شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زم زم پیا
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، وَمُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زمزم کھڑے ہو کر پیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي 1882، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (1637) صحيح مسلم (2027)»
«(سنن ترمذي 1882، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (1637) صحيح مسلم (2027)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
پانی بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر پینا
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا»
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: { «سنده حسن» }:
«(سنن ترمذي 1883، وقال: حسن صحيح)، مسند احمد (215/2)
جزء الالف دينار لاحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي (144)»
«(سنن ترمذي 1883، وقال: حسن صحيح)، مسند احمد (215/2)
جزء الالف دينار لاحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي (144)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آب زم زم کیسے پیا
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارِكِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آب زمزم پلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے ہی اسے پی لیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
نيز ديكهئے حديث سابق: 205
نيز ديكهئے حديث سابق: 205
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
وضو کا بقیہ پانی کھڑے ہو کر پینا
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: «أَتَى عَلِيٌّ، بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ، ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ»
نزال بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک کوزہ (پیالہ) لایا گیا جب کہ آپ رحبہ کے مقام پر تھے، آپ نے اس سے ایک چلو لیا اور دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور چہرہ، کلائیوں اور سر کا مسح کیا، پھر کھڑے ہونے کی حالت میں اس پانی سے پیا اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«صحيح بخاري (5615-5616)»
«صحيح بخاري (5615-5616)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
تین سانس میں پانی پینے کے فوائد
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عصَامَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا إِذَا شَرِبَ، وَيَقُولُ: «هُوَ أَمْرَأُ وَأَرْوَى»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پانی پیتے تو برتن میں تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ طریقہ زیادہ خوشگوار اور خوب سیراب کرنے والا ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 1884، وقال: حسن . . .)، صحيح مسلم (2028) وانظر صحيح بخاري (5631)»
«(سنن ترمذي: 1884، وقال: حسن . . .)، صحيح مسلم (2028) وانظر صحيح بخاري (5631)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
دو سانس میں پانی پینا جائز ہے
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ رِشْدِينِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی (کچھ) پیتے، تو دو دفعہ سانس لیتے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
(سنن ترمذی: 1886، وقال: حسن غریب۔۔۔)، سنن ابن ماجہ (3417)
اس روایت کا راوی رشدین بن کریب ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 1943]
جمہور محدثین نے اس پر جرح کی ہے، لہٰذا امام ترمذی رحمہ اللہ کا اس کی اس منفرد روایت کو حسن غریب قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
(سنن ترمذی: 1886، وقال: حسن غریب۔۔۔)، سنن ابن ماجہ (3417)
اس روایت کا راوی رشدین بن کریب ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 1943]
جمہور محدثین نے اس پر جرح کی ہے، لہٰذا امام ترمذی رحمہ اللہ کا اس کی اس منفرد روایت کو حسن غریب قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
لٹکے ہوئے مشکیزے سے پانی پینا
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ كَبْشَةِ، قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا، فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ»
سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، وہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر مشکیزے کے منہ سے پانی پیا، تو میں نے اٹھ کر اس مشکیزے کے سرے کو کاٹ لیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: { «سنده حسن» }:
«(سنن ترمذي 1892، وقال: حسن صحيح غريب)، سنن ابن ماجه (3423)، مسندالحميدي (355)»
«(سنن ترمذي 1892، وقال: حسن صحيح غريب)، سنن ابن ماجه (3423)، مسندالحميدي (355)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی اتباع سنت
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا، وَزَعَمَ أَنَسٌ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا»
ثمامہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (پانی پیتے ہوئے) برتن میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی پانی پیتے ہوئے) برتن میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي 1884، وقال: حسن)، صحيح بخاري (5631)، صحيح مسلم (2028)»
«(سنن ترمذي 1884، وقال: حسن)، صحيح بخاري (5631)، صحيح مسلم (2028)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا انداز محبت
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ زَيْدٍ ابْنِ ابْنَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فَمِ الْقِرْبَةِ وَهُوَ قَائِمٌ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَأْسِ الْقِرْبَةِ فَقَطَعَتْهَا»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، (وہاں) ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اٹھ کر مشکیزے کا سر کاٹ (کر اپنے پاس رکھ) لیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226)»
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ براء بن زید ابن بنت انس مجہول الحال راوی ہے، اسے سوائے ابن حبان کے کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا۔
➋ ابن جریج مدلس ہیں اور یہ روایت عن سے ہے۔
سفیان ثوری اور شریک القاضی نے بھی یہی روایت عبدالکریم بن مالک الجزری سے بیان کی، لیکن دونوں کی روایات میں سماع کی تصریح نہیں ہے۔
تنبیہ: حدیث سابق (211) صحیح ہے اور اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
«اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226)»
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ براء بن زید ابن بنت انس مجہول الحال راوی ہے، اسے سوائے ابن حبان کے کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا۔
➋ ابن جریج مدلس ہیں اور یہ روایت عن سے ہے۔
سفیان ثوری اور شریک القاضی نے بھی یہی روایت عبدالکریم بن مالک الجزری سے بیان کی، لیکن دونوں کی روایات میں سماع کی تصریح نہیں ہے۔
تنبیہ: حدیث سابق (211) صحیح ہے اور اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی بناء پر کھڑے ہو کر پیا
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَبِيدَةُ بِنْتُ نَائِلٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ أَبِيهَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا» قَالَ: أَبُو عِيسَى: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عُبَيْدَةُ بِنْتُ نَابِلٍ
عائشہ بنت سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے۔ امام ابوعیسیٰ (ترمذی) فرماتے ہیں: بعض راویوں نے عبیدہ بنت نائل کے بجائے عبیدہ بنت نابل کہا ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226)»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ اسحاق بن محمد افروی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
➋ عبیدہ بنت نائل مجہولتہ الحال راویہ ہے، ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی اور مجہول الحال یا مجہولتہ الحال کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
تنبیہ: حدیث سابق (206) اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
«اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226)»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ اسحاق بن محمد افروی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
➋ عبیدہ بنت نائل مجہولتہ الحال راویہ ہے، ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی اور مجہول الحال یا مجہولتہ الحال کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
تنبیہ: حدیث سابق (206) اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف