🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب أوقاف أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم وأرض الخراج ومزارعتهم ومعاملتهم:
باب: صحابہ کرام کے اوقاف، خراجی زمین اور اس کی بٹائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2334
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ فَتَصَدَّقَ بِهِ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا (جب وہ اپنا ایک کھجور کا باغ للہ وقف کر رہے تھے) اصل زمین کو وقف کر دے، اس کو کوئی بیچ نہ سکے، البتہ اس کا پھل خرچ کیا جاتا رہے چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: Q2334]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2334
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ".
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں امام مالک نے، انہیں زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جتنے شہر بھی فتح کرتا، انہیں فتح کرنے والوں میں تقسیم کرتا جاتا، بالکل اسی طرح جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین تقسیم فرما دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4235
لولا أن أترك آخر الناس ببانا ليس لهم شيء ما فتحت علي قرية إلا قسمتها كما قسم النبي خيبر ولكني أتركها خزانة لهم يقتسمونها
صحيح البخاري
2334
لولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها بين أهلها كما قسم النبي خيبر
صحيح البخاري
4236
لولا آخر المسلمين ما فتحت عليهم قرية إلا قسمتها كما قسم النبي خيبر
صحيح البخاري
3125
لولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها بين أهلها كما قسم النبي خيبر
سنن أبي داود
3020
لولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها كما قسم رسول الله خيبر
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2334 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2334
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ آئندہ ایسے بہت سے مسلمان لوگ پیدا ہوں گے جو محتاج ہوں گے۔
اگر میں تمام مفتوحہ ممالک کو غازیوں میں تقسیم کرتا چلا جاؤں تو آئندہ محتاج مسلمان محروم رہ جائیں گے۔
یہ حضرت عمر ؓ نے اس وقت فرمایا جب سواد کا ملک فتح ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2334]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2334
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں جب ایران اور عراق کے علاقے فتح ہوئے تو انہوں نے وہاں کی زمینیں مجاہدین میں تقسیم نہ کیں بلکہ وہاں کے اہل ذمہ کے پاس بطور مزارعت رہنے دیں، البتہ ان کی پیداوار سے مسلمان مستفید ہوتے تھے۔
ان زمینوں کی حکومت کی ملکیت رکھا کیونکہ اگر مفتوحہ علاقوں کی زمین بانٹ دی جاتی تو بعد میں آنے والے لوگ کہاں جاتے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح تک تمام مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کیں تو حضرت عمر ؓ نے شام کی زمین کو بحق سرکار کیوں روکا؟ امام بخاری ؒ نے ترجمہ الباب میں حضرت عمر ؓ کی حدیث لا کر اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ خلیفہ کو حق ہے کہ مصلحت کے پیش نظر اس میں ردوبدل کرے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر ؓ کے صدقے کو مسلمانوں کی مصلحت کے لیے بحق سرکار وقف کیا اسی طرح حضرت عمر ؓ نے شام کی زمینیں مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر مزارعت پر دے دیں۔
(3)
جب وقف زمینیں مزارعت پر دی جا سکتی ہیں تو مملوکہ زمینیں بھی دی جا سکتیں ہیں کیونکہ ان دونوں کا ایک ہی معاملہ ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2334]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3020
خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا (یعنی ان کی محتاجی کا) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3020]
