شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نجاشی کے تحائف میں موزے بھی تھے
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ، فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا"
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیاہ رنگ کے دو موزے بطور ہدیہ بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، پھر وضو فرمایا تو ان پر مسح کیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خف رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«(سنن ترمذي:2820، وقال:هذا حديث حسن)، (سنن ابي داود: 155)، (سنن ابن ماجه: 549)»
اس روایت کا راوی دلہم بن صالح ضعیف ہے۔ [ديكهئے تقريب التهذيب: 1830]
السنن الکبری للبیہقی [283/1] میں دلہم کی روایت کا ایک شاہد بھی ہے، جس کی سند حفص بن غیاث کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
«(سنن ترمذي:2820، وقال:هذا حديث حسن)، (سنن ابي داود: 155)، (سنن ابن ماجه: 549)»
اس روایت کا راوی دلہم بن صالح ضعیف ہے۔ [ديكهئے تقريب التهذيب: 1830]
السنن الکبری للبیہقی [283/1] میں دلہم کی روایت کا ایک شاہد بھی ہے، جس کی سند حفص بن غیاث کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
حضرت دحیہ کلبی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ بھیجنا
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: «أَهْدَى دِحْيَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ، فَلَبِسَهُمَا» . وَقَالَ إِسْرَائِيلُ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ «وَجُبَّةً فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا» لَا يَدْرِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِكًى هُمَا أَمْ لَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:" وَأَبُو إِسْحَاقَ هَذَا هُوَ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، وَاسْمُهُ سُلَيْمَانُ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو موزے بطور تحفہ دیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پہن لیے۔ اسرائیل نے یہ حدیث جابر سے، انہوں نے عامر سے روایت کی کہ اس نے موزوں کے ساتھ ایک جبہ بھی بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا، حتیٰ کہ وہ پھٹ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ مذبوح جانور کی کھال کے تھے یا غیر مذبوح کے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابواسحاق سے مراد ابواسحاق شیبانی ہے اور ان کا نام سلیمان ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خف رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي:1769، وقال:حسن غريب)»
فائدہ: جابر الجعفی عن عامر والی روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ جابر بذاتِ خود سخت ضعیف و مجروح راوی تھا۔
«(سنن ترمذي:1769، وقال:حسن غريب)»
فائدہ: جابر الجعفی عن عامر والی روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ جابر بذاتِ خود سخت ضعیف و مجروح راوی تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح