Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کانوں کے نصف تک تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نِصْفِ أُذُنَيْهِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کے نصف تک تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«‏‏‏‏صحيح مسلم (2338، ترقيم دارالسلام:6069)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لِمہَّ بال مبارک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے اکٹھے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک جمہ سے کچھ اوپر اور وفرہ سے کم تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: { «سنده حسن» }:
«‏‏‏‏(سنن ترمذي:1755، وقال: صحيح غريب ...)، سنن ابي داؤد (4187)، سنن ابن ماجه (3635)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمِنْكَبَيْنِ، وَكَانَتْ جُمَّتُهُ تَضْرِبُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ»
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجود خلقت کے اعتبار سے میانے قد والے تھے، آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان کچھ دوری تہی، اور آپ کے مبارک جمہ بال کانوں کی لو پر پڑتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«‏‏‏‏(ديكهئيے حديث سابق:3)، صحيح بخاري (3551، 5848)، صحيح مسلم (2337)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بال مبارک نہ بہت زیادہ گھنگھریالے نہ بالکل سیدھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَيْفَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ، كَانَ يَبْلُغُ شَعْرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ»
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ تو بہت زیادہ گھنگھریالے تھے، اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک آپ کے کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«‏‏‏‏صحيح بخاري (5905)، صحيح مسلم (2338)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بالوں کی چار لٹیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَدْمَةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مکہ معظمہ میں تشریف لائے تو آپ کے مبارک بالوں کے چار گیسو تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«‏‏‏‏(سنن ترمذي:1781، وقال:”هذا حديث غريب، قال محمد (الامام البخاري): لا اعرف لمجاهد سماعا من ام هاني“)، ابوداود (4191)، ابن ماجه (3631)»
تنبیہ: غدائر مینڈھیوں کو کہتے ہیں۔ اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ عبداللہ بن أبی نجیح المکی مدلس تھے۔ دیکھئیے مشاھیر علماء الامصار لابن حبان (‏‏‏‏ص146 ت1153)
حافظ ابن حجر نے انہیں مدلسین کے طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا اور کہا:
«اكثر عن مجاهد و كان يدلس عنه» انہوں نے مجاہد سے بہت سی روایتیں بیان کیں اور وہ مجاہد سے تدلیس کرتے تھے۔ (‏‏‏‏طبقات المدلسین بحتحقیقی ص 53)
سفیان بن عیینہ نے بتایا کہ ابن ابی نجیح نے مجاہد کی تفسیر کو ان سے نہیں سنا۔ (‏‏‏‏تاریخ ابن معین، روایۃ الدوری: 426)
یہ روایت «عن» سے ہے اور مدلس کی «عن» والی روایت (‏‏‏‏صحیحین کے علاوہ دوسری کتابوں میں) ضعیف ہوتی ہے۔
➋ بقول امام بخاری ”مجاہد کا ام ہانی سے سماع معلوم نہیں ہے۔“ لہٰذا یہ سند منقطع بھی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کے نصف حصوں تک تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ شَعْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کے نصف حصوں تک تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«سنده صحيح، ابوداؤد (‏‏‏‏4185)، نيز ديكهئيے حديث سابق: 24»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداءً مانگ نہیں نکالتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْدِلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرِقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يُسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں کو لٹکایا کرتے تھے، اور مشرکین اپنے بالوں میں مانگ نکالتے تھے، جبکہ اہل کتاب اپنے سر کے بالوں کو لٹکاتے، اس لیے کہ جس کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم نہ دیا جاتا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سر میں مانگ نکالنا شروع کر دی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«‏‏‏‏صحيح بخاري (‏‏‏‏3944، 3558)، صحيح مسلم (‏‏‏‏2336)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا ضَفَائِرَ أَرْبَعٍ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کے بال چار گیسوؤں میں بٹے ہوئے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«‏‏‏‏نيز ديكهئيے حديث سابق: 31»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں