سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. (باب)
(ثقہ رواۃ اور ان کے مراتب و درجات)
حدیث نمبر: Q3961
سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
احمد بن الحسن کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: میں نے یحییٰ بن سعید القطان کے ہم مثل کسی کو نہیں دیکھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَحْمَدُ بن الحسن: وَسُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ وَكِيعٍ وَعَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ فَقَالَ أَحْمَدُ: وَكِيعٌ أَكْبَرُ فِي الْقَلْبِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ إِمَامٌ.
احمد بن الحسن کہتے ہیں: احمد بن حنبل سے وکیع اور عبدالرحمٰن بن مہدی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے کہا: وکیع بن جراح دل کے (یعنی ورع، تقویٰ، زہد، عبادت اور ریاضت میں) بڑے ہیں، اور عبدالرحمٰن بن مہدی امام ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيَّ الْبَصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: لَوْ حُلِّفْتُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ لَحَلَفْتُ أَنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
علی بن المدینی کہتے ہیں: اگر رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان مجھ سے حلف لیا جائے تو میں قسم کھا سکتا ہوں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے بڑا عالم نہیں دیکھا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْكَلامُ فِي هَذَا وَالرِّوَايَةُ عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَكْثُرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا شَيْئًا مِنْهُ عَلَى الاخْتِصَارِ لِيُسْتَدَلَّ بِهِ عَلَى مَنَازِلِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَتَفَاضُلِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحِفْظِ وَالإِتْقَانِ، وَمَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لأَيِّ شَيْئٍ تُكُلِّمَ فِيهِ.
امام ترمذی کہتے ہیں: رواۃ حدیث کے بارے میں کلام، اور اہل علم سے اس موضوع پر روایات بہت ساری ہیں، ہم نے مختصراً کچھ باتیں ذکر کر دی ہیں، تاکہ اس سے اہل علم کے مراتب اور ان کے مابین حفظ و اتقان میں تفاوت اور فرق پر استدلال کیا جا سکے، اور یہ جانا جا سکے کہ اہل علم نے جن رواۃ پر کلام کیا ہے، اس کے اسباب کیا ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
12. (باب)
(حدیث سننے اور اسے روایت کرنے میں استعمال ہونے والے صیغے اور ان کے بارے میں محدثین کے مذاہب)
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْقِرَائَةُ عَلَى الْعَالِمِ إِذَا كَانَ يَحْفَظُ مَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ أَوْ يُمْسِكُ أَصْلَهُ فِيمَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ إِذَا لَمْ يَحْفَظْ هُوَ صَحِيحٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِثْلُ السَّمَاعِ.
امام ترمذی کہتے ہیں: عالم پر حدیث پڑھنا اگر وہ ان پڑھی جانے والی احادیث کا حافظ ہے، یا اگر وہ حافظ حدیث نہیں ہے تو اس پر پڑھی جانے والی کتاب کی اصل اس کے ہاتھ میں ہے تو یہ اہل حدیث کے نزدیک سماع کی طرح صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ أَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ:"حَدَّثَنَا".
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطاء بن ابی رباح پر پڑھا تو ان سے کہا کہ میں کیسے کہوں؟ کہا: کہو «حدثنا» ہم سے (شیخ نے) اس حدیث کو بیان کیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ نَفَرًا قَدِمُوا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ بِكِتَابٍ مِنْ كُتُبِهِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ فَيُقَدِّمُ وَيُؤَخِّرُ فَقَالَ: إِنِّي بَلِهْتُ لِهَذِهِ الْمُصِيبَةِ؛ فَاقْرَئُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ إِقْرَارِي بِهِ كَقِرَائَتِي عَلَيْكُمْ.
عکرمہ کہتے ہیں: ابن عباس کے پاس طائف کی ایک جماعت آئی جن کے ہاتھ میں ابن عباس کی کتابوں میں سے ایک کتاب تھی، تو ابن عباس نے ان پر پڑھنا شروع کر دیا کبھی آگے سے پڑھتے اور کبھی پیچھے سے پڑھنے لگتے اور کہا: میں اس مصیبت سے عاجز ہوں، تم مجھ پر پڑھو، میرا اقرار ویسے ہی ہے جیسے میں تم پر پڑھوں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ: إِذَا نَاوَلَ الرَّجُلُ كِتَابَهُ آخَرَ فَقَالَ: ارْوِ هَذَا عَنِّي؛ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَهُ.
منصور بن معتمر کہتے ہیں: آدمی جب کسی کو اپنی کتاب ہاتھ میں پکڑا دے اور کہے کہ یہ مجھ روایت کرو تو اس کے لیے جائز ہے کہ اس کی روایت کرے (اس کو محدثین کی اصطلاح میں «مناولہ» کہتے ہیں)۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَاصِمٍ النَّبِيلَ عَنْ حَدِيثٍ فَقَالَ: اقْرَأْ عَلَيَّ؛ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَقْرَأَ هُوَ فَقَالَ: أَأَنْتَ لا تُجِيزُ الْقِرَائَةَ، وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُجِيزَانِ الْقِرَائَةَ؟!.
میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: میں نے ابوعاصم النبیل سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: مجھ پر پڑھو، میں نے یہ پسند کیا کہ وہ پڑھیں تو انہوں نے کہا: کیا تم قراءۃ (شیخ پر پڑھنے) کو جائز نہیں کہتے، جب کہ سفیان ثوری اور مالک بن انس شیخ پر قراءۃ کو جائز کہتے تھے!۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ مَا قُلْتُ:"حَدَّثَنَا" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ مَعَ النَّاسِ وَمَا قُلْتُ:"حَدَّثَنِي" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ وَحْدِي وَمَا قُلْتُ:"أَخْبَرَنَا" فَهُوَ مَا قُرِئَ عَلَى الْعَالِمِ وَأَنَا شَاهِدٌ، وَمَا قُلْتُ:"أَخْبَرَنِي" فَهُوَ مَا قَرَأْتُ عَلَى الْعَالِمِ يَعْنِي وَأَنَا وَحْدِي.
عبداللہ بن وہب کہتے ہیں: میں نے حدیث کی روایت میں «حدثنا» کا صیغہ استعمال کیا تو اس سے مراد وہ احادیث ہیں جن کو ہم نے لوگوں کے ساتھ سنا، اور جب میں «حدثنا» کہتا ہوں تو وہ میری تنہا مسموعات میں سے ہیں، اور جب «أخبرنا» کہتا ہوں تو وہ عالم حدیث پر پڑھی جانے والی احادیث ہیں، جن میں میں حاضر تھا، اور جب میں «اخبرنی» کہتا ہوں تو وہ میری عالم حدیث پر تنہا پڑھی ہوئی روایات ہوتی ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]