Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
تین دن سے زیادہ ناراضی جائز نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
4- وبه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لا تباغضوا ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال.“
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور آپس میں حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کی طرف (ناراضی سے) پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ بائیکاٹ کرے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «4- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييي 907/2 ح 748 ك 47 ب 4 ح 14) التمهيد 115/6، الاستذكار: 1680، أخرجه البخاري (6076) ومسلم (2559) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
79- وبه: عن عطاء بن يزيد الليثي عن أبى أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال، يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذى يبدأ بالسلام.“
سیدنا ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین راتوں سے زیادہ اپنے بھائی سے بائیکاٹ کرے (ایسا نہ ہو کہ) جب ان کی ملاقات ہو تو ایک بھائی دوسرے سے منہ پھیر لے اور دوسرا اس سے منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو دوسرے کو پہلے سلام کرے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «79- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 906/2، 907 ح 1747، ك 47 ب 4 ح 13) التمهيد 145/10، الاستذكار: 1679، و أخرجه البخاري (6077) ومسلم (2560) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
غصے پر قابو پانے کی اہمیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
17- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ليس الشديد بالصرعة، إنما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب.“
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور اور بہادر وہ نہیں جو کشتی لڑنے سے غالب آئے بلکہ طاقتور اور بہادر وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «17- متفق عليه،الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 906/2، ح 1762، ك 47 ب 3 ح 12) التمهيد 321/6، الاستذكار: 1678، و أخرجه البخاري (6114) ومسلم (2609) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کسی چیز کو تقسیم کرتے وقت دائیں طرف سے آغاز کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
3- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي بلبن قد شيب بماء وعن يمينه أعرابي وعن يساره أبو بكر الصديق، فشرب ثم أعطى الأعرابي وقال: ”الأيمن فالأيمن.“
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں (کنویں کا) پانی ملایا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک اعرابی (دیہاتی) اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دودھ) پیا پھر (باقی دودھ) اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: دایاں (مقدم ہے) پھر (جو اس کے بعد) دایاں ہو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: «3- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 926/2 ح 787، ك 49 ح 17) التمهيد 151/6، الاستذكار: 1720، أخرجه البخاري (5619) ومسلم (2029) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
413- وبه: أن النبى صلى الله عليه وسلم أتي بشراب فشرب منه وعن يمينه غلام وعن يساره الأشياخ، فقال للغلام: ”أتأذن لي أن أعطي هؤلاء“ فقال: لا والله يا رسول الله، لا أوثر بنصيبي منك أحدا، قال: فتله رسول الله صلى الله عليه وسلم فى يده.
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مشروب (یعنی دودھ) لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر کے لوگ تھے تو آپ نے لڑکے سے کہا: اگر تم مجھے اجازت دو تو ان (بڑی عمر کے) لوگوں کو یہ (بچا ہوا حصہ) دے دوں؟ اس لڑکے نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں آپ کے جوٹھے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: «413- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 926/2، 927 ح 1788، ك 49 ب 9 ح 18) التمهيد 120/21،121، الاستذكار: 867، و أخرجه البخاري (5260) ومسلم (2030) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسکین کون؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
369- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ليس المسكين بهذا الطواف الذى يطوف على الناس، ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان“، قالوا: فمن المسكين يا رسول الله؟ قال: ”الذي لا يجد غنى يغنيه، ولا يفطن له فيتصدق عليه، ولا يقوم فيسأل الناس.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں گھومنے والا مسکین نہیں ہے جو ایک دو نوالے اور ایک دو کھجوریں لے کر واپس چلا آتا ہے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر مسکین کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے مال نہ ہو اور لوگوں کو اس (کی غربت) کا پتا نہ چلے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور یہ شخص اٹھ کر لوگوں سے مانگتا بھی نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «369- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 923/2 ح 1778، ك 49 ب 5 ح 7) التمهيد 48/18، الاستذكار: 1710، و أخرجه البخاري (1479) و مسلم (1039/101) من حديث ابي الزناد به .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
