سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. (باب)
(ثقہ رواۃ اور ان کے مراتب و درجات)
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ: مَا لِسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ أَتَمُّ حَدِيثًا مِنْكَ؟ قَالَ: لأَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ.
منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے کہا: سالم بن ابی الجعد آپ سے زیادہ بہتر طور پر کیوں احادیث روایت کرتے ہیں؟ کہا: اس لیے کہ وہ احادیث لکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ الْعَلائِ بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ: إِنِّي لأُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ فَمَا أَدَعُ مِنْهُ حَرْفًا.
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں: میں حدیث بیان کرتا ہوں تو ایک حرف بھی نہیں چھوڑتا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَتَادَةُ: مَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ شَيْئًا قَطُّ إِلا وَعَاهُ قَلْبِي.
قتادہ کہتے ہیں: میرے کانوں نے جو کچھ سنا وہ دل میں بیٹھ گیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنْ الزُّهْرِيِّ.
عمرو بن دینار کہتے ہیں: زہری سے زیادہ میں نے کسی کو نص حدیث کی روایت کرتے نہیں دیکھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ: مَا عَلِمْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَعْدَ الزُّهْرِيِّ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
ایوب سختیانی کہتے ہیں: میرے علم میں زہری کے بعد اہل مدینہ میں یحییٰ بن ابی کثیر سے بڑا حدیث کا کوئی عالم نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يُحَدِّثُ فَإِذَا حَدَّثْتُهُ عَنْ أَيُّوبَ بِخِلافِهِ تَرَكَهُ فَأقُولُ: قَدْ سَمِعْتُهُ؛ فَيَقُولُ: إِنَّ أَيُّوبَ أَعْلَمُنَا بِحَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.
حماد بن زید کہتے ہیں: ابن عون حدیث بیان کرتے تھے، جب میں ان کو ایوب سے اس کے خلاف روایت کرتا تو وہ اپنی روایت چھوڑ دیتے، میں کہتا کہ آپ نے وہ حدیث سنی ہے تو عرض کرتے: ایوب سختیانی ابن سیرین کی احادیث کے ہم میں سب سے زیادہ واقف کار تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو بُكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَيُّهُمَا أَثْبَتُ: هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ أَمْ مِسْعَرٌ؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مِسْعَرٍ، كَانَ مِسْعَرٌ مِنْ أَثْبَتِ النَّاسِ.
علی بن المدینی کا قول ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے سوال کیا: ہشام دستوائی زیادہ ثقہ اور معتبر ہیں، یا مسعر؟ کہا: میں نے مسعر کی طرح کسی کو نہیں دیکھا، لوگوں میں مسعر سب سے زیادہ ثقہ اور معتبر تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُالْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ قَال: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: مَا خَالَفَنِي شُعْبَةُ فِي شَيْئٍ إِلا تَرَكْتُهُ.
حماد بن زید کہتے ہیں: جس حدیث میں بھی شعبہ نے میری مخالفت کی میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنِي أَبُوالْوَلِيدِ، قَالَ: قَالَ لِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: إِنْ أَرَدْتَ الْحَدِيثَ فَعَلَيْكَ بِشُعْبَةَ.
ابوالولید کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ نے کہا: اگر تمہیں حدیث چاہیئے تو شعبہ کا دامن پکڑ لو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: مَا رَوَيْتُ عَنْ رَجُلٍ حَدِيثًا وَاحِدًا إِلا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مَرَّةٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ عَشَرَةَ أَحَادِيثَ أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِرَارٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ خَمْسِينَ حَدِيثًا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ مِائَةً أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، إِلا حَيَّانَ الْكُوفِيَّ الْبَارِقِيَّ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ؛ فَوَجَدْتُهُ قَدْ مَاتَ.
شعبہ کہتے ہیں: میں نے جس راوی سے بھی ایک حدیث روایت کی، اس کے پاس ایک سے زیادہ بار آیا، اور جس سے دس حدیث روایت کی اس کے پاس دس بار سے زیادہ آیا، اور جس سے (۵۰) حدیث روایت کی اس کے پاس پچاس بار سے زیادہ آیا، اور جس سے سو حدیث روایت کی اس کے پاس سو بار سے زیادہ آیا، إلا یہ کہ حیان کوفی سے میں نے یہ احادیث سنیں، دوبارہ ان کے پاس گیا تو ان کی وفات ہو گئی تھی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]