🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. (باب)
(مرسل حدیث کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الأَعْوَرُ، وَكَانَ كَذَّابًا. وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ، وَأَكْثَرُ الْفَرَائِضِ الَّتِي يَرْوِيهَا عَنْ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ هِيَ عَنْهُ. وَقَدْ قَالَ الشَّعْبِيُّ: الْحَارِثُ الأَعْوَرُ عَلَّمَنِي الْفَرَائِضَ، وَكَانَ مِنْ أَفْرَضِ النَّاسِ.
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبی سے منقول ہے کہ حارث اعور نے ہم سے حدیث روایت کی اور وہ کذاب تھا، اور اس سے شعبی نے بھی روایت کی ہے، فرائض کے باب میں علی وغیرہ سے ان کی اکثر روایات کا مصدر حارث اعور ہی ہے۔ اور شعبی کا قول ہے کہ حارث اعور نے مجھے علم فرائض سکھائے، حارث علم فرائض میں سب سے ماہر آدمی تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ: و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: أَلا تَعْجَبُونَ مِنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ! لَقَدْ تَرَكْتُ لِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ بِقَوْلِهِ؛ لَمَّا حَكَى عَنْهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ، ثُمَّ هُوَ يُحَدِّثُ عَنْهُ.
‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: کیا تم سفیان بن عیینہ پر تعجب نہیں کرو گے، جابر جعفی نے جب ہزار سے زیادہ احادیث ان سے بیان کیں تو میں نے اس کو ان کے کہنے کی وجہ سے ترک کر دیا، پھر وہ اس سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَتَرَكَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ.
‏‏‏‏ محمد بن بشار کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن مہدی نے جابر جعفی کو چھوڑ دیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

14. (باب)
(مرسل کی حجیت کے قائلین)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
وَقَدْ احْتَجَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْمُرْسَلِ أَيْضًا.
‏‏‏‏ بعض اہل علم نے مرسل کو حجت مانا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ قَالَ: قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ: أَسْنِدْ لِي عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: إِذَا حَدَّثْتُكَ"عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِاللَّهِ"؛ فَهُوَ الَّذِي سَمَّيْتُ، وَإِذَا قُلْتُ،"قَالَ عَبْدُاللَّهِ": فَهُوَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِاللَّهِ.
‏‏‏‏ سلیمان بن مہران اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے کہا کہ آپ عبداللہ بن مسعود کی سند بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: جب میں تم سے کہوں: «حدثنا رجل عن عبداللہ بن مسعود» (ہم سے ایک آدمی نے بیان کہ اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی) تو یہ ایسی سند ہے جس میں میں نے راوی کا نام لیا ہے، اور جب میں کہوں: «قال عبداللہ» تو وہ کئی رواۃ ہیں جنہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ اخْتَلَفَ الأَئِمَّةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَضْعِيفِ الرِّجَالِ كَمَا اخْتَلَفُوا فِي سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْعِلْمِ.
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: اہل علم کے نزدیک رواۃ کی تضعیف میں اختلاف ہے جیسے دوسرے علوم و فنون میں علماء کا اختلاف ہے، [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
ذُكِرَ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّهُ ضَعَّفَ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، وَعَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَحَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ شُعْبَةُ عَمَّنْ هُوَ دُونَ هَؤُلائِ فِي الْحِفْظِ وَالْعَدَالَةِ، حَدَّثَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ يُضَعَّفُونَ فِي الْحَدِيثِ.
‏‏‏‏ شعبہ سے آیا ہے کہ انہوں نے ابوالزبیر مکی، عبدالملک بن ابی سلیمان، اور حکیم بن جبیر کی تضعیف کی، اور ان سے روایت ترک کر دی، پھر شعبہ نے حفظ و عدالت میں ان سے کم درجے کے رواۃ سے روایت کی، یعنی جابر جعفی، ابراہیم بن مسلم ہجری، محمد بن عبیداللہ العرزمی اور کئی راوی جو حدیث میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں سے روایت کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: تَدَعُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَتُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ؟ قَالَ: نَعَمْ.
‏‏‏‏ امیہ بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ سے کہا: آپ عبدالملک بن ابی سلیمان کو چھوڑ کر محمد بن عبیداللہ عرزمی سے روایت کرتے ہیں؟ کہا: ہاں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ كَانَ شُعْبَةُ حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، وَيُقَالُ: إِنَّمَا تَرَكَهُ لَمَّا تَفَرَّدَ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رَوَى عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الرَّجُلُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا".
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے پہلے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی پھر انہیں چھوڑ دیا، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے چھوڑنے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے بسند «عطاء بن ابی رباح عن جابر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم » یہ حدیث روایت کی: «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» ۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3962
وَقَدْ ثَبَّتَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ، وَحَدَّثُوا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُليْمَانَ، وَحَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ.
‏‏‏‏ اور کئی ائمہ ابوالزبیر مکی، عبدالملک بن ابی سلیمان اور حکیم بن جبیر کی توثیق کی، اور ان سے روایت کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3962]