راستے سے ایذاء والی چیز ہٹانے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
433- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”بينما رجل يمشي بطريق إذ وجد غصن شوك على الطريق فأخره، فشكر الله له فغفر له. وقال: الشهداء خمسة: المطعون والمبطون والغرق وصاحب الهدم والشهيد فى سبيل الله. وقال: لو يعلم الناس ما فى النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا، عليه لاستهموا ولو يعلمون ما فى التهجير لاستبقوا إليه ولو يعلمون ما فى العتمة والصبح لآتوهما ولو حبوا.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے راستے پر کانٹوں والی ٹہنی دیکھی تو اسے راستے سے ہٹا دیا۔ اللہ نے اس کی قدر دانی کی اور اسے بخش دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے لوگ شہید ہیں: طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، مکان گرنے سے مرنے والا اور اللہ کے راستے میں شہید ہونے والا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہوتا کہ اذان اور پہلی صف میں کیا (ثواب) ہے، پھر وہ قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ نہ پاتے تو قرعہ اندازی کرتے۔ اور اگر وہ جانتے کہ ظہر کی نماز کے لئے جلدی آنے میں کتنا (ثواب) ہے تو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور صبح کی نماز میں کیا (ثواب) ہے تو ضرور آتے اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «433- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 131/1 ح 291، ك 8 ب 2 ح 6) التمهيد 11/22، الاستذكار: 260، 261، و أخرجه البخاري (652-654) ومسلم (1914، 437) من حديث مالك به ببعض الاختلاف.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اولاد سے مساوی سلوک کرنا چاہئیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
33- مالك: حدثني ابن شهاب عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف وعن محمد بن النعمان بن بشير يحدثانه عن النعمان بن بشير أنه قال: إن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”أكل ولدك نحلته مثل هذا؟“ فقال: لا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ”فارجعه.“
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ابا انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام اپنی مرضی سے تحفہ دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح غلام تحفے میں دئیے ہیں؟ تو انہوں (نعمان بن بشیر کے والد رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس (غلام) کو واپس لے لو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «33- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 751/2، 752 ح 1511، ك 36 ب 33 ح 39) التمهيد 223/7، الاستذكار: 1439، و أخرجه البخاري (2586) ومسلم (1623/9) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سونے سے پہلے کرنے والے ضروری امور
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
107- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”أغلقوا الباب، وأوكوا السقاء، وأكفئوا الإناء، وأطفئوا المصباح. فإن الشيطان لا يفتح غلقا، ولا يحل وكاء، ولا يكشف إناء، وإن الفويسقة تضرم على الناس بيتهم.“
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ بند کرو اور مشکیزے کا منہ  باندھ لو، برتن کو الٹا رکھو یا اس کو ڈھانپ لو اور چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان یقیناً بند دروازے نہیں کھولتا اور نہ تسمہ کھولتا ہے، وہ ڈھانپے ہوئے برتن سے پردہ نہیں ہٹاتا اور چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «107- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 928/2، 929 ح 1791، ك 49 ب 10 ح 21) التمهيد 173/12، الاستذكار: 1724، و أخرجه مسلم (2012) من حديث مالك به ورواه ليث بن سعد عن ابي الزيبر به عند مسلم (2012/96)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سائل کو دینے کو ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
181- مالك عن زيد بن أسلم عن محمد بن بجيد الأنصاري عن جدته أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ردوا السائل ولو بظلف محرق.“
محمد بن بجید الانصاری (تابعی) کی دادی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سائل کو (کچھ دے کر) واپس بھیجو اگرچہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «181- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 923/2 ح 1779، ك 49 ب 5 ح 8 وعنده: ابن بجيد) التمهيد 298/4، الاستذكار:1711، و أخرجه النسائي (81/5، 82 ح 2566) من حديث مالك، وابوداؤد (1667) والترمذي (665 وقال: حسن صحيح) من حديث ابن بجيد وصححه ابن خزيمة (111/4 ح 2473) وابن حبان (الاحسان: 3374/3363) والحاكم (417/1) والذهبي وأخطأ من ضعفه.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں