة الأشراف: 18168)، ویأتي عند المؤلف: برقم: 5541 (صحیح) (تراجع الالبانی 136)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (5094) ترمذي (3427) ابن ماجه (3884) والحديث الآتي (5541) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364
31. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ غَلَبَةِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے قہر و غلبے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5489
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الأعداء» ”اے اللہ! میں قرض کے غلبے سے، دشمن کے قہر و غلبے سے، اور مصیبت میں دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5489]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ» ”اے اللہ! میں حقوق العباد کے غالب آنے، دشمن کے غالب آ جانے اور دشمنوں کی دل آزار خوشی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5477 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن