🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ الْمُزَارَعَةِ بِالشَّطْرِ وَنَحْوِهِ:
باب: آدھی یا کم و زیادہ پیداوار پر بٹائی کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2328
وَقَالَ قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلاَّ يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ. وَزَارَعَ عَلِيٌّ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَالْقَاسِمُ وَعُرْوَةُ وَآلُ أَبِي بَكْرٍ وَآلُ عُمَرَ وَآلُ عَلِيٍّ وَابْنُ سِيرِينَ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ. وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلَى إِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ مِنْ عِنْدِهِ فَلَهُ الشَّطْرُ، وَإِنْ جَاءُوا بِالْبَذْرِ فَلَهُمْ كَذَا. وَقَالَ الْحَسَنُ لاَ بَأْسَ أَنْ تَكُونَ الأَرْضُ لأَحَدِهِمَا فَيُنْفِقَانِ جَمِيعًا فَمَا خَرَجَ فَهْوَ بَيْنَهُمَا، وَرَأَى ذَلِكَ الزُّهْرِيُّ. وَقَالَ الْحَسَنُ لاَ بَأْسَ أَنْ يُجْتَنَى الْقُطْنُ عَلَى النِّصْفِ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ وَابْنُ سِيرِينَ وَعَطَاءٌ وَالْحَكَمُ وَالزُّهْرِيُّ وَقَتَادَةُ لاَ بَأْسَ أَنْ يُعْطِيَ الثَّوْبَ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ وَنَحْوِهِ. وَقَالَ مَعْمَرٌ لاَ بَأْسَ أَنْ تَكُونَ الْمَاشِيَةُ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى.
(یہ بلا تردد جائز ہے) اور قیس بن مسلم نے بیان کیا اور ان سے ابوجعفر نے بیان کیا کہ مدینہ میں مہاجرین کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جو تہائی یا چوتھائی حصہ پر کاشتکاری نہ کرتا ہو۔ علی رضی اللہ عنہ اور سعد بن مالک اور عبداللہ بن مسعود، اور عمر بن عبدالعزیز اور قاسم اور عروہ اور ابوبکر کی اولاد اور عمر کی اولاد اور علی رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ابن سیرین سب بٹائی پر کاشت کیا کرتے تھے۔ اور عبدالرحمٰن بن اسود نے کہا کہ میں عبدالرحمٰن بن یزید کے ساتھ کھیتی میں ساجھی رہا کرتا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کاشت کا معاملہ اس شرط پر طے کیا تھا کہ اگر بیج وہ خود (عمر رضی اللہ عنہ) مہیا کریں تو پیداوار کا آدھا حصہ لیں اور اگر تخم ان لوگوں کا ہو جو کام کریں گے تو پیداوار کے اتنے حصے کے وہ مالک ہوں۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ زمین کسی ایک شخص کی ہو اور اس پر خرچ دونوں (مالک اور کاشتکار) مل کر کریں۔ پھر جو پیداوار ہو اسے دونوں بانٹ لیں۔ زہری رحمہ اللہ نے بھی یہی فتوی دیا تھا۔ اور حسن نے کہا کہ کپاس اگر آدھی (لینے کی شرط) پر چنی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم، ابن سیرین، عطاء، حکم، زہری اور قتادہ رحمہم اللہ نے کہا کہ (کپڑا بننے والوں کو) دھاگا اگر تہائی، چوتھائی یا اسی طرح کی شرکت پر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ معمر نے کہا کہ اگر جانور ایک معین مدت کے لیے اس کی تہائی یا چوتھائی کمائی پر دیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: Q2328]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2328
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةَ وَسْقٍ، ثَمَانُونَ وَسْقَ تَمْرٍ، وَعِشْرُونَ وَسْقَ شَعِيرٍ"، فَقَسَمَ عُمَرُ خَيْبَرَ، فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ يُمْضِيَ لَهُنَّ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْأَرْضَ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوَسْقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ اخْتَارَتِ الْأَرْضَ.
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبر کے یہودیوں سے) وہاں (کی زمین میں) پھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصے پر معاملہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی بیویوں کو سو وسق دیتے تھے۔ جس میں اسی وسق کھجور ہوتی اور بیس وسق جو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) جب خیبر کی زمین تقسیم کی تو ازواج مطہرات کو آپ نے اس کا اختیار دیا کہ (اگر وہ چاہیں تو) انہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے۔ یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے۔ چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا۔ اور بعض نے (پیداوار سے) وسق لینا پسند کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2328]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہود سے) خیبر کا معاملہ نصف پیداوار پر طے کیا تھا جو اس زمین سے پیدا ہو، خواہ وہ کھجور ہو یا غلہ۔ آپ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو سو وسق دیتے تھے، جن میں اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو ہوتے تھے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر کی زمین تقسیم کی تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین اور پانی متعین کر دیا جائے یا جو راشن انہیں ملتا رہا ہے وہی ملتا رہے، چنانچہ ان میں سے بعض نے زمین کا انتخاب کیا اور کچھ نے پیداوار کا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے زمین لینے کو پسند فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ إِذَا لَمْ يَشْتَرِطِ السِّنِينَ فِي الْمُزَارَعَةِ:
باب: اگر بٹائی میں سالوں کے تعداد مقرر نہ کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2329
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" عَامَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے پھل اور اناج کی آدھی پیداوار پر وہاں کے رہنے والوں سے معاملہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2329]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا معاملہ اس شرط پر طے کیا تھا کہ ”اس سے جو پھل اور اناج ہوگا یہودی اس کا نصف ادا کریں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو:" قُلْتُ لِطَاوُسٍ: لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَيْ عَمْرُو، إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُغْنِيهِمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ. أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ، وَلَكِنْ قَالَ:" أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے طاؤس سے عرض کیا، کاش! آپ بٹائی کا معاملہ چھوڑ دیتے، کیونکہ ان لوگوں (رافع بن خدیج اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم وغیرہ) کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس پر طاؤس نے کہا کہ میں تو لوگوں کو زمین دیتا ہوں اور ان کا فائدہ کرتا ہوں۔ اور صحابہ میں جو بڑے عالم تھے انہوں نے مجھے خبر دی ہے۔ آپ کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا۔ بلکہ آپ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو (اپنی زمین) مفت دیدے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا محصول لے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2330]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت طاوس رحمہ اللہ سے کہا: بہتر ہے کہ تم بٹائی پر زمین دینا چھوڑ دو کیونکہ لوگوں کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی کا معاملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت طاوس رحمہ اللہ نے جواب دیا: اے عمرو! میں لوگوں کو زمین دے کر انہیں فائدہ پہنچاتا ہوں۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مزارعت) سے نہیں روکا تھا بلکہ یہ فرمایا تھا: ”تم میں سے کوئی شخص زمین اپنے بھائی کو یوں ہی مفت دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کا متعین محصول وصول کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ الْمُزَارَعَةِ مَعَ الْيَهُودِ:
باب: یہود کے ساتھ بٹائی کا معاملہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا خَرَجَ مِنْهَا".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر سونپی تھی کہ اس میں محنت کریں اور جوتیں بوئیں اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2331]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو خیبر کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشتکاری کریں، اس سے جو پیداوار ہوگی ان کو اس کا نصف ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي الْمُزَارَعَةِ:
باب: بٹائی میں کون سی شرطیں لگانا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيَّ، عَنْ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا، وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ، فَيَقُولُ: هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہوں نے حنظلہ زرقی سے سنا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے پاس مدینہ کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زمین زیادہ تھی۔ ہمارے یہاں طریقہ یہ تھا کہ جب زمین بصورت جنس کرایہ پر دیتے تو یہ شرط لگا دیتے کہ اس حصہ کی پیداوار تو میری رہے گی اور اس حصہ کی تمہاری رہے گی۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ ایک حصہ کی پیداوار خوب ہوتی اور دوسرے کی نہ ہوتی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح معاملہ کرنے سے منع فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2332]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مدینہ طیبہ میں سب سے بڑے زمیندار تھے۔ ہم میں سے ایک شخص اپنی زمین اس شرط پر بٹائی کے لیے دیتا تھا کہ زمین کا یہ قطعہ میرے لیے اور اس ٹکڑے اور قطعے کی پیداوار تیرے لیے ہوگی۔ بسا اوقات یہ قطعہ پیداوار دیتا اور دوسرے میں نہ ہوتی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ إِذَا زَرَعَ بِمَالِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَكَانَ فِي ذَلِكَ صَلاَحٌ لَهُمْ:
باب: جب کسی کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر ہی کاشت کی اور اس میں ان کا ہی فائدہ رہا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2333
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ، أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ، فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا عَنْكُمْ، قَالَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ، فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَإِنِّي اسْتَأْخَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَوَجَدْتُهُمَا نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فَرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللَّهُ، فَرَأَوْا السَّمَاءَ. وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، فَطَلَبْتُ مِنْهَا فَأَبَتْ عَلَيَّ حَتَّى أَتَيْتُهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَبَغَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُهَا، فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَرْجَةً، فَفَرَجَ. وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ، قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، فَجَاءَنِي، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرُعَاتِهَا فَخُذْ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ فَخُذْ، فَأَخَذَهُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ، فَفَرَجَ اللَّهُ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ: عَنْ نَافِعٍ، فَسَعَيْتُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین آدمی کہیں چلے جا رہے تھے کہ بارش نے ان کو آ لیا۔ تینوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لے لی، اچانک اوپر سے ایک چٹان غار کے سامنے آ گری، اور انہیں (غار کے اندر) بالکل بند کر دیا۔ اب ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ تم لوگ اب اپنے ایسے کاموں کو یاد کرو۔ جنہیں تم نے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہو اور اسی کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ممکن ہے اس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو ٹال دے، چنانچہ ایک شخص نے دعا شروع کی۔ اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے (جانور) چرایا کرتا تھا۔ پھر جب واپس ہوتا تو دودھ دوہتا۔ سب سے پہلے، اپنی اولاد سے بھی پہلے، میں والدین ہی کو دودھ پلاتا تھا۔ ایک دن دیر ہو گئی اور رات گئے گھر واپس آیا، اس وقت میرے ماں باپ سو چکے تھے۔ میں نے معمول کے مطابق دودھ دوہا اور (اس کا پیالہ لے کر) میں ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں۔ لیکن اپنے بچوں کو بھی (والدین سے پہلے) پلانا مجھے پسند نہیں تھا۔ بچے صبح تک میرے قدموں پر پڑے تڑپتے رہے۔ پس اگر تیرے نزدیک بھی میرا یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو (غار سے اس چٹان کو ہٹا کر) ہمارے لیے اتنا راستہ بنا دے کہ آسمان نظر آ سکے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے راستہ بنا دیا اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے نے کہا اے اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی۔ مرد عورتوں سے جس طرح کی انتہائی محبت کر سکتے ہیں، مجھے اس سے اتنی ہی محبت تھی۔ میں نے اسے اپنے پاس بلانا چاہا لیکن وہ سو دینار دینے کی صورت راضی ہوئی۔ میں نے کوشش کی اور وہ رقم جمع کی۔ پھر جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ گیا، تو اس نے مجھ سے کہا، اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور اس کی مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ۔ میں یہ سنتے ہی دور ہو گیا، اگر میرا یہ عمل تیرے علم میں بھی تیری رضا ہی کے لیے تھا تو (اس غار سے) پتھر کو ہٹا دے۔ پس غار کا منہ کچھ اور کھلا۔ اب تیسرا بولا کہ اے اللہ! میں نے ایک مزدور تین فرق چاول کی مزدوری پر مقرر کیا تھا جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو مجھ سے کہا کہ اب میری مزدوری مجھے دیدے۔ میں نے پیش کر دی لیکن اس وقت وہ انکار کر بیٹھا۔ پھر میں برابر اس کی اجرت سے کاشت کرتا رہا اور اس کے نتیجہ میں بڑھنے سے بیل اور چرواہے میرے پاس جمع ہو گئے۔ اب وہ شخص آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر! میں نے کہا کہ بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جا اور اسے لے لے۔ اس نے کہا اللہ سے ڈر! اور مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا کہ مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ (یہ سب تیرا ہی ہے) اب تم اسے لے جاؤ۔ پس اس نے ان سب پر قبضہ کر لیا۔ الہٰی! اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری خوشنودی ہی کے لیے کیا تھا تو تو اس غار کو کھول دے۔ اب وہ غار پورا کھل چکا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن عقبہ نے نافع سے (اپنی روایت میں «فبغيت‏» کے بجائے) «فسعيت‏» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2333]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تین آدمی سفر میں جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا۔ انہوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ غار کے منہ پر پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر آ گرا جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم اپنے اپنے اعمال پر نظر کرو کہ کس نے کیا کیا نیک عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے، پھر اس کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو شاید اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو تم سے دور کر دے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین اور چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ جب میں لوٹتا تو دودھ دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دودھ پلاتا تھا۔ ایک دن مجھے دیر ہو گئی اور رات گئے تک گھر نہ آیا۔ جب آیا تو دیکھا کہ میرے والدین سو گئے ہیں۔ میں نے دودھ دوہا جیسا کہ میں دوہتا تھا اور اسی لیے ان کے سرہانے کھڑا رہا لیکن انہیں بیدار کرنا مجھے اچھا نہ لگا اور یہ بھی مجھے مناسب معلوم نہ ہوا کہ (والدین سے پہلے) بچوں کو دودھ پلا دوں، حالانکہ وہ میرے پاؤں کے پاس بلبلا رہے تھے۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں فجر ہو گئی۔ (اے میرے رب!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ پتھر دور کر دے کہ ہمیں آسمان نظر آئے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کچھ پتھر ہٹا دیا جس سے انہوں نے آسمان دیکھا۔ دوسرے نے عرض کیا: اے اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی، میں اس سے بہت محبت کرتا تھا جیسا کہ مرد عورتوں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو اس نے انکار کر دیا الا یہ کہ میں سو دینار اسے دوں۔ چنانچہ میں نے کوشش اور محنت کی یہاں تک کہ سو دینار جمع کر لیے۔ جب میں برے کام کے لیے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حق کے بغیر اس مہر کو نہ توڑ، تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ پتھر ہٹا دے۔ وہ پتھر تھوڑا سا مزید اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور چاولوں کے ایک «فَرْق» ”فرق“ (پیمانہ) کے عوض مزدوری پر رکھا تھا۔ جب اس نے اپنا کام کر لیا تو کہا: مجھے میری اجرت دو۔ میں نے اسے اجرت پیش کی تو اس نے بے رغبتی سے کام لیا اور چلا گیا۔ میں ان چاولوں کو کاشت کرتا رہا، یہاں تک کہ میں نے اس سے گائیں خریدیں اور چرواہے بھی رکھ لیے۔ آخر کار وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر۔ میں نے کہا: جاؤ وہ گائیں اور چرواہے سب تمہارے ہیں، انہیں لے جاؤ۔ اس نے دوبارہ کہا: اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، ان کو لے جاؤ تو وہ لے گیا۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری خوشنودی کے لیے کیا ہے تو باقی ماندہ پتھر بھی ہٹا دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر ہٹا دیا۔“ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے حضرت نافع سے «فَبَغَيْتُ» کی جگہ «فَسَعَيْتُ» کے الفاظ روایت کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2333]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ أَوْقَافِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْضِ الْخَرَاجِ وَمُزَارَعَتِهِمْ وَمُعَامَلَتِهِمْ:
باب: صحابہ کرام کے اوقاف، خراجی زمین اور اس کی بٹائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2334
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ فَتَصَدَّقَ بِهِ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا (جب وہ اپنا ایک کھجور کا باغ للہ وقف کر رہے تھے) اصل زمین کو وقف کر دے، اس کو کوئی بیچ نہ سکے، البتہ اس کا پھل خرچ کیا جاتا رہے چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: Q2334]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2334
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ".
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں امام مالک نے، انہیں زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جتنے شہر بھی فتح کرتا، انہیں فتح کرنے والوں میں تقسیم کرتا جاتا، بالکل اسی طرح جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین تقسیم فرما دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2334]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جو بھی بستی فتح کرتا اسے وہاں کے مجاہدین میں تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر (فتح کرنے کے بعد اسے) کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا:
باب: اس شخص کا بیان جس نے بنجر زمین کو آباد کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2335
وَرَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ فِي أَرْضِ الْخَرَابِ بِالْكُوفَةِ مَوَاتٌ، وَقَالَ عُمَرُ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ، وَيُرْوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي غَيْرِ حَقِّ مُسْلِمٍ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ فِيهِ حَقٌّ، وَيُرْوَى فِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اور علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ویران علاقوں کو آباد کرنے کے لیے یہی حکم دیا تھا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو کوئی بنجر زمین کو آباد کرے، وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عوف رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔ البتہ ابن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی روایت میں) یہ زیادتی کی ہے کہ بشرطیکہ وہ (غیرآباد زمین) کسی مسلمان کی نہ ہو، اور ظالم رگ والے کا زمین میں کوئی حق نہیں ہے۔ اور اس سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی ہی روایت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: Q2335]