سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
موت کے وقت خوف و رجا کا مفہوم اور فضیلت
ترقیم الباني: 1051 ترقیم فقہی: -- 287
-" لا يجتمعان (يعني الخوف والرجاء) في قلب عبد في مثل هذا الموطن (يعني الاحتضار) إلا أعطاه الله الذي يرجو وأمنه من الذي يخاف".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ” اپنے (اخروی اجر و ثواب اور عذاب و عقاب کے) بارے میں کیا خیال کرتے ہو؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں پرامید ہوں، لیکن اپنے گناہوں سے ڈر بھی رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کے دل میں اس قسم کے (جان کنی کے) وقت میں یہ دو چیزیں (یعنی خوف و امید) جمع ہو جاتی ہیں، تو جس چیز کی اسے امید ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ وہ عطا کر دیتا ہے اور جس چیز کا ڈر ہوتا ہے، وہ اس سے امن دلا دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 287]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1051
تکبر کا مفہوم اور مذمت
ترقیم الباني: 1626 ترقیم فقہی: -- 288
-" إن الله جميل يحب الجمال، إن الكبر من سفه الحق وغمص الناس".
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑائی اور تکبر (والے لوگ) جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اپنے کوڑے پر کور چڑھا کر اور اپنے جوتے کے تسمے کو (اچھا بنا کر) خوبصورتی حاصل کرتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تکبر نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق شناس نہ ہو اور دوسرے لوگوں کو حقیر سمجہے .“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 288]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1626
قبل از قیامت بارہ قریشی خلفا کی خلافت
ترقیم الباني: 964 ترقیم فقہی: -- 289
-" لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة أو يكون عليكم اثنا عشر خليفة كلهم من قريش".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین قیامت کے برپا ہونے تک یا اس وقت تک قائم دائم رہے گا جب تک بارہ خلفاء خلافت کی مسندوں پر فائز نہیں ہو جاتے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 289]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 964
ہر دور میں ایک جماعت دین حق پر قائم رہے گی
ترقیم الباني: 963 ترقیم فقہی: -- 290
-" لا يزال هذا الدين قائما يقاتل عليه عصابة من المسلمين حتى تقوم الساعة".
سیدنا جابر بن سمرہ رضى اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین قائم دائم رہے گا، مسلمان کی ایک جماعت اس سے متصف ہو کر جہاد کرتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 290]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 963
مومن عبرت پکڑتا ہے
ترقیم الباني: 1175 ترقیم فقہی: -- 291
-" لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو ایک بل سے دو دفعہ نہیں ڈسا جا سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 291]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1175
بعض مومنوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس راحت پانا اور ان کی صفات
ترقیم الباني: 1095 ترقیم فقہی: -- 292
-" يا أبا أمامة! إن من المؤمنين من يلين لي قلبه".
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں: سیدنا ابوامامہ باہلی رضى اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا: ”اے ابوامامہ! بعض مومن ایسے بھی ہیں کہ ان کے دل میرے لیے نرم ہو جاتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 292]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1095
ابلیس کی تخلیق کا مقصد
ترقیم الباني: 1642 ترقیم فقہی: -- 293
-" لو أراد الله أن لا يعصى ما خلق إبليس".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضى اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوبکر! اگر اللہ تعالىٰ اپنی نافرمانی نہ ہونے کا ارادہ کرتا تو وہ ابلیس کو پیدا نہ کرتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 293]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1642
برتری کا معیار رنگ و نسل، اور تقوی ہے
ترقیم الباني: 2700 ترقیم فقہی: -- 294
-" يا أيها الناس! إن ربكم واحد وإن أباكم واحد، ألا لا فضل لعربي على عجمي ولا عجمي على عربي ولا أحمر على أسود ولا أسود على أحمر إلا بالتقوى * (إن أكرمكم عند الله أتقاكم) *، ألا هل بلغت؟ قالوا: بلى يا رسول الله! قال: فيبلغ الشاهد الغائب".
سیدنا جابر رضى اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایام تشریق کے درمیانے دن کو خطبۃ الوداع ارشاد فرمایا اور فرمایا: ”لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: ”اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے“، خبردار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر فرمایا: ”حاضر لوگ یہ باتیں غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 294]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2700
«وانذر عشيرتك الاقربين» کی عملی تفسیر
ترقیم الباني: 3177 ترقیم فقہی: -- 295
- (يا بَني كعبِ بن لُؤيٍّ! أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني مُرَّة بن كعبٍ! أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد شمس! أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد منافٍ! أنقذوا أنفسكم من النار، يا بني عبد المطَّلب! أنقذُوا أنفسكم من النار، يا فاطمةُ [بنت محمد!] أنقذي نفسكِ من النار، فإنِّي لا أملكُ لكُم من الله شيئاً؛ غير أنّ لكُم رحِماً سأبُلُّها بِبِلالِها) .
سیدنا ابوہریرہ رضى اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”(اے محمد!) اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔“ تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا، وہ جمع ہو گئے، پھر آپ نے عام ندا بھی دی اور خاص بھی اور فرمایا: ”اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو۔ اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو۔ اے بنو عبد شمس! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو۔ اے بنو عبد مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو۔ اے بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو اور اے فاطمہ بنت محمد! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں اللہ تعالىٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی اختیار کا ملک نہیں ہوں۔ ہاں تم سے جو رشتہ و قرابت ہے، میں اسے قائم رکھوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 295]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3177
زیادہ سے زیادہ کتنے روزے رکھے جا سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرزندان امت کے حق میں ان سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں
ترقیم الباني: 2855 ترقیم فقہی: -- 296
-" إنك إذا فعلت ذلك هجمت عيناك ونفهت نفسك. يعني صوم الدهر وقيام الليل".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضى اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تو سارا زمانہ روزے رکھتا ہے اور پوری رات قیام کرتا ہے، اگر تو نے ان اعمال کو جاری رکھا تو تیری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تو لاغر و کمزور ہو جائے گا۔ (یاد رکھ کہ) اس آدمی نے کوئی روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزے رکھے۔ اس طرح کرو کہ ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو، یہ پورے مہینے کے روزے ہیں۔“ میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو داود علیہ السلام والے روزے رکھ لو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب (دشمن سے آمنا سامنا ہو جاتا) تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 296]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2855