فوائد ومسائل:
خیبر کا تقریبا ً نصف حصہ جو بطور غنیمت حاصل ہوا تھا۔
خمس نکالنے کے بعد تقسیم کردیا گیا۔
یہ بہت بڑا حصہ تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اشارہ اسی طرف ہے۔
علاوہ ازیں مملکت اسلامیہ میں حسب احوال ایک ایسا فنڈ اور وقف محفوظ رہنا چاہیے۔
جو مسلمانوں کی اتفاقی ضروریات میں کام آسکے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3020]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3125
3125. حضرت اسلم ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا مجھے خیال نہ ہوتا تو میں جو علاقہ فتح کرتا اس مجاہدین میں تقسیم کردیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3125]
حدیث حاشیہ:
اکثر ائمہ کا فتویٰ ہے کہ مفتوحہ ملک کے لئے امام کو اختیار ہے خواہ تقسیم کردے خواہ خراجی ملک کے طور پررہنے دے۔
لیکن یہ خراج اسلامی قاعدے کے موافق مسلمانوں ہی پر خرچ کیا جائے‘ یعنی محتاجوں‘ یتیموں کی خبر گیری‘ جہاد کے سامان‘ اور اسباب کی تیاری میں غرض ملک کا محاصل بادشاہ کی ملک نہیں ہے۔
بلکہ عام مسلمانوں اور غازیوں کا مال ہے۔
بادشاہ بھی بطور ایک سپاہی کے اس میں سے اپنا خرچ لے سکتا ہے۔
یہ شرعی نظام ہے مگر صد افسوس کہ آج یہ بیشتر اسلامی ممالک سے مفقود ہے۔
فلیبك علی الإسلام إن کان باکیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3125]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4235
4235. حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے آنے والی نسلوں کے مفلس ہونے کا ڈر نہ ہوتا کہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا تو میں جو علاقہ فتح کرتا اسے مجاہدین میں تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اراضی خیبر کو تقسیم کر دیا تھا۔ لیکن میں ان اراضی کو آنے والے مسلمانوں کے لیے خزانے کے طور پر چھوڑ رہا ہوں تاکہ وہ آئندہ خود تقسیم کرتے رہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4235]
حدیث حاشیہ:
حضرت عمر ؓ نے جو فرمایا تھا وہی ہوا بعد کے زمانوں میں مسلمان بہت بڑھے اور اطراف عالم میں پھیلے۔
چنانچہ مفتوحہ اراضی کو انہوں نے قواعد شرعیہ کے تحت اسی طرح تقسیم کیا اور حضرت عمر ؓ کا فرمان صحیح ثابت ہوا۔
حدیث میں ببان۔
۔
۔
۔
کا لفظ آیا ہے دو بائے موحدہ سے دوسری باءمشدد ہے۔
ابو عبید ؓ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں یہ لفظ عربی کا نہیں ہے۔
زہری کہتے ہیں یہ یمن کی زبان کا ایک لفظ ہے جو عربوں میں مشہور نہیں ہوا۔
ببان کے معنی یکساں ایک طریق اور ایک روش پر اور بعضوں نے کہا نادار محتاج کے معنی میں ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4235]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4236
4236. حضرت عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر مجھے آنے والے مسلمانوں کی فکر نہ ہوتی تو میں مفتوحہ اراضی مجاہدین میں تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی اراضی کو تقسیم کر دیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4236]
حدیث حاشیہ:
حضرت عمر ؓ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو ان لوگوں کا خیال نہ ہوتا جو آئندہ مسلمان ہوں گے اور وہ محض مفلس ہوں گے تو میں جس قدر ملک فتح ہوتا جاتا وہ سب کا سب مسلمانوں کو جاگیروں کے طور پر بانٹ دیتا اور خالص کچھ نہ رکھتا جس کا روپیہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے مگر مجھ کو ان لوگوں کا خیال ہے جو آئندہ مسلمان ہوں گے وہ اگر نا دار ہوئے تو ان کی گزر اوقات کے لیے کچھ نہ رہے گا۔
اس لیے خزانہ میں ملک کی تحصیل جمع رکھتا ہوں کہ آئندہ ایسے مسلمانوں کے کام آئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4236]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3125
3125. حضرت اسلم ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا مجھے خیال نہ ہوتا تو میں جو علاقہ فتح کرتا اس مجاہدین میں تقسیم کردیتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3125]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان دراصل حضرت عمر ؓ کا ایک قول ہے جسے مصنف عبدالرزاق میں صحیح سند سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نےحضرت عمار ؓ کو لکھا کہ غنیمت کا حقدار وہ مجاہد ہے جو میدان جنگ میں شریک ہو۔
(المصنف لعبدالرزاق: 302/5)

یہ حدیث بھی عنوان کے مطابق ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح ہوئی زمین مجاہدین میں تقسیم کردی تھی، البتہ حضرت عمر ؓ نے ایک خارجی مصلحت کی بنا پر مفتوحہ زمینوں اور علاقوں کوتقسیم کرنے کی بجائے انھیں وقف کردیا اور ان سے حاصل ہونے والی پیداوار کو مسلمانوں کی ضروریات میں صرف کرتے تھے۔
(فتح الباري: 270/6)
شارح بخاری ابن منیر لکھتے ہیں:
امام بخاری ؒ کے نزدیک فتح کی گئی زمینیں تقسیم کردینا ہی مناسب ہے کیونکہ بعد میں آنے والے مسلمان میدان جنگ میں شریک نہیں تھے کہ ان کےلیے اراضی وقف کردی جائے۔
ہمارا رجحان یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی قول:
غنیمت اس کا حق ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا، اور عمل:
انھوں نے مفتوحہ علاقے مجاہدین میں تقسیم نہیں کیے، میں تطبیق اس طرح دینا چاہتے ہیں کہ زمین وقف کردی جائے اور باقی مال غنیمت لڑائی میں شریک مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے۔
(فتح الباري: 271/6)
دراصل حضرت عمر ؓ کے عملی موقف کی بنیاد سورہ حشر کی وہ آیات ہیں جن میں اموال فے کے حقداروں کا بیان ہے۔
ان میں سے پہلے محتاج مہاجرین کاذکر کیا، پھر ایثار کرنے والے انصار کا، تیسرے نمبر پر بعدمیں آنے والے اہل اسلام کا۔
(الحشر: 10،8)
اگروہ مفتوحہ بستی کی زمینیں فاتحین میں تقسیم کردی جاتیں تو بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے کچھ باقی نہ رہتا جبکہ قرآن کریم نے انھیں بھی حقدار ٹھہرایا ہے، اس لیے حضرت عمر ؓنے مفتوحہ اراضی تقسیم کرنے کی بجائے انھیں وقف کردی۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3125]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4236
4236. حضرت عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر مجھے آنے والے مسلمانوں کی فکر نہ ہوتی تو میں مفتوحہ اراضی مجاہدین میں تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی اراضی کو تقسیم کر دیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4236]
حدیث حاشیہ:
منقولہ اشیاء تومجاہدین میں تقسیم کی جاتی رہی ہیں لیکن غیر منقولہ اراضی کے متعلق امام کو اختیار ہے کہ وہ انھیں تقسیم کر سے یا مصالح عامہ کے لیے انھیں رکھ لے۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مفتوحہ اراضی کو تقسیم نہیں کیا۔
اعتراض ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کو غانمین کے حق دبانے کا اختیار تھا؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے ہبہ وغیرہ دے کر غانمین کوراضی کیا، پھر ان مفتوحہ اراضی کو مسلمانوں کے لیے وقف فرمایا، کہیں ایسا نہ ہوکہ لوگوں پر بخل کا غلبہ ہوجائے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑیں۔
علامہ عینی ؓ نے اس امر پر امت کا اجماع لکھا ہے کہ اگر امام کسی وقت ان کی تقسیم مناسب خیال کرے اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق اسے بانٹنا چاہے تو وہ اپنے مفتوحہ علاقے کو تقسیم کرسکتا ہے۔
(فتح الباري: 612/7۔
)
بہرحال حضرت عمر ؓ نے سرزمین عراق کو تقسیم نہیں کیا بلکہ اسے مصالح عامہ کے لیے وقف کردیاتھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4236]

Sahih Bukhari Hadith 2334 in Urdu